ہفتہ، 15 جولائی، 2017

عظمٰی آپا آگئیں

  

 ..”سنوہبہ!  عظمٰی پھپو آ رہی ہیں ہمارے پاس رہنے کے لیے ....“ ماہا نے اپنی کزن کو اطلاع دی۔

 ”...آہا عظمٰی خالہ کراچی آرہی ہیں .....“    ”پھپو خالہ کی تکرار میں کئی منٹ گزر گئے 

اچھا  لڑو مت!! ایسا کرتے ہیں عظمٰی آپا کہتے ہیں ان کو امی ابو کی طرح 
...!“
ہاں عظمٰی آپا آ رہی ہیں ...ٹھیک ہے ...!“

 ماہا اور ہبہ آپس میں ماموں اور پھپی زاد بہنیں ہیں۔ ان دونوں کے والدین آپس میں بہن بھائی ہیں۔عارف اور شہلا کے تین بچے عرفان، ماہا اور جبران ہیں جبکہ ظفر اور اسماء کے چار بچے یاسر، ہبہ، صبااور شارق ہیں۔یہ دونوں گھرانے ایک دومنزلہ گھر میں اوپر نیچے رہائش پذیر ہیں۔شہلا اور ظفر کے والدجو ان بچوں کے نانا اور دادا تھے شدید علیل ہوکر انتقال کرگئے۔اس موقع پر سب پنجاب روانہ ہوگئے۔ بڑوں کو تو وراثت کے مسائل نبٹانے کے لیے وہاں مہینہ بھر قیام کر نا تھا جبکہ بچوں کے اسکول کھلے ہوئے تھے لہذا ان کوواپس بھجوادیا گیاتھا اور ان کی نگرانی کے لیے عظمٰی آپا تشریف لا رہی تھیں۔
عظمٰی آپا ماہا کے والد عارف اور ہبہ کی والدہ اسماء کی بڑی بہن تھیں۔ اپنے نام کی طرح بارعب اور باوقار عظمی آپاپہاڑی علاقے میں گرلز ہوسٹل کی وارڈن تھیں۔ وہ یہاں پانچ سال بعدآرہی تھیں۔اس دوران گھر سمیت بچوں میں خاصی  تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں۔
”..ارے میرا جوبو کتنا بڑا ہوگیا ...“ انہوں نے آٹھ سالہ جبران کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔اشارہ ماں کی گود کی طرف تھا۔
”..اب میں اتنا بھی چھوٹا نہیں تھا ....“ جبران نے بڑے بہن بھائی کے قہقہہ لگا نے پر ذرا تنک کر کہا۔ 
 تحائف تو ہوتے ہی ہیں خوشی کا باعث مگر ان کا عمر،ذوق اور پسند کے لحاظ سے انتخاب حیرت انگیز طور پر خوشگوار تھا۔ وہ بچوں کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھی تھیں۔ایک اچھے منصوبہ ساز کی طرح وہ پہلے صورت حال کا جائزہ لے رہی تھیں جس کی روشنی میں یہاں قیام کی حکمت عملی متعین کی جا سکے۔کالج بوائز یاسر اور عرفان، میٹرک کی طالبات ماہا اور ہبہ جبکہ نویں کی صبا اور آٹھویں جماعت کے شارق کے ہمراہ بے بی آف دی فیملی جبران چوتھی جماعت میں زیر تعلیم تھا۔ خاصہ مختلف النوع ٹارگٹ تھا ان کے سامنے
 ”..عظمٰی آپا! نوشہرہ کا موسم ....“  ماہا کی بات ادھوری رہ گئی۔
عظمٰی آپا؟کیامطلب؟آپا تو میں تمہارے والدین کی ہوں۔تمہاری تو پھپو ہوں۔رشتہ داری کا قحط تھوڑی ہے ہمارے پاس انگریزوں کی طرح ....ہمارے پاس ہر رشتے کا پیارا سا لقب ہے ....پھپو جانی ..خالہ جان....“ 
نوشہرہ کا موسم تو گیا بھاڑ میں! کمرے کا موسم اچھا خاصہ گرم محسوس ہونے لگا۔
پھپو جانی ..........خالہ جان ..... سارے بچوں نے جیسے اپنا ابتدائی سبق پڑھا
ارے ایک دفعہ ہم بچے اسکول سے آئے تو گھر میں تالا ..خیر چابی تو ہم نے گملے کے نیچے سے نکال کرگھر کھول لیا مگر اندر بڑی ابتری ...کھانا بھی نہ پکا ہوا ...لگتا تھا امی اور دادی بڑی عجلت میں نکلی ہیں ...“ انہوں نے دیکھا بچوں کی توجہ ان کی طرف مبذول ہوچکی تھی ”بھوک سے براحال! ایسا کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔ خیر ڈھونڈ ڈھانڈ کر کچھ سکے جمع کیے کہ سامنے دکان سے کچھ لے آئیں .....!“
”اف اتنی غربت تھی خالہ جان آپ کے گھر میں ....!“ انداز میں تمسخر اور شوخی لیے یہ تیرہ سالہ شارق تھا۔(نیا نیا ٹین ایجرز میں شامل ہوا تھا لہذا بد تمیزی کی کی طرف مائل نظر آتا تھا)۔یہ کہتے ہوئے اس نے گویا چندہ جمع کرنے کے انداز میں اپنے بھائی بہنوں کی طرف ہاتھ پھیلا نا شروع کردیا اور ان سب نے بھی اشارے سے اپنی اپنی جیبوں سے اس کی جھولی بھرنا شروع کردی۔سب کے چہرے پر شرارت ناچ رہی تھی۔ عظمٰی آپا نے بھی برا ماننے کے بجائے اس سے حظ اٹھا یا۔
”...ارے اس وقت اتنی مہنگائی تھوڑی تھی۔سکوں میں بھی ڈھیروں سامان آجا تا تھا  ”تین آنے کا انڈہ اور اگر دو لیں تو چونی کا...!“ چونی اور دونی..؟  بچے حیرت میں ڈوب گئے
 ”بڑی پھپو! آپ کتنی پرانی ہیں؟“  جبران کے سوال پر سب بچے ہنس پڑے جبکہ انہوں نے ستائشی نظروں سے  اسے دیکھا کہ اس نے حاضر دماغی سے انہیں بڑی پھپو کا خطاب دیا کیونکہ پھپو تو وہ اسماء کو ہی کہتا تھا۔دوسرے  یہ کہ ہاؤ اولڈ آر یو؟ کا درست تر جمہ کیا!
”بیٹے بڑوں کی عمریں نہیں پوچھا کرتے ...بس اتنا جان لو کہ تمہارے ابو سے اتنی بڑی ہوں جتنی بڑی تم سے ماہا آپی ہیں ...!“
پھر تو آپ میرے ابو پر بہت ظلم کرتی ہوں گی....؟“ اس ادھورے جملے میں وہ اپنے پر بیتی داستان بیان کر رہا تھا اور ماہا کے اس کو گھورنے اور دانت پیسنے سے اس بات پر مہر ثبت ہو رہی تھی۔پچھلے دنوں ٹیچر نے مسلمانوں پر ظلم کے حوالے سے سبق پڑھا یا تھا۔اس بے چارے کو اس لفظ کے استعمال کا خوب موقع ملا جبکہ باقی بچوں نے ظالم، ظالم کے نعرے لگانے شروع کردیے۔ ”نہیں چلے گا ...ظلم نہیں چلے گا ....!“  بظاہر تو وہ مذاق کر رہے تھے مگر دراصل وہ عظمٰی آپا کو چڑا رہے تھے۔وہ تو عرفان نے ان کے بگڑ تے موڈ کا اندازہ کر کے ان سے قصہ مکمل کرنے کی درخواست کی
