اتوار، 12 مارچ، 2017

تنہا آج بھی تنہا ہے !


          تنہا 

            
    برسوں پہلے اشتہار دیکھا  کہ سلمیٰ اعوان کا     ناول  " تنہا  " شائع ہو گیا ہے۔ ناول پڑھنے کا شوق اپنی جگہ مگر اس کی طلب اور چاہ  مزید بڑھ گئی جب معلوم ہوا کہ ناول سابقہ مشرقی پاکستان کے منظر میں لکھا گیا ہے ! وجہ ؟   بچپن کی یادوں میں مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننے کا واقعہ جیسے ذاتی غم کی طرح موجودہے ۔ مگر کیوں اور کیسے کے جوابات  میں تشنگی تھی۔ اس ناول میں ضرور اس سے پردہ اٹھے گاکیونکہ اس کا انتساب ہی موضوع کا احا طہ کررہا ہے :

 اس ناول کی دستیابی  ایک جستجو ہے جو ہر بڑے چھوٹے کتب میلے میں ناکامی سے دوچار ہوتی ہے ۔ شکر ہے کہ ماہ فروری میں ہونے والے کتب میلہ میں بالآخر دستیاب ہوگئی ۔اگرچہ دو ہفتے پہلے آن لائن اس کتاب کو پڑھ چکے تھے مگر کتابی شکل میں پڑھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے !  یہ ناول ہماری پہنچ سے کیوں دور رہا ؟  اس سوال کا جواب  اسی ناول کے ابتدائیہ میں مصنفہ کی زبانی ملتا ہے.:





سلمیٰ اعوان کی خصوصیت سفر نامے ہیں لہذا اس ناول میں اس کا رنگ خوب نظر آتا ہے۔ اس میں ناول کے تمام اجزاء نہایت چابک دستی اور مہارت سے استعمال کیے گئے ہیں ۔ یہ ناول خوبصور ت انسانی جذبات کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے۔ جغرافیہ کی دلچسپی ، قدرتی مناظر کا شاہکار ، ثقافت کے تمام رنگ خواہ عید ہو یا رمضان ، شادی ہو یا جنم دن ، موسموں کے تہوار ہوں یا مادری زبان  کا دن ۔سب کی جھلک نظر آتی ہے۔مشرقی پاکستان کی زندگی کے ہر گوشے سے آگہی ملتی ہے ۔جذبات نگاری ، منظر نگاری ، کردار نگاری سے بھر پور یہ ناول بنگال کے چپے چپے سے روشناس کراتا ہے ۔

ناول کی ہیروئین سمعیہ علی عرف سومی ایک نڈر ، پر تجسس ، اور فعال لڑکی ہے جس کی پرورش والدین کی وفات کے بعد دادی ، چچا نے کی ہے۔ چچا فوج میں ہیں جن کے بنگال سے تعلق رکھنے والے دوست کاان کے  گھرآنا جا نا ہے  ۔ننھی سومی ان سے بہت مانوس ہے اور وہ بھی اسے بہت پیار کرتے ہیں ۔ بڑے ہوکر بنگال کی کشش اسےوہاں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس کی ضد کے آگے چچا ، دادی اور بھائی بھابی نے ہتھیار ڈال دیے  اور وہ    ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخلہ لینے وہاں پہنچتی ہے تو چچا کے دوست کے بھائی اس کے مقامی سر پرست مقرر ہوتے ہیں ۔اگرچہ وہ ہاسٹل میں مقیم ہے مگراس  گھرانے کی محبت اور اپنائیت اسے اپنی سحر میں جکڑے رہتی ہے ۔یہ  گھر جہاں چار بیٹے ہیں بیٹی کا شدت سے متمنی ہے لہذا اس کی خوب آؤ بھگت ہوتی ہے ماسوائے سب سے بڑے بیٹے اجتبٰی الرحمٰن ( شلپی ) کے ! 

