ہفتہ, اگست 15, 2015

نظریے کا سفر !

نظریے کا سفر!                        
مجھے یاد آگیا وہ 13 اگست 1981 ء کی رات تھی ہم فرخ خالہ کے بیٹے کے ولیمے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ابا ستلی کا بنڈل لے کر آئےہیں اورکچن میںلئی پکارہے کہ   جھنڈیاں چپکا ئ جا سکیں!یہ نظارہ ہمارےلیے بڑا حیران کن تھا کیونکہ ہمارے بچپن میں جشن آزادی کی موجودہ شکل نہیں ہوا کرتی تھی۔ چھٹی ضرور ہوتی تھی توگھومنے جاتے، مزار قائد کی سیر اور فاتحہ کےبعد گھرلوٹ جاتے، رات کوسرکاری عمارتوں پر ہونے والا چراغاں بھی دیکھنے چلے جاتے مگر اس دفعہ کچھ انوکھا منظر تھا!
 ایک بڑا سا جھنڈا بھی ابا لائے تھے جو انہیں صبح اپنے ڈیپارٹمنٹ میں لہرانا تھا۔اس جھنڈے کودیکھ کرہم سب بہت خوش تھے کیونکہ اس زمانے میں اتنے افراط نہیں بلکہ ملاہی نہیں کرتے تھے- بھائ طارق دادی سے جھنڈا سلوانے کی ضد کرتا توبےچاری بہت محنت سےاپنے ہاتھ سے سینے کی کوشش کرتیں مگر پھر بھی وہ اتناعمدہ نہ بن پاتا جیسے یہ جھنڈا تھا! سبز، خوبصورت ہلالی پرچم !اس دفعہ کیا خاص بات تھی؟؟جی ہاں ! ضیاء الحق کا دور حکومت تھا اور انہوں نے جشن آزادی شایان شان طریقے سے منانے کا حکمنامہ جاری کیاتھا۔یہ اسی سلسلےکی کڑی تھی-
اگلےدن صبح آٹھ بجے سائرن کی آوازپر تمام ٹریفک رک گئ اور پوری قوم نے ہم آوازہوکر قومی ترانہ پڑھا۔ایوان صدر میں خصو صی تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جو ٹیلی وژن سے براہ راست دکھایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کی روداد اظہرلودھی کی پر جوش اور جذباتی آواز میں جذبوں کومہیزکر گئ- بزرگ اور جوان ایک نئے ولولے سے یوم آزادی منا رہےتھے---اورعزیز قارئین! جشن آزادی کو ایک نئی امنگ کے ساتھ منانے کی روایت  ضیاء الحق کا ایسا کارنامہ جے ان کا کوئ دشمن بھی انکار نہیں کر سکتا۔ موجودہ جشن آزادی ایک رسمی سی تقریب بن کر رہ گئی ہے یا ہمیں عمر کے لحاظ سے ایسا لگتاہے ورنہ بچوں اور جوانوں کےلیے آج بھی جذبوں کے اظہار کا دن ہے یہ اور بات ہے کہ موجودہ دورکی مادیت پرستی اور دکھاوااس میں از خود شامل ہوگیا ہے!
بہر حال ہر سال 14  اگست کی صبح امی عید کی مانند اچھا سا ناشتہ بناتیں اورٹی وی پر پریڈ نہ صرف خود دلجسپی سے دیکھتیں بلکہ ہم سب کو بھی دکھواتیں۔ساتھ روتی بھی  جاتیں۔ ۔اپنے چھوٹے ذہن کی وجہ سےہم اس وقت سمجھنے سے قاصر تھے کہ عورتیں خوشی ہویا غم روتی کیوں ہیں؟ کچھ بڑے ہوئے تو اندازہ ہوا امی اپنی اس پہلوٹی کی بچی کی موت یاد کرتی ہیں جس کا انتقال 14اگست کو ہوا تھا۔بات ادھوری درست تھی اصل وجہ یہ تھی کہ آزادی کے حصول کے لیے انہوں نے ایک بچی کی حیثیت سے جو کچھ دیکھا اور سہا تھا اس کی یاد ان کویوم آزادی پر رلا دیتی تھی!!                        
( تفصیل ہجرتوں کے سفر میں گزر چکی ہے) http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=8285
۔۔۔۔امی ہجرت کے واقعات اس طرح سناتیں کہ ہم اس کے حصار میں آجاتے۔قائداعظم کا
ذکر وہ ہمارے قائد اعظم کہہ کر کرتیں کہ ہم انہیں اپنا کوئ رشتہ دارہی سمجھتے بلکہ کئ دفعہ دوستوں سے لڑائ بھی ہوئ کہ وہ ہمارے ہیں تمہارے نہیں!