”ارے نہیں جوبو! سختی کرنے کے لیے ہمارے ابا ہی کافی تھے . ان کا مقولہ تھا۔ کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ ...! میں تو اپنے بہن بھائیوں کا بہت خیال رکھتی تھی .پوچھنا اپنے امی ابو سے؟ “ انہوں نے جوابی سوال سے گویا بچوں کو سر زنش کی۔
” پھر کھانے کا کیا ہوا؟ آگے بتائیں نا!“  شارق نے اس موضوع سے اکتا کر کہا 
”ہم ان کو لے کر افضال انکل کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں پیسٹریاں، ٹافیاں اور ڈبل روٹی دے دی۔ انڈے نہ دیے کہ تمہیں چولہا جلانا نہیں آئے گا۔آگ لگا لوگے،کولڈ ڈرنک کی بوتل ...وہ تو عید پر ہی ملا کرتی تھی....!“ عظمیٰ آپا اپنے بچپن میں کھو چکی تھیں اور آ ج کے بچے ان سے سوال کر رہے تھے
  ”اوفوہ! آپ لوگوں نے پیزا کا آرڈر کیوں نہیں دے دیا۔ہوم ڈیلیوری سروس ...؟؟“
”اس وقت ایسی علت (سہولت) نہ تھی ...مگر پڑوس سے ہانپتی کانپتی بشرٰی خالہ ٹرے سجائے آ گئیں اور اپنے ہاتھ سے نوالے بنابناکر  کرعارف اور اسماء کے منہ میں ڈالنے لگیں ..کیونکہ انہیں معلوم تھا ان دونوں کو امی اپنے ہاتھ سے کھلاتی ہیں ...اور ساتھ ساتھ کہہ رہی تھیں  ”.دیر ہوگئی۔تمہارے چچا  نماز پڑھ کر آگئے کہہ رہے تھے کہ بچے ابھی تک یونی فارم نہیں بدل سکے ہیں۔جلدی سے کھا نا لے جاؤ! ....“ بچے حیرانگی سے عظمیٰ آپا کی باتیں سن رہے تھے۔ کتنی اجنبی سی لگ رہی تھیں یہ باتیں! اتنی امن وآشتی، یگانگت اور فر صت سے رہا کرتے تھے لوگ! (اس قسم کے حالات میں آج کل کے مناظر کچھ یوں ہوتے ہیں کہ پچھلے دنوں کسی عزیز کے انتقال کی خبر آئی تو گھر پر صرف شہلا اور اسماء تھیں رضیہ بواکی موجودگی کے باوجود وہ ایک بجے تک گھر سے نکل پائیں اور جب پہنچیں تو جنازہ اٹھ چکا تھا اور وہاں سے بھی مستقل بچوں  سے رابطے میں! پڑوسیوں سے تعلق تو ایک طرف گلی کے گارڈ تک پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتاتھا!)
بہر حال اس پرانے قصے سے ماحول کا تناؤ دور ہوگیا اور تھوڑی انسیت پیداہوگئی۔ رات کافی ہورہی تھی۔ سب کو سونے کی ہدایت کرکے وہ بڑے لڑکوں سے پوچھنے لگیں
 ”یہاں فجر کی نماز کس وقت ہوتی ہے؟“  مخاطبین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
(وہ تو جب اٹھتے تھے ادا کر لیتے تھے! وقت تو کبھی نوٹ ہی نہیں کیا)
   ”اچھا میں اپنے موبائیل سے دیکھ لیتی ہوں ..“ انہوں نے بٹوے سے اسمارٹ فون نکالا تو بچوں کی آنکھیں تجسس سے چمکنے لگیں۔
”ساڑھے چھہ بجے ...ہوں! مسجد تو سامنے ہی ہے۔بہر حال میں چھہ بجے آپ سب کو اٹھا دوں گی ...“ انہوں نے عرفان، یاسر اور شارق کو ہدایت دیتے ہوئے کہا  ”...باقی یہ سب لوگ میرے ساتھ ہی گھر پر پڑھ لیں گے ....“  حتمی لہجے میں بات مکمل کی
”...وہ اصل میں پھپو! ...“  عرفان نے جھجکتے ہوئے کہا۔بچوں میں سب سے بڑا ہونے کے باعث جہاں اس کے اختیارات زیادہ تھے وہیں ذمہ داری بھی تو تھی نا! 
 ” یہ مسجد تو .......... کی ہے۔ابو تو دوسری مسجد میں جاتے ہیں ...“  اپنی دانست میں اس نے سب کی جان بچانے کی کوشش کی۔
”اچھا!!!“ کچھ لمحے سوچنے کے بعد بولیں  ”.....تو ٹھیک ہے! میں اجمل چچا کو فون کرتی ہوں۔وہ تم سب کو دوسری مسجد لے جائیں گے.“   اجمل چچا آتے تو ان سے پہلے ان کا ڈنڈا گھر میں داخل ہوتا اور جس سے بچے تو کیا ان کے والدین بھی ڈرتے تھے
 (مارشل لاء سے بہتر اور آسان راستہ عدالتی احکامات کو بائی پاس کرنا ہوتا ہے۔....)”... نہیں نہیں! ہم یہیں پڑھ لیں گے .....!
عرفان اور یاسر نے گھبرا کر ایک ساتھ کہا
”اصل میں خالہ جان ہمیں کالج دیر سے جانا ہوتا ہے .....“
”..یہ تو اور اچھی بات ہے۔نماز کے بعد تلاوت، سیر، ناشتہ اور پھر سبق کی تیاری!“
 اتنا آسان نہیں تھا عظمٰی آپا کو ڈاج دینا۔ وہ روزانہ دوسو سے زیادہ لڑکیوں کو ڈیل کرتی تھیں۔ بلاشبہ یہاں مختلف النوع مخلوق تھی مگر چیلنج قبول کرنا ان کے لیے دلچسپ مشغلہ تھا۔ اگلے دن کاشیڈول طے کرتے ہوئے انہوں نے غیر محسوس طریقے سے اپنے احکامات در ج کروادیے  صبح کی نیند ممنوع قرار پائی، ظاہر ہے اس کے لیے رات جلدی سونا ضروری......وغیرہ وغیرہ ....لڑکوں اور لڑکیوں نے علیحدہ علحدہ اور بہن بھائیوں نے الگ الگ کارنر میٹنگز کر کے ایک ڈھیلا ڈھا لا لائحہ عمل ترتیب دے ہی دیا۔ عظمٰی آپا سے تعاون کی پالیسی کے ساتھ ساتھ اڈونچر کا بھی شوق پورا کرنا تھا۔دوسری طرف عظمٰی آپا نے بھی اگلے چوبیس گھنٹے تمام افراد کے شب وروز کا بغور جائزہ لیا۔ان بچوں کے علاوہ ملحقہ سرونٹ کوارٹر میں رہنے والے رضیہ اور شوہر عنایت گھریلو ملازمین بھی اس میں شامل تھے۔