شلپی اس ناول کا مرکزی کردار ہے جس نے ایک بچے کی حیثیت سےجوش و خروش سے قیام  پاکستان میں حصہ لیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جذباتیت میں کمی آتی گئی خصوصا جب اس نے اپنے دادا جو ایک عالم دین تھے کو زبان کے مسئلے پر قائد کے فرمان پر آزردہ دیکھا ۔



پھر سیلاب میں سامان زیست کے ساتھ ساتھ قیمتی خزانہ کتب کا دریا برد ہوجانے پردادا نے  زندگی کی بازی ہار دی۔ امداد کے لیے اداروں کے پاس ایک نوعمر لڑکے کی حیثیت سے جاتا ہے تو ان کی تحقیر آمیز رویے نے اس کے اندر آگ بھر دی جسے ہندونواز عصبیت ذہنیت اور افراد نے اچھی طرح اپنی طرف مائل کرلیا ۔اور یوں وہ ایک قوم پرست ہیرو بن گیا ۔ 
ہزاروں نوجوانوں کے دل کی دھڑ کن ہونے کے باوجود اس کے اپنی دل کی سلطنت  بالکل خالی ہے اور اتفاق سے سومی جس کو دیکھ کر اس نے پہلے ناگواری کا اظہار کیا تھا آہستہ سے اس کے دل پر قابض ہو جاتی ہے ۔یہاں سےجذبوں کی کشمکش شروع ہوتی ہے ۔ درمیان میں کچھ بھی رکاوٹ  نہیں ہے ماسوائے نظر یا تی اختلاف کےیہ وہ وقت ہے جب تعصب کی آندھیاں عروج پر پہنچ چکی تھیں:



اس موقع پر سومی کے سامنے بھی فیصلہ کن لمحہ آیا کہ اسے کسی نہ کسی سیاسی پلڑے میں اپنا وزن ڈالنا ہے تو باوجود اپنے رہن سہن اورمزاج کے برخلاف جمیعت طلبہ جیسی نظریا تی پارٹی کا حصہ بن جاتی ہے:
 

سومی بظاہر  ایک لاپرواہ ،اپنی دلچسپیوں میں مگن سی لڑ کی ہے مگر جب بنگال کے لوگوں کے بدلتے تیور اور دلشکن رویہ دیکھتی ہے تو پاکستان کی سلامتی کے لیے یکسو ہوجاتی ہے ۔ملک کے مغربی حصے اور ان کے افراد کے خلاف بغض، نفرت کے تیر ، طعنوں کی بوچھاڑ اس کے دل کو چھلنی کردیتے ہیں اس وقت وہ نظریہ پاکستان اور قیام پاکستان میں بنگال کے کردار کو یاد کر کے خوب آزردہ ہوتی ہے :


     
 کہانی اس مرحلے میں پہنچتی ہے کہ کشمکش کے باعث سومی بیمار پڑ جاتی ہے ۔ اور اسی دوران دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر شلپی اسے شادی کا پیغام دیتا ہے جس کو وہ فورا رد کردیتی ہے مگر بعد میں منفی سر گرمیوں چھوڑ دینے سے مشروط کردیتی ہے جس کے جواب میں شلپی اسے بذریعہ خط اپنے فیصلے سے آگاہ کرتا ہے جس میں اپنے عمل کو ردعمل کا شاخسانہ گردانتا ہے :

یہ خط اسے  مزیدمضمحل کرنے باعث بن جا تا ہے ۔ دوسری طرف سومی کی مثبت سیاسی اور ثقافتی                 سر گر میاں ہندو اور علیحدگی پسندکے لیے ناقابل بر داشت ہوجاتی ہیں اور وہ اس کے اغوا کا منصوبہ بناتے ہیں ۔اس انکشاف کے بعد شلپی اپنے پارٹی ورکرز کو اس کی حفاظت پر لگا دیتا ہے اور اپنے والدین کے ذریعے سومی پر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ مشرقی پاکستان چھوڑ دے پہلے تو وہ بپھر جاتی ہے مگر پھر یہ دیکھ کر کہ یہ بات اس کے اتنے چاہنے والوں کے لیے وجہ پریشانی بن رہی ہے بادل ناخواستہ واپسی کا رخت سفر باندھ لیتی ہے۔ سرپرست کے بلاوے پر  اس کا بھائی لاہور سے اسے لینے پہنچ جا تا ہے ۔ رخصت ہونے سے قبل شلپی اور سومی کے درمیان مکالمہ اس کرب کا اظہار ہے جو مشرقی بازو کی جدائی پر رگ و پے میں اتر گیا تھا ٍ