ان احساسات نے ہمیں پاکستان سے ایسا قلبی لگاءؤ پیدا کیا جواس پر انگلی اٹھانے والوں سے ضرورہی جھژپ پر منتج ہوتا- ۔ہمارے بہت سے قریبی رشتہ دار جو پاکستان آکر پچھتا رہے تھے ان کی آمد ہمارے گھر میں مباحثہ کی سی کیفییت پیدا کر دیتی خصوصاً جب موضوع یہ ہوتا کہ پاکستان نےہمیں دیا کیا ہے۔؟سب کے درمیان جدائ ڈال دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!      گفتگو میں محتاط اور کم گو ابا جان کبھی اس گرماگرمی میں اور اکثر ایسی محفل کے اختتام پر بر ملا کہا کرتے کہ ہمیںتو جو بھی عزت ملی ہے پاکستان سے ملی ہےورنہ اپنی تمام تر قابلیت اورمحنت کے باوجود ہندو بنیے کے دیس میں کوڑی بھرنہ تھی- جہاں تک رشتوں سے بچھڑنے کا معاملہ تھا تو اس بات پر پاکستان مخالف رشتہ دارجذباتی پوائنٹ اسکور کرلیتے تھے حالانکہ اس پربھی کھلا آپشن تھا جو ہجرت کے لیے تیار نہ ہوئےتو ایےخاندان واقعی کشمکش کا شکار رہے اور یہ ہی احساسات اگلی نسل میں منتقل ہوئے جبکہ الحمدللہ ہمیں ماں اور باپ دونوں کی طرف سے پاکستان کی محبت ورثے میں ملی- نانا مسلم لیگ کے سرگرم کارکن تھے اوریہ جذبہ امی کے ذریعے ہمارے اندر منتقل ہواجبکہ اباجان نےایک پندرہ سال کے نوعمربچےکی حیثیت سے ازخود ہجرت کی تھی چنانچہ پاکستان کی قدر دانی ہمارے شعورمیں بھی داخل تھی!   اگر بچپن یں کبھی پاکستانی آم کو کوئ براکہتا بمقابلہ ہندوستانی تو ایسے برا لگتا جیسے ہمیں گالی دےدی گئ ہو! ایک دفعہ چھوٹے بھائ کے اسکول میں عملی امتحان لینے ممتحنہ تشریف لائیں تو ساڑھی میں ملبوس تھیں تو اس نےگھر آ کر تیوریوں پر بل ڈال کرکہا کہ ہندو تھیں محترمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                           
 مختصر یہ کہ ہندوستان سے نفرت ہمارے خون کا حصہ رہی کہ آج بھی خریداری کے دوران اگر دکان دارکسی شئےکے بارےمیں کہہ دےکہ انڈین ہے تو خواہ کتنی ہی دل پسند کیوں نہ ہواور ضرورت بھی ہو ہم اس کی طرف سے منہ موڑ لیتے ہیں لیکن اس موقع پر اعتراف کر لینا چاہیے بیرون ملک بھارتیوں سے اختلاط، ہندی فلموں،اشیائ کی یلغار اورسب سےبڑھ کراشتہا انگیزفلموں سے گریز تمام بھائیوں میں یکساں نظر نہیں آتا مگر اسکا مطلب جذبہ حب الوطنی میں کمی نہیں! اس کا ثبوت یہ ہے کہ کئ بار مواقع ملنے کے باوجود میرے کسی بھائ بہن نے امیگریشن کے لیے کبھی اپلائ نہیں کیا اور جذبوں کا یہ سفر اب اگلی نسل میں داخل ہوگیاہے جب میرے نوجوان بھتیجے نےجو چھ سال بعد وطن لوٹا یہ کہہ کر ہم سب کوحیران کردیا کہ میرا امیگریشن کاکوئ ارادہ نہیں!!! وہ بچہ جس نےاپنی عمر کا دو تہائ حصہ پہلے والدین کی تعلیم و ملازمت اورپھر اپنی تعلیم کی وجہ سے ملک سے دورگزاراہو،اپنی شناخت کوختم کرنے والے کسی بھی دستاویز کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے!اللہ اس کےارادوں کو استقامت بخشےاورکسی بھی پچھتاوے سے محفوظ رکھے ۔اس یوم آزادی پر وہ دھند میرے ذہن سے ہٹ گئی جوعید کے دن رشتےکے ایک بھانجے کے ایک جملے پرپڑگئی تھی ٌ۔۔۔بس خالہ مجھے اب یہاں نہیں رہنا۔۔۔۔۔۔۔کہیں بھی نکل جاوءں گا اس سال۔۔۔۔۔ٌٌ اس نےمجھے دعا کرنے کو کہا تو میرے دل نے کہا  اے کاش تیری آرزو بدل جائے۔۔۔۔!                           رات کے اس لمحے جب یوم آزادی کے جشن کےلیے فائرنگ اور پٹاخوں کی آوازبغیر سائلنسرکی موٹر سائکلوں کی آ واز سے مل کر فضا کو شور میں مبتلا کر رہی ہے تو یہ ہی دعا میرے لبوں پر آ گئی ہے۔۔۔۔۔اور مجھے جس کی قبو لیت میں ذرہ بھر بھی شبہ نہیں کہ ان جذبوں کی صرف راہ بدلنے کی د یر ہے ۔اس موقع پر ایک بزرگ کا واقعہ یاد آرہاہے جب انہوں نے سینما کی لائن میں لگے نوجوانوں کو دیکھکر ما شاءاللہ کہا اور ساتھیوں کے اظہار حیرت پر مسکراتے ہوئے کہا تھا ان نوجوانوں کا رخ بدلے گاتو یہ ہی ماحول بدل جائےگا۔۔۔۔۔۔اس فخر کے ساتھ اس بلاگ کا اختتام کہ یہ نوجوان ہی تو ہمارا سر مایہ ہیں۔۔۔۔۔اے کاش دو قومی نظریہ کا یہ سفرہماری اگلی نسلوں تک بھی جاری رہے۔۔۔۔۔!                 
v فر حت طاہر                    

    

1 تبصرہ:

  1. آج اورگذرے کل کی یادیں ! تحریر میں نہ صرف یکجا ہیں بلکہ یاد داشت کا ریکارڈ بھی درست کر رہی ہیں ۔

    جواب دیںحذف کریں