اطمینان بخش بات یہ تھی کہ اسکول اور گھر دونوں ہی بچوں کی تربیت درست رخ پر کر رہے تھے لیکن کیا ہوکہ آج کل کے بچے ایک دوسرے کے کہنے میں زیادہ ہیں لہذا یہ بچے بھی من مانی کی طرف مائل تھے۔ بڑے دونوں لڑکوں کے پاس موبائیل فون تھے۔دونوں گھروں میں کمپیوٹر موجود تھے۔ لیپ ٹاپ والدین اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ اگر چہ ٹی وی دیکھنے کی فر صت بچوں کے پاس نہ تھی لیکن ڈیجیٹل تفریح کی بھرپور معلومات تھیں اور اپنی سہولت کے لحاظ سے ڈاؤن لوڈ کرکے دیکھتے تھے۔ اور جب وائی فائی موجود ہوتو کیا پریشانی؟  انہوں نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیاتو اسکرین پر سب کی نظریں ٹک گئیں۔جوبو کو گیمز اور کارٹون دیکھنے کی آس لگی جبکہ شارق کو کرکٹ کی جستجو! اتنا آسان تو نہیں تھا،پھر بھی موقع تو مل سکتا ہے مگر ان کو لیپ ٹاپ پر لگے پاس ورڈ سے بڑی مایوسی ہوئی۔
”فیس بک!“ سب نے معنی خیز نظروں سے دیکھا۔ ان کے والدین تو فیس بک اور انٹر نیٹ کا نام سنتے ہی بگڑ جاتے تھے۔
اوہ! خالہ کے دو ہزار فالورز ہیں ...“ شارق کے منہ سے نکلا۔”یہ سب کون ہیں؟“  ہبہ نے سب کے تجسس کو زبان دے دی۔
”ساتھی، پرانی سہیلیاں، رشتہ دار، شاگرد...!  اسماء اور عارف تو استعمال ہی نہیں کرتے!.. حالانکہ رابطہ کا ذریعہ ہے ...انڈیا، کینیڈا،عرب مملکت .......“
”دراصل امی ابونے اس لیے پابندی لگائی ہے کہ ہماری پڑھائی پر اثر نہ پڑے ....“  یاسر نے بات سنبھالی۔یہ نسبتا سیدھا اور نیک لڑکا تھا۔
”ہاں درست ہے! جب تم لوگ چھوٹے تھے تو تمہاری مائیں تمہارے منہ میں چمچہ ڈالنے سے پہلے چکھ کر، چھو کر دیکھتی تھیں کہ گرم یا سخت تو نہیں؟ کچا تو نہیں؟ ظاہر ہے تفریحی غذا کے بارے میں کیسے غیر محتاط ہو سکتے ہیں والدین! ...“  ان کی اس بات پر سب نے شر مندگی سے آنکھیں جھکا لیں اور اعتراف کیا کہ وہ سب فیس بک پر موجود ہیں!اور پھر ان پر انکشاف ہوا کہ ان سب کے یہاں اکاؤنٹ ہیں عجیب و غریب ناموں (آئی ڈی) سے! حتیٰ کہ شارق تک شائننگ راک (چمکدار چٹان) کے نام سے موجود تھا۔اس کو فیس بک جوائن کیے جمعہ جمعہ آ ٹھ دن ہی ہوئے تھے مگر فرینڈز لسٹ سینکڑوں میں تھی۔
”...بس سب میری فرینڈ لسٹ میں آ جائیں۔ بلکہ مجھے آپ سب کا پاسورڈ بھی معلوم ہونا چاہییے...نہ جانے کیا الم غلم تفریح کر رہے ہو تم سب ...!“   ان کی اس بات پر سب کے منہ لٹک گئے اور شارق کے گھورنے لگے جس نے دھڑا دھڑ معلومات ان کو فراہم کیں۔
 ”کوئی مسئلہ نہیں! ہم کوئی غلط چیز تو نہیں دیکھتے....“ ہبہ نے بھائی کی جان بچائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن سب گھر پہنچے تو لاؤ نج میں داخلی دروازے کے ساتھ ہی ایک چارٹ چسپاں تھا جس میں پورے ہفتے کا شیڈول تھا۔ قوانین توڑنے پر سزائیں بھی درج تھیں۔  اپنا اپنا کمرہ دیکھ کر تو سب حیران رہ گئے۔صاف ستھرا، ہر چیز سلیقے سے رکھی ہوئی اور فالتو اشیا ء کا ایک ڈھیر کونے میں نظر آ رہا تھا۔ سب سے زیا دہ ملبہ ماہا کے کمرے سے دریافت ہوا۔انواع و اقسام کے برتن اور چمچے کانٹے، درجن بھر کیچرز، دو کیلکولیٹر،موزے،استعمال ٹشو پیپرز.....اسٹیشنری کی بھی اچھی خاصی تعداد تھی۔اور تو اور ہبہ اور صبا کی کئی گمشدہ اشیاء بھی یہیں سے بر آمد ہوئیں جن کووہ اپنی دانست میں واپس کر چکی تھی اور جس کے لیے دونو ں بہنوں میں آئے دن تکرار ہوتی تھی۔ ماہا نے  ”..واؤ!  تھینک یو پھپو“ کا نعرہ بلند کیا اور دل ہی دل میں بولی
”...اب پھپو کے سامنے تو اس صفائی کو بر قرا رکھنا ہو گا ...کچھ بھی باہر نظر نہ آئے ورنہ ضبط ہو جائے گا  .....“
گو انہوں نے اس ضمن میں کوئی لیکچر نہیں دیا تھا مگر عزائم وا ضح تھے۔ نظم و ضبط اور صفائی کے معاملے میں سب سے زیا دہ دباؤ شارق کو برداشت کر نا پڑ رہا تھا۔ وہ خاصہ سست تھا اس معاملے میں!گیند بلا، فٹ بال،کتابیں، بیگز، جوتے،موزے ..سنبھالتے سنبھالتے عاجز تھا۔یاسر اپنی چیزیں تو قرینے سے رکھتا تھا مگر بھائی کی درستگی کی اسے ذرا کم ہی پر واہ تھی ۔دونوں بہنوں کا کمرہ بہت منظم تھا مگران کو اپنے جھگڑوں سے فر صت نہ ملتی کہ بھائی کی چیزیں سمیٹتیں ....ویسے دونوں میں لگاؤ بھی خوب تھا ...اس دن پتیلی میں لگے سالن کو روٹی کے ٹکڑے سے عظمٰی آپا پونچھ کر کھانے لگیں تو ہبہ زیر لب بول پڑی  ”اف اتنا لالچی پن!“  وہ چونکیں تو صبا بات بنا کر بولی 
 ”الائچی مانگ رہی ہے خالہ ...!“    ان کو اپنی سماعت پر بھروسہ تھا مگر نظر انداز کر گئیں۔ غذا کے ضیاع پر پھر کبھی کسی اور انداز سے بات کرنی تھی!اگلے دن جنک فوڈ کی آمد پر ان کے تبصرے کے جواب میں ماہا نے کہا ”پھپو کتنی کنجوس ہیں ...!“ اور جبران نے زور سے یہ بات دہرادی اگر چہ اس کو کنجوس کا مکمل مفہوم نہیں تھا مگرماہا کے آہستگی سے کہنے پر اسے اندازہ ہواکہ آپیوں سے بدلہ لیا جا سکتا ہے! لیکن لڑکیوں میں بھی بڑا اتحاد تھا۔ہبہ بول پڑی  ”خالہ جان! ماہا تو کنو کا جوس پینے کو کہہ رہی ہے! ...“  وہ پھر طرح دے گئیں۔