     
۔۔۔اور ناول کے اختتام پر  اجتبٰی الرحمان (شلپی)  ماں کے شانوں پر سر رکھ کر بھرائی ہوئے آواز میں کہتا ہے
                   "     ۔ماں ! دیکھو تو ذرا باہر ۔ڈھاکہ تو اجڑا اجڑا لگتا ہے ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ناول ہو یا ڈرامہ اگرحقیقی واقعات سے کشید کیا جائے تودلچسپی کے ساتھ ساتھ تعلق بھی اپنے اندر سموئے ہوتے ہیں اور شاید اسی لیے زیادہ موءثر ہوتے ہیں ۔ احساسات کا ایک طوفان ہے جو امڈتا ہے قاری کو ڈبونے کے لیے اور پھر آنکھوں سے ٹپک جا تا ہے !
اس کی ایک مثال ٹی وی ڈرامہ دھواں ہے !اس میں  ڈاکٹر داؤدکا قتل ہو جاتا ہے !اس کے بعد مصنف نے اپنے انٹر ویو میں  بتا یا کہ ایک لڑکی نے مجھے فون کیا اور بیس منٹ تک روتی رہی کہ کسی اور کو کیوں نہیںمروادیا ؟ اور یہ ہی بات اس ڈرامے کو دیکھنے والی تیسری نسل میں سے ایک بچی  نے کہی اور دشمن سے لڑنے کا عزم کیا ! 
یہ ناول آگ اور خون کی وہ کہانی ہے جو قوم پرستی کے ہاتھوں لگائی گئی اور نفرتوں کے شعلے سے بھڑکائی گئی ۔ 
آہ شلپی!تمہیں اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی بو تو آئی مگر اپنے اسلاف کی کوئی جھلک تمہیں یاد نہ رہی ؟ تم  نے اپنے  اندر  موجودکردار کی  پختگی ، جذبات کا ٹھہراؤ، الفاظ کی نر می  سب کچھ اس قومیت کے دھارے میں بہا ڈالا !
کاش تم اپنے عالم دین داد ا کے نام کی لاج رکھ لیتے !   
اپنے محب وطن چچا کی وفاداری کو دھبہ نہ بنا تے!
اپنے والدین کو ایک بیٹی کی خوشی سے محروم نہ کرتے ! 
اپنے  چھو ٹےبھائیوں کی پیاری سومی آپا کو جدا نہ کرتے ! 
اپنی زندگی اور محبت کو عصبیت کے منہ زور گھوڑے پر قربان نہ کرتے !
آہ ! تمہاری نفرت کی سیاست کی وجہ سے ارسلان اور اقبال جیسے نوجون جو اس وقت بچ گئے تھے آج  پھانسیوں پر جھول رہے ہیں !یکجائی کے لیے لڑنے والی اس جدوجہد کی سزا آج تک وصول کرہے ہیں !آہ تم نے نہ جانے کس کس کو تنہا کردیا ؟
بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ سقوط ڈھاکہ پرانی بات ہو گئی ہے ! آگے بڑھنا چاہیے !یہ  کیسے ممکن ہے ؟ ماضی اور تاریخ تو وہ آئینہ ہے جس سے مستقبل کے خد و خال سنوارے جاتے ہیں ۔اور وہ کہانیاں جو آج بھی دہرائی جا رہی ہیں جب تک ان کا سرورق تبدیل نہیں ہوتا  تنہا  جیسے ناول ہمیں بے چین کرتے رہیں گے !! 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فر حت طاہر