     آج کل کھانے کی میز کی گہما گہمی بد لی ہوئی تھی۔ پہلے تو صرف دونوں ماؤ ں کی پکار ہی سنائی دیتی تھی خواہ ناشتہ ہویا کھانے کا وقت! 
”..آ جاؤ! .....ناشتہ کرلو ....اسے ختم کرو ......! نہ ماؤں کی ہدایات ختم ہوتیں نہ ہی بچے عمل درآمد پر آمادہ نظر آتے۔اب کچھ منظر بدلا ہوا نظر آتا۔ انہوں نے اپنی سہولت کے لحاظ سے ایک ہی کچن آباد رکھا تھا۔ کاؤنٹر کے ساتھ رکھے اسٹولز پر لڑکیاں کھاتیں جبکہ لڑکوں کے لیے ملحقہ کمرے میں میز پر کھانے کا انتظام ہوتا۔ لڑکوں کو تمیز سے کھانا دیا جاتا تو جوابا ان کو بھی حتی المقدور سلیقے کا مظاہرہ کرنا ہوتا۔ اور اس دن تو سب کے قہقہے چھوٹ گئے جب شارق خود اپنی پانی کی بوتل بھرتا پا یا گیا۔کچھ کھسیا سا گیا تو خالہ نے اسے لنچ کے لیے ایک اورمزید سنڈوچ دے کر اس کی تعریف کی۔
کہاں تو یہ حال کہ قاری صاحب گھنٹی بجا بجا کر نڈھال ہونے لگتے تو منہ بسورتا ہوا جبران آکر گیٹ کھولتا اور پھر وضو کے نام پر غا ئب! آئے تو سبق یا د نہیں ...ظاہر ہے ٹی وی کے آگے سے اٹھ کر قرآن پڑھنا جبکہ گھر کے بقیہ افراد اسکرین سے چپکے ہوئے ہوں زیادتی ہی لگتا تھا اسے!  اور اب یہ کہ قاری ساحب کی موٹر سائیکل کی آواز سنتے ہی گیٹ کھل جا تا۔جبران وضو کر کے تیار! سبق بھی اچھی طرح یاد! اور آ ج تو حد ہوگئی جب اس نے گاجر کے حلوے کا پیالہ لاکر میز پر رکھا۔گرما گرم خوشبو دار حلوہ! سبق پڑھا نا دشوار ہو گیا۔ میٹھے کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک وقت میں بہت زیادہ نہیں کھا یا جا سکتا اور وہ بھی ایسی صورت میں جب سامنے بیٹھا بچہ چمچے گن رہا ہو!
”..کھائیں کھائیں قاری صاحب ..!“  جبران کا میٹھا میٹھا رویہ بھی حیران کن تھا۔ کسی تقریب میں میٹھے کی ڈش پر ٹوٹ                           پڑ نا ایک الگ بات ہے ..وہ حسرت بھری نظروں سے حلوے کو دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔اسی وقت اندر سے پکار ہوئی تو وہ حلوے کی ڈش اٹھا کر اندرغائب ہو گیا۔ کتنا ظالم بچہ ہے! ایک آدھ چمچ اور لے لیتے۔ انہوں نے سوچا مگر جب اس نے انہیں حلوے سے بھرا ڈبہ پکڑوایا یہ کہتے ہوئے۔”گھر جا کر کھائیے گا قاری صاحب!“ توافسوس ایک خوشگوار حیرت میں بدل گئی۔ اگلے دن اس سے پوچھ بیٹھے۔
”بڑی پھپو اب یہیں رہیں گی؟“  نہیں ایک مہینے کے لیے آئی ہیں ...بچہ تھا نا نتائج سے بے خبر گھر کے بھید کھولنے والا ....آہ نہ جانے اب ایسا حلوہ کب ملے؟  (حلوہ تو واقعی دوبارہ نہ ملا مگر کبھی سموسے یا پکوڑے چٹنی کے ساتھ تو کبھی چائے  بسکٹ! اس آؤ بھگت نے جہاں انہیں ایک مہمان کی حیثیت دے دی تھی وہیں جبران کی بے چین روح کو بھی ایک مصروفیت ہاتھ آ گئی تھی جس کی خوشی سب سے زیادہ ماہا کو تھی کہ  جبران کے بے ہنگم مطالبات اور ضدوں سے اس کی جان بچی ہوئی تھی۔)
 اس شام عظمیٰ آپا  جبران کو اسٹیشنری دلوا کر گھر آئیں تو شارق نے بتایا  ”اسریٰ باجی آ ئی ہیں! آپی کے کمرے میں ہیں ...!“
”اچھا!“  انہوں نے تواضع کی چیزیں تو لڑکیوں کو بھجوادیں مگر خود نہ جاسکیں کیونکہ انہیں شارق کے نئے ٹیوٹر کے تقررکا انٹر ویو کرنا تھا۔ اس سے فارغ ہوئیں تو اسریٰ جاتی نظر آئی۔ سلام دعا ہوئی۔ ان کی ماں اور نانی سے ملا قات کا عندیہ دیا اور پیار سے کہنے لگیں
”مزہ آیا اپنی دوستوں سے ملاقات کر کے؟“  
”جی بہت!“   وہ پر جوش لہجے میں بولی۔ ”سیلفیز بھی لیں؟“   انہوں نے موبائیل دیکھتے ہوئے کہا
”ہاں ..“ وہ ہکلائی مگر ڈھیٹ بن کر بولی ”دیکھیں گی!“   انہوں نے دیکھیں اور پھر بولیں
”ان سب کو ڈیلیٹ کردو ...“    ”جی؟“ وہ ہکا بکا ہوئی اور پھر اس نے ان کی ہدایت پر عمل کیا۔
”آپ اسرٰ ی باجی سے ملیں۔فریدہ خالہ کی بیٹی کالج میں پڑھتی ہیں  ...!“ رات کے کھانے پر صبا نے ٹوہ لینے کے اندازمیں کہا۔
”ہاں!“ وہ پیار سے بولیں۔ ”اس کی امی اور تمہاری ماں میں بھی بڑی دوستی تھی ...“
”کیسی لگیں؟“         ”..اچھی ہے!  بس آنکھوں کے لینز کے بجائے  پاجامہ بدل کر آجاتی تو زیادہ بہتر تھا...!“
”کیا مطلب؟“ لڑکیوں نے بیک وقت پوچھا۔
”آ پ کو کیسے معلوم ہوا کہ وہ لینز لگائے ہے؟ “ صبا نے سوال کیا
”بھئی تمہی تو اس کی آنکھوں کے رنگ کی تعریف کر رہی تھیں؟  اگر قدرتی ہو تا تم کو اتنی حیرت نہ ہوتی ...اور پاجامہ تو نائٹ سوٹ کا ہی پہن کر آگئی تھی غلطی سے بے چاری....!“
”افوہ خالہ بھی بس ہمیں بے بس کر دیتی ہیں ..! اس نے دل میں سوچا
 ’اب اسریٰ باجی کبھی نہیں آ ئیں گی ....!“ یہ ہبہ کا تبصرہ تھا جب شارق نے ان سب کو عظمیٰ آپا کے اسریٰ کے موبائیل سے سیلفیزڈیلیٹ کروانے کا وقعہ من و عن بتا یا مگران سب کی حیرت کی انتہانہ رہی جب اسریٰ کی آمد پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی۔اب اس بھید سے کون پردہ اٹھائے؟ خالہ سے کچھ پوچھنا بیکار تھا! (بلی نے آج تک شیر کو درخت پر چڑھنا نہیں سکھا یا ہے! ) یہ صبا نے دل میں سوچا تھا !