سوموار، 27 فروری، 2017

جمنازیم میں کتب میلہ

           جمنازیم میں لگنے والے  کتب میلے میں پہلی دفعہ کب شر کت کی ؟ یاد نہیں ! ہاں مگرالماری میں رکھی  وہا ں سے خریدی گئی کچھ کتب پر لکھی تاریخ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے تعلیمی دور سے ہی وہاں کا دورہ کرتے رہے ہیں ! ان تاریخی کتب میں کچھ تو ہماری تدریسی بنیادی کتب تھیں اور کچھ دستکاری کی کتب جو ہم نے اپنی والدہ کے لیے وہاں سے خریدی تھیں ۔                           
 کتب دوستی کی ایک روایت جس کی امین برسوں سے اسلامی  جمیعت  طلبہ ہے ۔حسب معمول    فروری 2009 ء میں  اس کا انعقاد ہوا جس کی خبر اخبار میں پڑھ کر ہماری والدہ نے ہمیں وہاں جانے کی ہدایت کی ۔ ظاہر ہے ماں کا شوق ہی ہوتا ہے جوبچوں میں منتقل ہوتا ہے  !یہ وہ وقت تھا جب گھر میں مصروفیت عروج پرتھی۔اگلے ماہ بھائی کی شادی اور اس میں شرکت کے لیے باہر سے آنے والےمہمانوں کے لیے رہائشی انتظا مات کو حتمی شکل دی جارہی تھی ۔ ایسے میں امی کا یہ مطالبہ سخت شاق گزرا چنانچہ ہم اس پر عمل درآمدنہ کرسکے۔ انہوں نے اصرار نہ کیا اور خاموش ہوگئیں  جس کا ملال ہمیں تازندگی رہے گا کیونکہ یہ ان کی آخری فرمائش تھی ( چند ماہ بیمار رہ کر وہ ماہ جون میں انتقال کر گئیں )اور یہ افسوس اور گہرا ہوا جب کئی سال تک ہم مختلف وجوہ کے باعث کتب میلے میں  شرکت سے محروم رہے۔
خیر اس کی تلافی کے لیے ہم بہنیں اس میں بھرپور شرکت کرتے ہیں ۔ اس سال بھی کچھ ایسا ہی ارادہ تھا۔ گھر کے بچے بھی اس میں شامل ہونے کی ضد کرنے لگے ۔ان کی بات بجا تھی کہ وہ ایکسپو میں ہونے والے عالمی کتب میلے میں وہ سڑک کی تعمیر کے رش کی وجہ سے نہ جاسکے تھے ۔ چونکہ یہ میلہ طلبہ کے لیے ہوتا ہے لہذا ان کی سہولت کے لیے  دوران ہفتہ ہی  منعقد ہوتا ہے اور اسکولوں میں پڑھائی زوروں پر ہےلہذا آپ لوگ تو شرکت نہیں کر پاؤ گے ! ہم نے بچوں کو دلاسہ دیا کہ آئندہ سہی ! مگر بچے دھن کے پکے !                                                                               
7 /فروری کی صبح ہماری بھانجی کا فون آیا کہ ہم کتب میلے میں شرکت کے لیے آرہے ہیں ! یاحیرت؟آج تو افتتاح ہی ہے رش ہوگا اور  امتحان اتنے قریب ہیں تیاری؟ پتہ چلا کہ کل ٹسٹ ہے اور پرسوں اسپورٹس ! لہذا بچے آج ہی کے دن چھٹی کر سکتے ہیں۔آج کل بچوں کے شیڈول کے مطابق پروگرام بنتے ہیں لہذا ہمیں بھی راضی ہونا پڑا ۔ ان کی سواری پہنچی تو مختصر سے کھانے کے بعد ہم سب یونیورسٹی جانے کے لیے تیار تھے۔ یونیورسٹی روڈ پر تعمیراتی کام جاری ہے اور اس پر سفرکرنا  کار محال ہے ! بڑے بڑے مٹی کے ڈھیر اور اطراف میں کھدے ہوئے گڑھے! پل صراط کا منظر ذہن میں آ گیا ۔                                                                                             
خیر منزلیں طے کرتے جمنا زیم میں پہنچے تو خلاف توقع کم رش نظر آیا ۔پچھلے تجربات کی روشنی میں ہم نے ہاتھ میں صرف والیٹ اور موبائیل ہی رکھا تھا ۔وجہ ؟ واپسی میں بیگ کے لیے وقت بچانا تھا ۔ بیگز کے اسٹال پر رش دیکھ کر اپنے اس فیصلے پر خود کو  داد دی۔                                            