............................................................................................................................................................

رات کو گھنٹی کی آواز پر عرفان اور یاسر گیٹ کی طرف بڑھے۔نہ جانے کس کونے سے ہانپتا کانپتا شارق بھی ان کے پیچھے لپکا
 ”..وہ پھپو جانی! عمیر آیا ہے ...ہم ایسے ہی آؤ ٹنگ کو جا رہے ہیں ...“ عظمیٰ آپا کے استفسار پر اٹک اٹک کر عرفان بولا
”...دن بھر تو باہر ہی رہے ہو! ..اس وقت تو ہوم ٹائم ہونا چا ہیے میرے بچے ..! وہ ملائمت سے بولیں۔سوپ پینے کے بہانے پر انہوں نے پوچھا کہ تیار ملے گا یا جاکر آڈر دوگے؟  
”آڈر پر تازہ بنوائیں گے ...!  یاسر چہک کر بولا۔اس جواب کے پیچھے زیادہ وقت باہر گزارنے کا موقع ملنے کا بہانہ تھا۔
”تو بس اتنی دیر میں گھر پر ہی تیار ہوجائے گا۔ عمیر کو اندر بلالو...! انکار کی گنجائش نہ تھی! بادل ناخواستہ سب ڈرائنگ روم میں آبیٹھے۔
انہوں نے فرج سے چیزیں نکالیں، لڑکیوں کو مدد کے لیے بلوا یا اور سوپ کی تیاری شروع کردی۔ لڑکیاں پہلے تو جز بز ہوئیں کہ ان کا ڈرامہ ٹائم تھامگر اس سر گر می میں جو ٹھٹھول تھا وہ ان روتے دھوتے یکساں ڈراموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ دلچسپ تھا۔ رضیہ بوا آج کل ہکا بکا تھیں۔ عظمیٰ آپا کے کچھ اقدامات تو ان کے لیے سراسر فائدہ مند تھے مثلا اوقات کی پابندی، نظم و ضبط وغیرہ لیکن دوسری طرف جنک فوڈ اور باہر کے کھانے پر پابندی کی وجہ سے کام بھی زیادہ کرنا پڑ رہا تھا۔ اب اس وقت لڑکے باہر چلے جاتے،لڑکیاں کچھ نوڈلز، پوڈلز بنا لیتیں تو وہ آرام سے اپنے کوارٹر میں روانہ ہوجاتیں لیکن اس وقت یوں کچن آباد ہونے سے ان کو بھی مجبورا سوپ کی تیاری میں حصہ لینا تھا مگر وہ حیرت زدہ رہ گئیں جب عظمیٰ آپا نے ان کو کھانا لے کر اپنے کوارٹر میں جانے کو کہا۔وہ شکر ادا کرتی ہوئی چلی گئیں کہ سوپ بنانے اور پینے سے نجات مل گئی۔
دوسری طرف توقع سے بہت پہلے گرما گرم سوپ ملا تو لڑکے اس پر ٹوٹ پڑے۔ بازار سے زیادہ مزیدار تھا اور سب سے بڑھ کر کہ وہاں تو ان کے ہونٹ بھی نہ تر ہوتے کہ سوپ کا پیا لہ ختم ہوجاتا اور ان کے بجٹ میں مزید پینے کی گنجائش نہ ہوتی لہذا حسرت سے دیکھ کر رہ جاتے اور یہاں تو اتنی اچھی طرح سیر ہوگئے اور وہ بھی مفت میں بغیر کسی بد زبانی کے!اس طرح ان کی آؤٹنگ جو باہر کئی گھنٹوں میں ہوتی مختصر ہوکر جلد ہی ختم ہوگئی۔اور پھر ان کے گروپ کی بیٹھک یہیں منعقد ہونے لگیں۔جوازتو والدین کی غیر موجودگی بنامگر دراصل وجہ وہ عزت افزائی تھی جو بقیہ گھروں میں مفقود تھی۔ لڑکوں نے اس زاویے سے سوچا تو پھر تواضع کے اخراجات کے لیے چندہ کرنا چا ہا تو عظمیٰ آپا نے نرمی سے منع کرتے ہوئے کہا
”...جب تک میں یہاں ہوں۔میز بانی میری طرف سے! ہاں میرے جانے کے بعد تم سب شیئر کرلینا .....! ویسے تم لوگ روز اتنی باتیں کس موضوع پر کرتے ہو؟ ...“ 
”..اپنے ملک کی خرابی...مسلمانوں کی بد حالی.....!“  شارق کو یاسر نے گھورا تو وہ خاموش ہوا۔
”محمد بن قاسم نے سترہ سال کی عمر میں سندھ فتح کرلیا تھا!.یہ سن کر تو ہمارے کان پک گئے! ہم کیا کریں؟“  یاسر کے لہجے میں مایوسی تھی۔
”اور  ہمارے ایجاد کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں بچا!ساری چیزیں تو دریافت ہوچکی ہیں“  عرفان نے مزاحیہ انداز میں کہا
”ٹھیک ہے تمہیں پہیہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں مگر اس کو استعمال کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے ...“  عظمیٰ آ پا سمجھ گئیں۔ان بچوں کےسامنے نہ کوئی ہدف ہے اور نہ ہی کوئی مثالی کردار!
”محمد بن قاسم کے کام کو آگے تو بڑھا یا جا سکتا ہے ..!“   ”کیا مطلب؟ “  لڑکے تجسس سے بولے
”اس کو بہت جلد واپس جا نا پڑا اور انتقال بھی کم عمری میں ہو گیا تھا نا! تو اب یہ سوچو کہ اس کو موقع ملتا تو ہندوستان کا نقشہ کیا ہوتا؟ ..“ امکانات کا یہ پہلو سن کر وہ بہت مہمیز ہوئے اور سوچ بچار کے لیے ایک موضوع ہاتھ آگیا۔
عظمیٰ آپا کے بارے میں ان کے خدشات حیران کن حد تک غلط ثابت ہورہے تھے۔ وہ ان کو تفریح کا دشمن سمجھ کربوریت کا اظہار کررہے تھے مگر اس دن سب خوشگوار حیرت میں ڈوب گئے جب انہوں نے رات کے کھا نے پر اعلان کیا کہ کتب میلہ منعقد ہورہا ہے کل ہم سب وہاں جائیں گے!“
”واو!“ بچوں نے نعرہ مارا خاص طور پر لڑکیاں بڑی پر جوش تھیں۔
وہاں انہوں نے سب کو کتب دلوائیں اورہر ایک کی دلچسپی کے لحاظ سے کئی میگزین جاری کروائے۔ بچوں کی حیرانگی بجا تھی کہ والدین تو غیر درسی کتب دیکھ کر آگ بگولہ ہو جاتے تھے۔ ایک بھرپور، مکمل اور مثبت سر گر می کے بعد بچوں کی رائے ان کے متعلق خاصی تبدیل ہوگئی۔اگلے دن بچے کتب میلہ کی روداد لکھ رہے تھے۔ کتابوں پر تبصرے،کرداروں پر بحث! مزے ہی مزے! 
اور اس وقت تو وہ سب بے ساختہ خوشی سے اچھل پڑے جب شجر کاری مہم کے سلسلے میں پھولوں کی نمائش میں جانے کا پرو گرام بنا۔ پکنک کے ساتھ ساتھ معلومات اور تازگی کا احساس! بچوں کوبہت مزہ آیا۔ بہت سے گملے اور بیج وغیرہ خریدے۔ سب نے اپنے اپنے نام کا پودا لگانے کی سر گر می میں حصہ لیا۔ واپسی میں پیزا کھانے کی فر مائش  انہوں نے بڑی خوب صورتی سے بھٹے، ناریل اور انواع و اقسام کے پھل کھلوا کر ٹال دی۔
عظمیٰ آپا کو آئے مہینہ ہونے والاتھا اور وہی بچے جو عظمیٰ آپا کی آمد سے سہم رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم خود رہ لیں گے ان کو تکلیف نہ دیں اب ان کے جانے کا سوچ کر اداس تھے۔ ماہا جو ان کے جانے پر شکرانے کے نوافل پڑھنے کی نیت کیے بیٹھی تھی ا ب آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے تھی۔ آج والدین بھی واپس آپہنچے۔جب ان کی تھکن اتری تو گھر میں تبدیلیوں کو محسوس کیا۔ بچوں کی عادتیں، حرکتیں، مشاغل بدلے بدلے تھے .. مگر ایسا کیسے ہوا؟
صبح کی ٹرین سے عظمیٰ آپا کی روانگی تھی۔رات کو ٹی وی لاؤنج میں بڑے اسکرین پر اس ویڈیو کی رونمائی تھی جو سب بچوں کی مشترکہ کاوش تھی۔ عنوان تھا:   ”محمد بن قاسم کا اگلالشکر“   ایک طرف خواتین تھیں تو دوسری طرف مرد حضرات!
 ”امی امی! یہ میری کتاب سے لیا ہے ....“  جبران کے خوش ہوکر بتا نے پر شہلا نے اسے پیا ر سے گلے لگا یا۔ درسی کتب سے تاریخی واقعات  لے کر ان کی روشنی میں مستقبل کی پیش گوئی اس ویڈیو میں ڈالی ہے۔
”ہمارا اگلا ہیرو ہے سلطان صلاح الدین ایوبی ....!“  عرفان نے ویڈیو کے اختتام پر  بریفنگ کرتے ہوئے کہا۔ ”اور ٹیپو سلطان،
نور الدین زنگی ....! وہ پرجوش لہجے میں بتاتا گیا۔
والدین ابھی مخمصے کا شکار تھے مگر ویڈیو کے اختتام پر جب سب نماز کی تیاری میں لگ گئے تو انہوں نے اس تبدیلی کو پر ستائش نظروں سے دیکھا۔
”پھپوجانی!  آپ اب کب آئیں گی؟ آپ کی توجہ اور رہنمائی نے ہمیں نئی امنگ عطا کی ہے ... اصل میں ہمارے ..!“ عرفان بولتے بولتے رکا تو انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
”تمہارے والدین بوجھل ضرور ہیں میرے بچے!غافل نہیں!...سب سے بڑھ کر انہوں نے مجھے ذمہ داری کے ساتھ اختیارات بھی دیے تھے ورنہ میری کوئی بات تم لوگوں کے لیے قابل قبول نہ ہوتی ...! امید ہے تم سب اس کی لاج رکھو گے ..!“
عرفان نے ان کے عبایا پر لگی مٹی جھاڑتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا اور بقیہ سب بھی ان کے ہمراہ اسٹیشن روانگی کے لیے تیار تھے...
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 (  فر حت طاہر  )