" کتب میلے میں تو خواتین جاتی ہیں کیونکہ ان کو ناولز خریدنے ہوتے ہیں ،،،"
 نہ جانے کس دل جلے شخص کا یہ جملہ ہمیں لڑکیوں کو دھڑا دھڑ عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کےاپنے وزن کے برابر ضخیم  ناول خریدتے دیکھ کر یاد آیا اور مسکرا اٹھے ۔                                              
بہت بڑے وفد کے ساتھ خریداری ممکن نہیں ہوتی کہ ایک دوسرے کی پسند کو تنقید کا نشانہ بنا کر سودا واپس کر دیا جاتا ہے ۔ اس چکر میں اسٹال سے اسٹال گھوم رہے تھے ۔چینلز سے بچنا بھی ضروری تھا کہ وہ ہمارا شعبہ پوچھ بیٹھتے اور بچے بھی ہمارے ساتھ  تھےجو اس ماحول میں اجنبی سی بات تھی۔                                                                                                                          
خیر کچھ نہ کچھ  کتابیں لے ہی لی گئیں ۔ کچھ کی قیمتیں نوٹ کر کے فرمائشیں بھی کر دی گئیں ۔جمنازیم  کے شمالی کونے میں اسٹیج سجا تھا جہاں سے مستقل اعلانات ہورہے تھے ۔خاص طور پر کسی اہم شخصیت یا استاذ کی آمد پر خوش آمدید اور اور استقبال ! جمنازیم سے باہر بھی اسٹالز تھے بلکہ  بچوں کی دلچسپی کی بہت چیزیں یہیں تھیں جن کو دیکھ کر یوسف کا موڈ کچھ بحال ہوا اور بیزاری  خوش دلی میں بدل گئی جب اس نے کچھ خریداری کر لی اوراس وقت تو اس کی خوشی دیدنی تھی جب اس نے چاول کے دانے پر اپنا نام لکھوانے کاآڈر دیا   ۔ مسئلہ یہ تھا کہ یہ آخری اسٹال تھااور ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے تھے چنانچہ یہ طے پایا کہ کل لے لیا جائے گا ۔                                  اگلے دن ہم تنہا کتب میلے پہنچ گئے۔ اپنی لائبریری کے لیے کچھ لازمی کتب لینی تھیں ۔اس کے علاوہ چاول کا دانہ لینا تھا جس کے لیے یوسف نے کئی دفعہ یاد دہانی کروائی ساتھ ساتھ گوریلا فائٹر دوم لینے کی بھی تاکید تھی ۔ آج رش زیادہ تھا۔ لڑکیوں کےجلو میں جمنازیم کے تنگ سے دروازے کے ذریعے ہم اندر جاپہنچے۔ اہم شخصیات اسٹیج کی رونق بنے ہوئے تھے۔ رش کی وجہ سمجھ آ گئی ۔ ہم نے جلدی جلدی اپنی مطلوبہ کتب لیں ۔ سب سے زیادہ خوشی سلمیٰ اعوان کے سقوط ڈھاکہ کے پس منظرمیں لکھے ناول تنہا  کو پاکر ہوئی ۔ نہ جانے کتنے سالوں سے اس کی تلاش تھی حالانکہ آن لائن پڑھ چکے تھے مگر ہاتھ میں لے کر پڑھنے کی بات ہی کچھ اور ہے اس کے علاوہ صدیق سالک کی ہمہ یاران دوزخ اگر چہ کئی دفعہ پڑھی ہوئی ہے مگر اپنی الماری میں ہونے کی بات ہی کچھ اور ہے ۔اسی طرح بنات النعش ڈپٹی نذیر احمد کا وہ ناول جس میں اصغری کے مدرسے کا حال بتا یا گیا ہے ( ہوم اسکولنگ کے حوالے سے آج بھی اس کی اہمیت ہے ) ۔ ٹالسٹائی کے ناولٹ کا مجموعہ دل کڑا کر کے لے ہی لیا ۔اس کے علاوہ بھی اور کتب لیں مگر ایک کتاب جس کو خرید کر افسوس ہوا وہ جاپانی ناول کا تر جمہ کچن ہے ۔ ادب کے نام پر ایک معاشرے کی گند جو بظاہر خوبصورت جذبات میں ملفوف ہے ۔                                                                                                       
تو یہ تھی  جمنازیم میں کتب میلہ کی روداد! اللہ اس  رونق کو ہمیشہ دائم رکھے ! آنے والی نسلیں اس تابندہ روایت کو آگے بڑھانے والی ہوں ۔ آمین            