 

بدھ، 3 مئی، 2017

خالی پنجرہ

گھر میں ایک ایمرجنسی سی نظر آنے لگی۔ تما م ممکنہ رابطے کیے جارہے تھے مگر کہیں سے مدد نہ مل پارہی تھی کہ یہ جھگڑا ختم ہو ! مگر نہیں اسے جھگڑے کے بجاۓحملہ کہنا چاہیے!! جی ہاں !بڑے پرندے نومولود بغیر پر والے پرندوں کو بری طرح زخمی کررہے تھے۔ گھر میں موجود سب بچے اور لڑکیاں اس منظر کودیکھ کر بہت پریشان تھےاور ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح ان معصوم بچوں کو ان ٹھونگوں سے بچایا جاۓ!!!!!!
 ٹھہریں پہلے پوری بات بتاتے ہیں
سردیوں کی ایک خوبصورت دوپہر تھی جب ہمارے  شوق کی تکمیل ہویئ کہ ہم پرندے پالیں ۔ خوبصورت آسٹریلین طوطے کے دو جوڑے مع پنجرے کے ساتھہ ہمارے گھر آیا ۔بہت خوشی کے ساتھ ان کا استقبال ہوا۔ایک جوڑا سبز رنگ کا تھا جبکہ دوسرا فیروزی اورلیمن کلر کا۔  ان کی غذا، پانی، آرام کا خیال رکھا جانے لگا۔ بڑے نازک اندام پرندے تھے ہر ایک کا دل موہ رہے تھے۔ان کی آواز سے لے کر ادائیں گھر بھر کو بھا رہی تھیں ۔کسی کو وہ شرمیلے لگتے اور کچھ کی نظر میں نخریلے تھے۔  موسم کی شدت کے باعث ان کا خصوصی خیال رکھا جارہاتھا۔ شہر سے باہر جانا ہوا تو ان کی دیکھ بھال کسی کے سپرد کر کے گئے۔
موسم بدلا تو ان کے انڈے دینے کاوقت آ گیا۔اب تو بہت زیادہ توجہ دی جانے لگی۔اور پھر انڈے بھی آگئے۔ اب مادائیں زیادہ تر مٹکی کےاندر قیام کرتیں ہاں کبھی کبھار خانگی امور پر اپنے نر کو گھرکنے یا تبدیلی کی غرض سے باہر بھی آ جاتیں۔ سب کی توجہ فیروزی اور لیمن جوڑے پر تھیں۔ وہ نسبتاً نرم خو بھی تھے۔کچھ عرصے بعد فیروزی والے کے یہاں انڈوں سے بچے نکل آ ئے۔یہ تعداد میں پانچ تھے۔اب ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا ۔غذا ااور پانی کااستعمال بھی بڑھ گیا۔سب ان بچوں کے پروں کے رنگ کے بارے میں پر تجسس تھے ۔ سبز طوطے کے انڈے ہنوز جوں کے توں پڑے تھے ۔تشویش بھی تھی۔ دونوں والدین بھی فکر مندی میں ڈوبے نظر آ تے۔
ایک دن صبح پنجرے میں سارے انڈے مٹکی سےباہر ٹوٹے پڑے تھے ۔گویااب ان میں زندگی کی امید نہیں باقی رہی۔ تھوڑا افسوس ہوا۔ اس جوڑے کے مزاج میں بھی رنج اور  افسوس نظرآیا۔ اگلے ہی دن دو بچے مرگئے۔ ہم سب بہت افسر دہ ہوئے۔پنجرے کی  صفائی وغیرہ کی تو تھوڑی دیر میں ایک بچہ زخمی حالت میں مٹکی سے باہر گر گیا۔فوراً اسے مدد فراہم کر کے واپس رکھا گیا،۔ تھوڑی دیر میں پنجرے سے بہت آ وازیں آ نے لگیں ۔جاکر دیکھا تو سبزمادہ خوب جھگڑا کر رہی تھی۔
اس معاملے کو حل کرہی رہے تھےکہ فیروزی والی ماں پنجرے سے باہر اڑ گئی۔ ابھی ہم اس صد مے سے باہر نہ آ ئے تھے کہ دیکھا کہ بچے خونم خون ہورہے ہیں اور سبز مادہ کی چونچ خون آلود ہے۔آپ صورت حال کا اندازہ کر سکتے ہیں؟
یہ تھا واقعہ  جس کاذکر بلاگ کے آغاز میں ہوا تھا۔۔ کچھ دیر کی پریشانی کے بعد پڑوسی کا بیٹا ہاتھوں میں دستانے پہن کر پنجرے کی طرف لپکا ۔سب سے پہلے تو خونخوار جوڑے کوعلیحدہ کیا گیا ۔ پھر باقی بچوں کی طرف توجہ کی گئی۔ ان کے زخم پر مرہم رکھاگیا۔اس دوران ہم نے پرندوں کی ماہر سمیرا ابراہیم سے رابطہ کرلیاتھا۔تھوڑی دیر میں وہ آ پہنچیں۔ انہوں نے محبت اور پیا رسے ان کی ٹکور کی ۔معصوموں کی چونچیں اس حملے میں توڑ دی گئیں ۔ اب کیسے کھلایا جائے گا ؟ ماں تو پہلے ہی پنجرے میں نہیں ہے؟ ہم سب پریشان تھے۔ خیر وہ ان زخمی بچوں اور ان کے باپ کو اپنے ہمراہ لے گئیں اور ہمارا پنجرہ خالی ہو گیا۔ ابھی تک وہ بچے زندہ ہیں دعا کریں کہ خیریت رہے اگر چہ امید کم ہے ۔( جسے اللہ رکھے اسے کون مارے؟ وہ کافی بہتر ہوگئے تھے)
عزیز قارئین! ، یہاں پر اس بلاگ کا خاتمہ ہو جا نا تھا۔ مگر کچھ باتیں اس واقعے سے سامنے آئیں ان کا ذکر کرتے ہیں ! یعنی کہ ان جوڑوں کو الگ الگ رکھنا تھا۔ جی ہاں ! دونوں جوڑوں کو الگ الگ رکھنا تھا۔غلطی ضرورہوئی لیکن پچھلے چند ماہ سے وہ اتنے خوشگوار ماحول میں تھے کہ ضرورت ہی نہ محسوس ہوئی۔ لیکن اس بات سے آگہی کے نئے در کھلے ۔
 جی ہاں! اس حیوانی جبلت کا اندازہ ہوا جو انسان میں بھی من و عن موجود ہے یعنی حسد کا جذبہ ! قرآن میں ہابیل و قابیل کے واقعے میں یہ جبلت بھائی کا قتل کرتی ہے تو حضرت یوسف کے قصے میں کنوئیں میں پھینکتی نظر آ تی ہے۔ اور آج کے دور میں حسد کی کارستانی بابوں اور عاملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور قتل و خود کشی کے واقعات سے عیاں ہے۔ کیا اس کے حل کے لیے کوئی بات ہے آپ کے پاس؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭    فر حت طاہر     ٭٭٭                                                       

اتوار، 12 مارچ، 2017

تنہا آج بھی تنہا ہے !


          تنہا 

            
    برسوں پہلے اشتہار دیکھا  کہ سلمیٰ اعوان کا     ناول  " تنہا  " شائع ہو گیا ہے۔ ناول پڑھنے کا شوق اپنی جگہ مگر اس کی طلب اور چاہ  مزید بڑھ گئی جب معلوم ہوا کہ ناول سابقہ مشرقی پاکستان کے منظر میں لکھا گیا ہے ! وجہ ؟   بچپن کی یادوں میں مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننے کا واقعہ جیسے ذاتی غم کی طرح موجودہے ۔ مگر کیوں اور کیسے کے جوابات  میں تشنگی تھی۔ اس ناول میں ضرور اس سے پردہ اٹھے گاکیونکہ اس کا انتساب ہی موضوع کا احا طہ کررہا ہے :

 اس ناول کی دستیابی  ایک جستجو ہے جو ہر بڑے چھوٹے کتب میلے میں ناکامی سے دوچار ہوتی ہے ۔ شکر ہے کہ ماہ فروری میں ہونے والے کتب میلہ میں بالآخر دستیاب ہوگئی ۔اگرچہ دو ہفتے پہلے آن لائن اس کتاب کو پڑھ چکے تھے مگر کتابی شکل میں پڑھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے !  یہ ناول ہماری پہنچ سے کیوں دور رہا ؟  اس سوال کا جواب  اسی ناول کے ابتدائیہ میں مصنفہ کی زبانی ملتا ہے.:





سلمیٰ اعوان کی خصوصیت سفر نامے ہیں لہذا اس ناول میں اس کا رنگ خوب نظر آتا ہے۔ اس میں ناول کے تمام اجزاء نہایت چابک دستی اور مہارت سے استعمال کیے گئے ہیں ۔ یہ ناول خوبصور ت انسانی جذبات کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے۔ جغرافیہ کی دلچسپی ، قدرتی مناظر کا شاہکار ، ثقافت کے تمام رنگ خواہ عید ہو یا رمضان ، شادی ہو یا جنم دن ، موسموں کے تہوار ہوں یا مادری زبان  کا دن ۔سب کی جھلک نظر آتی ہے۔مشرقی پاکستان کی زندگی کے ہر گوشے سے آگہی ملتی ہے ۔جذبات نگاری ، منظر نگاری ، کردار نگاری سے بھر پور یہ ناول بنگال کے چپے چپے سے روشناس کراتا ہے ۔

ناول کی ہیروئین سمعیہ علی عرف سومی ایک نڈر ، پر تجسس ، اور فعال لڑکی ہے جس کی پرورش والدین کی وفات کے بعد دادی ، چچا نے کی ہے۔ چچا فوج میں ہیں جن کے بنگال سے تعلق رکھنے والے دوست کاان کے  گھرآنا جا نا ہے  ۔ننھی سومی ان سے بہت مانوس ہے اور وہ بھی اسے بہت پیار کرتے ہیں ۔ بڑے ہوکر بنگال کی کشش اسےوہاں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس کی ضد کے آگے چچا ، دادی اور بھائی بھابی نے ہتھیار ڈال دیے  اور وہ    ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخلہ لینے وہاں پہنچتی ہے تو چچا کے دوست کے بھائی اس کے مقامی سر پرست مقرر ہوتے ہیں ۔اگرچہ وہ ہاسٹل میں مقیم ہے مگراس  گھرانے کی محبت اور اپنائیت اسے اپنی سحر میں جکڑے رہتی ہے ۔یہ  گھر جہاں چار بیٹے ہیں بیٹی کا شدت سے متمنی ہے لہذا اس کی خوب آؤ بھگت ہوتی ہے ماسوائے سب سے بڑے بیٹے اجتبٰی الرحمٰن ( شلپی ) کے ! 