ہفتہ، 31 دسمبر، 2016

بچے ہمارے عہد کے






          جگنو کو دن میں پرکھنے کی ضد کریں
           بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے

مرحومہ پروین شاکر نے یہ شعر نہ جانے کس عمر کے بچوں کے لیے کہا تھا مگر یہ بات طے ہے کہ یہ بچے پچھلی صدی کے تھے کیونکہ آج کے بچے اس قسم کی کوئی نا معقول ضد یا بحث نہیں کرتے وہ تو صرف آپ سے انٹر نیٹ کا پاس ورڈ پوچھتے ہیں اور مطلوبہ معلومات خود حا صل کرلیتے ہیں۔پچھلی نسل کے پاس لے دے کے ایک لغت ہوتی تھی جس سے حتی المقدور مستفید ہوتے تھے۔ایک دفعہ کامکس پڑھتے ہوئے یوم ویلنٹائن کا ذکر آیا تو ہماری سوئی اٹک سی گئی۔پہلے تو اپنے سے بڑوں سے پوچھا۔انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کیا کرتے بے چارے!   آ ج کا دور تھوڑی تھا کہ پیدائشی بچے سے لے کر قبر میں پاؤں لٹکائے بزرگ تک اس لفظ کی جزئیات سے واقف ہوں خیر ہم نے لغت کی مدد سے معنی تو معلوم کر لیے تھے مگر سچ پوچھیں تو اس کی تفہیم بیان کرنے سے ہنوز قاصر ہیں کہ شرم سے زبان گنگ ہوجاتی ہے!  اب آپ یہ مت سمجھئے گا کہ ہم نئی اور پرانی نسل کا کوئی موازنہ پیش کر رہے ہیں ...بس کچھ باتیں ہیں جو سپرد قلم کرنا چاہ رہے ہیں! اس سے پہلے ایک اور نسل سامنے آجائے اور ہم مزید قدیم ہوجائیں۔