شلپی اس ناول کا مرکزی کردار ہے جس نے ایک بچے کی حیثیت سےجوش و خروش سے قیام  پاکستان میں حصہ لیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جذباتیت میں کمی آتی گئی خصوصا جب اس نے اپنے دادا جو ایک عالم دین تھے کو زبان کے مسئلے پر قائد کے فرمان پر آزردہ دیکھا ۔



پھر سیلاب میں سامان زیست کے ساتھ ساتھ قیمتی خزانہ کتب کا دریا برد ہوجانے پردادا نے  زندگی کی بازی ہار دی۔ امداد کے لیے اداروں کے پاس ایک نوعمر لڑکے کی حیثیت سے جاتا ہے تو ان کی تحقیر آمیز رویے نے اس کے اندر آگ بھر دی جسے ہندونواز عصبیت ذہنیت اور افراد نے اچھی طرح اپنی طرف مائل کرلیا ۔اور یوں وہ ایک قوم پرست ہیرو بن گیا ۔ 
ہزاروں نوجوانوں کے دل کی دھڑ کن ہونے کے باوجود اس کے اپنی دل کی سلطنت  بالکل خالی ہے اور اتفاق سے سومی جس کو دیکھ کر اس نے پہلے ناگواری کا اظہار کیا تھا آہستہ سے اس کے دل پر قابض ہو جاتی ہے ۔یہاں سےجذبوں کی کشمکش شروع ہوتی ہے ۔ درمیان میں کچھ بھی رکاوٹ  نہیں ہے ماسوائے نظر یا تی اختلاف کےیہ وہ وقت ہے جب تعصب کی آندھیاں عروج پر پہنچ چکی تھیں:



اس موقع پر سومی کے سامنے بھی فیصلہ کن لمحہ آیا کہ اسے کسی نہ کسی سیاسی پلڑے میں اپنا وزن ڈالنا ہے تو باوجود اپنے رہن سہن اورمزاج کے برخلاف جمیعت طلبہ جیسی نظریا تی پارٹی کا حصہ بن جاتی ہے:
 

سومی بظاہر  ایک لاپرواہ ،اپنی دلچسپیوں میں مگن سی لڑ کی ہے مگر جب بنگال کے لوگوں کے بدلتے تیور اور دلشکن رویہ دیکھتی ہے تو پاکستان کی سلامتی کے لیے یکسو ہوجاتی ہے ۔ملک کے مغربی حصے اور ان کے افراد کے خلاف بغض، نفرت کے تیر ، طعنوں کی بوچھاڑ اس کے دل کو چھلنی کردیتے ہیں اس وقت وہ نظریہ پاکستان اور قیام پاکستان میں بنگال کے کردار کو یاد کر کے خوب آزردہ ہوتی ہے :


     
 کہانی اس مرحلے میں پہنچتی ہے کہ کشمکش کے باعث سومی بیمار پڑ جاتی ہے ۔ اور اسی دوران دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر شلپی اسے شادی کا پیغام دیتا ہے جس کو وہ فورا رد کردیتی ہے مگر بعد میں منفی سر گرمیوں چھوڑ دینے سے مشروط کردیتی ہے جس کے جواب میں شلپی اسے بذریعہ خط اپنے فیصلے سے آگاہ کرتا ہے جس میں اپنے عمل کو ردعمل کا شاخسانہ گردانتا ہے :

یہ خط اسے  مزیدمضمحل کرنے باعث بن جا تا ہے ۔ دوسری طرف سومی کی مثبت سیاسی اور ثقافتی                 سر گر میاں ہندو اور علیحدگی پسندکے لیے ناقابل بر داشت ہوجاتی ہیں اور وہ اس کے اغوا کا منصوبہ بناتے ہیں ۔اس انکشاف کے بعد شلپی اپنے پارٹی ورکرز کو اس کی حفاظت پر لگا دیتا ہے اور اپنے والدین کے ذریعے سومی پر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ مشرقی پاکستان چھوڑ دے پہلے تو وہ بپھر جاتی ہے مگر پھر یہ دیکھ کر کہ یہ بات اس کے اتنے چاہنے والوں کے لیے وجہ پریشانی بن رہی ہے بادل ناخواستہ واپسی کا رخت سفر باندھ لیتی ہے۔ سرپرست کے بلاوے پر  اس کا بھائی لاہور سے اسے لینے پہنچ جا تا ہے ۔ رخصت ہونے سے قبل شلپی اور سومی کے درمیان مکالمہ اس کرب کا اظہار ہے جو مشرقی بازو کی جدائی پر رگ و پے میں اتر گیا تھا ٍ


     
۔۔۔اور ناول کے اختتام پر  اجتبٰی الرحمان (شلپی)  ماں کے شانوں پر سر رکھ کر بھرائی ہوئے آواز میں کہتا ہے
                   "     ۔ماں ! دیکھو تو ذرا باہر ۔ڈھاکہ تو اجڑا اجڑا لگتا ہے ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ناول ہو یا ڈرامہ اگرحقیقی واقعات سے کشید کیا جائے تودلچسپی کے ساتھ ساتھ تعلق بھی اپنے اندر سموئے ہوتے ہیں اور شاید اسی لیے زیادہ موءثر ہوتے ہیں ۔ احساسات کا ایک طوفان ہے جو امڈتا ہے قاری کو ڈبونے کے لیے اور پھر آنکھوں سے ٹپک جا تا ہے !
اس کی ایک مثال ٹی وی ڈرامہ دھواں ہے !اس میں  ڈاکٹر داؤدکا قتل ہو جاتا ہے !اس کے بعد مصنف نے اپنے انٹر ویو میں  بتا یا کہ ایک لڑکی نے مجھے فون کیا اور بیس منٹ تک روتی رہی کہ کسی اور کو کیوں نہیںمروادیا ؟ اور یہ ہی بات اس ڈرامے کو دیکھنے والی تیسری نسل میں سے ایک بچی  نے کہی اور دشمن سے لڑنے کا عزم کیا ! 
یہ ناول آگ اور خون کی وہ کہانی ہے جو قوم پرستی کے ہاتھوں لگائی گئی اور نفرتوں کے شعلے سے بھڑکائی گئی ۔ 
آہ شلپی!تمہیں اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو تو آئی مگر اپنے اسلاف کی کوئی جھلک تمہیں یاد نہ رہی ؟ تم  نے اپنے  اندر  موجودکردار کی  پختگی ، جذبات کا ٹھہراؤ، الفاظ کی نر می  سب کچھ اس قومیت کے دھارے میں بہا ڈالا !
کاش تم اپنے عالم دین داد ا کے نام کی لاج رکھ لیتے !   
اپنے محب وطن چچا کی وفاداری کو دھبہ نہ بنا تے!
اپنے والدین کو ایک بیٹی کی خوشی سے محروم نہ کرتے ! 
اپنے  چھو ٹےبھائیوں کی پیاری سومی آپا کو جدا نہ کرتے ! 
اپنی زندگی اور محبت کو عصبیت کے منہ زور گھوڑے پر قربان نہ کرتے !
آہ ! تمہاری نفرت کی سیاست کی وجہ سے ارسلان اور اقبال جیسے نوجون جو اس وقت بچ گئے تھے آج  پھانسیوں پر جھول رہے ہیں !یکجائی کے لیے لڑنے والی اس جدوجہد کی سزا آج تک وصول کرہے ہیں !آہ تم نے نہ جانے کس کس کو تنہا کردیا ؟
بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ سقوط ڈھاکہ پرانی بات ہو گئی ہے ! آگے بڑھنا چاہیے !یہ  کیسے ممکن ہے ؟ ماضی اور تاریخ تو وہ آئینہ ہے جس سے مستقبل کے خد و خال سنوارے جاتے ہیں ۔اور وہ کہانیاں جو آج بھی دہرائی جا رہی ہیں جب تک ان کا سرورق تبدیل نہیں ہوتا  تنہا  جیسے ناول ہمیں بے چین کرتے رہیں گے !! 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فر حت طاہر