آج کا دور چائلڈ سنٹرڈ (بچوں کے گرد)ہے۔اس حوالے سے بچوں کی نفسیات کے ماہرین کھمبی کی طرح دستیاب ہیں۔حالانکہ اس میں ڈگری کا کیا کمال؟ جس طرح ہر فرد آپ بیتی لکھ سکتا ہے کہ کچھ نہ کچھ اس نے زندگی گزاری ہی ہوتی ہے اور اس مفروضے کے عین مطا بق ہر فرد بچپن گزار چکا ہے تو اس کی بابت اپنے تجربے بیان کر سکتا ہے اور اس کی روشنی میں بچوں سے معاملہ کرسکتا ہے۔ بہر حال سارے مفکرین کا کہنا ہے کہ بچہ ہر حال میں درست ہے یعنی سارا قصور اسے برتنے والوں کا ہے!جو جگ کی رائے وہ ہماری مگر کیا ہو کہ آج کے دور میں ایسے بھی لوگ ہیں جن کا کہنا ہے کہ بچے کی کوئی عزت وززت(عزت نفس) نہیں ہوتی جہاں بد تمیزی کرے وہیں ٹھونک دیں! بڑوں خصوصا والدین کو سو فی صد حق حاصل ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ مشہور دانشور اشفاق احمد کی بھی یہ ہی رائے ہے!
ارے آپ نے وہ واقعہ نہیں سنا؟ ایک دفعہ اشفاق صاحب  اٹلی میں کسی اداکارہ /گلوکارہ کے گھرمدعو تھے جو بچے کو کسی بھی حالت میں نہ مارنے کے فلسفے پر یقین رکھتی تھی۔ چائے کی میز پر وہ اپنے بچے کے ساتھ موجود تھی اور اس کی ہر بد تمیزی کو ہنس ہنس کر نظر انداز کرتے ہوئے اس سے بڑے میٹھے لہجے میں مخاطب تھی۔تھوڑی دیر میں کسی کا فون سننے  وہ کمرے سے باہر چلی گئی۔بچے نے اکیلے پاکر اشفاق احمد سے مہابد تمیزی شروع کردی۔ان کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔انہوں نے اسے تھپڑ سے نوازا اور کچھ ناگفتنی سنائی۔ بچہ سہم کر مؤ دب بیٹھ گیا۔ ماں پلٹ کر آئی تو اشفاق صاحب سے اپنے طریقہ پرورش پر داد چاہی کہ دیکھیں جناب میری حکمت عملی کتنی کامیاب ہے؟ور وہ دل میں بہت محظوظ ہوئے۔ ہر ایک کے لیے اپنی رائے معتبر ہوتی ہے لہذا وہ اس کا جواز ڈھونڈہی لیتا ہے۔
ہماری ایک دوست نے یہ واقعہ سناکراس کی تصدیق بھی فرمائی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی چوتھی جماعت میں زیر تعلیم بچی کوحساب کے پہاڑے یاد کروارہی تھیں جو وہ کسی طرح نہ کررہی تھی۔اس کا جواز تھا کہ میں فارمولے کے تحت ضرب تقسیم کے سوال حل کرلوں گی یاد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس بحث کا اختتام ہماری دوست نے اپنے مادرانہ حقوق استعمال کرتے ہوئے دو ہتڑ لگا کر کیا۔ نتیجہ؟ سارے پہاڑے فر فر یاد ہوگئے۔ اب آپ یہ نہ سمجھیں کہ ہماری دوست کا یہ ظالمانہ قدم ان کی جہالت کی نشانی ہے! جی نہیں! وہ ایک بہت معیاری اسکول کی پرنسپل ہیں۔
چوتھی جماعت کے ہی ایک کردار سے ملاقات کرتے ہیں! یہ ہمارے بھانجے ہیں۔ جمعہ کے دن اسکول سے توہنسی خوشی گھر پہنچے مگر تھوڑی دیر میں بسورتے ہوئے نظر آئے۔ کیا معاملہ ہے؟ تحقیق پر معلوم ہوا کہ ان کا  ’عمرو کا بھوت‘  غائب ہے۔! گھبرائیں نہیں یہ کوئی سچ مچ کا بھوت نہیں ہے بلکہ کہانی کا نام ہے جو وہ اسکول جاتے ہوئے کہیں حفاظت سے رکھ گئے تھے کہ واپس آکرپڑھوں گا اور اب غائب ہے۔یقینا ان کی بڑی آپی کا ہاتھ ہوگا جو انہوں نے اسے مخرب الاخلاق جان کر ان کی پہنچ سے دور کر دیا ہوگا۔ہمارے سامنے مقدمہ آیا تو کچھ یاد کرکے ہم کھلکھلا کرہنس پڑے۔ برسوں پرانی بات ہے جب ہمارے چھوٹے بھائی کے ساتھ بھی یہ معاملہ پیش آیا۔وہ اسکول سے تو نہیں آئے (کیونکہ ان دنوں جمعہ کی چھٹی ہوا کرتی تھی) مگر امی جان نے ان کو نہلا دھلا کر جمعہ کے لیے تیار کیا اور وہ صاف ستھرے بستر میں لیٹ کر’عمرو اور اٹکی شہزادی‘  پڑھنے لگے۔ہم ان دنوں کچھ کچھ اسلامی لٹریچر کی طرف مائل ہوچلے تھے یہ دیکھ کر سخت برانگیختہ ہوئے اور ان کے ہاتھ سے اس کثیف کتاب (بارش میں بھیگنے کی وجہ سے سخت تعفن زدہ ہوگئی تھی)کو چھین کر ردی کی ٹوکری میں رکھ دیا۔بھائی اس ناگہانی پر گھبرا اٹھے مگر کچھ کہے بغیر خاموشی سے کتاب واپس لاکرسابقہ پوزیشن میں دراز ہوکر سلسلہ وہیں سے شروع کردیا جہاں سے منقطع ہوا تھا۔ ہم ہاتھ دھو کر کمرے میں آئے اوریہ منظر دیکھا تو آگ بگولہ ہوگئے اور آؤ دیکھا نہ تاؤ،ہاتھ پر لگی خوشبودار کریم کی پرواہ کیے بغیر اس کتاب کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔
طاقت استعمال کرنے کانتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا (یہ ہمیں اسی وقت اندازہ ہوا تھا) ہمیشہ ہنگامے پھوٹ پڑتے ہیں اور یہاں بھائی کا  احتجاجی رونا دھونا، ہماری شیلف کی طرف بری نیت سے بڑھنا،امی کی مداخلت وغیرہ وغیرہ اورجناب! معاملہ رفع دفع یوں ہوا کہ بڑے بھائی نے شام کے وقت ان کو ابن انشاء کے دو سفر نامے جاکر دلوائے.....تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے!برسوں بعد وہی واقعہ مختلف کرداروں کے ساتھ پیش آتے دیکھا توبر وقت اس کو بیان کرکے ہم نے ممکنہ نتائج سے اپنی بھانجی کوآگاہ کیا۔یقین کریں ہماری بات نے اثر کیا جب تھوڑی دیر میں  ’عمرو کا بھوت‘  کہیں سے نمودار ہوگیا اوریوں برسوں پرانے واقعے کا انجام دہرایا نہ جا سکا....آپ اس واقعے سے اپنے مطلب کے کئی مفروضے نکال سکتے ہیں ...  مثلا ہر دور کے بچے الف لیلیٰ قسم کی کہانی پسند کرتے ہیں، ہر دور میں چھوٹے بہن بھائی اپنے بڑوں کی جارحیت کا شکار ہوتے ہیں۔ بہن بھائیوں کے جھگڑے میں بھگتان ہمیشہ بڑے بھائی کو ہی ادا کرنا پڑ تا ہے ... وغیرہ وغیرہ! اپنے نفع و نقصان کی فکر مندی سب کو ہوتی ہے یعنی خطرات و خدشات کا علم ہوجانے پر کسی انتہائی اقدام سے رک جاتے ہیں۔
علم کی بات ہو تو حضرت علی ؓ کا نام یاد آجا تا ہے۔ بچوں کی تر بیت کے بارے میں ان کا مشہور مقولہ بہت زیادہ گردش میں ہے۔ جی ہاں! بچے کی عمر کے ادوار کے لحاظ سے کچھ یوں ہے کہ پہلے سات سال بچے سے کھیلو، اگلے سات سال ادب سکھاؤ اور پھر سات سال دوستی کرو۔ کچھ نا عاقبت اندیش والدین یا سر پرست اس ترتیب کو گڈ مڈ کردیتے ہیں۔نتیجہ یہ کہ سر پکڑے ماہرین سے مشورہ طلب کرتے نظر آتے ہیں۔ چونکہ ایسے والدین کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے لہذاطلب اور ترسیل(ڈیمانڈ اور سپلائی) کے فارمولے کے تحت ایسے ماہرین کا تناسب بھی بڑھ رہا ہے۔  یہ ہی بات ہے جو ہم نے آغاز میں کہی ہے۔
چاہے آپ نے ایک بھی بچہ کی پرورش نہ کی ہو مگر پھر بھی اپنے ارد گرد کے بچوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بچے کے بگڑنے کا تعلق محض زمانے یا میڈیا /سوشل میڈیا سے نہیں ہوتا بلکہ اس میں کہیں نہ کہیں عمر کے اس دور کا ہاتھ ہوتا ہے جس میں وہ ہوتے ہیں۔جب چھوٹے ہوں تودوڑ دوڑ کر کام کر رہے ہوتے ہیں، ہر اس کام میں لپکتے ہیں جس میں ان کے لیے خطرہ ہو اور جب  اس کام کو باآسانی کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں تو حیران ہوکر پوچھتے ہیں اچھا یہ کیسے ہوگا؟  مثلا ہمارے گھر کے بچے چھٹپن میں کھانا پکانے میں بہت لپکتے تھے۔روزانہ کی بنیاد پر کیک،سنڈوچز، ڈونٹس یا پھر چائینیز کی سر گرمی ہوتی جس میں انہوں نے کیا کرناہوتا بڑوں کو ہی تھکنا ہوتا تھا اور بجٹ الگ متا ثر ہوتا۔ مگر بچوں کے سیکھنے اور ان کو مصروف رکھنے کے لیے برداشت کیا جا تا۔ مزے کی بات کہ لڑکے بھی روتے کہ ان سے تو کچھ کام ہی نہیں لیا جا رہا۔ان سے سبزیوں کی کٹنگ یا کیک کی سجاوٹ کا کام مجبوراً لینا پڑتا جس میں نقصان اور وقت کی بربادی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔یہ وقت گزرا اور بچے جب اس قابل ہوگئے کہ یہ کام خود کرسکیں تو بیکریوں اور ریسٹورنٹ کی معلومات جمع کرتے نظر آتے ہیں۔اور کبھی کوئی چیز  تیار کرنے میں غلطی سے ان کوشامل کرلیں تو حیرت سے پوچھتے ہیں ...اچھا! یہ گھر میں بھی بنتے ہیں؟
باتیں اور واقعات تو اور بھی بہت ہیں مگرمضمون میں الفاظ کی حد ختم ہوگئی ہے لہذا یہیں بات مختصر کردیتے ہیں۔بس یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ بچوں کو ٹھوکنے اور ٹوکنے کا فیصلہ حالات و واقعات اور ان کے پس منظر میں کیا جا ئے کہ محفوظ راستہ یہ ہی ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

         فر حت طاہر  

مشرق کے آنگن میں مغرب

 ا



   قصہ کچھ یوں ہے کہ ہم نے اپنے گھر کام کرنے والی لڑکی کو سلائی کا ہنر سکھانے کا ارادہ کیا(اسے ہماری بے وقوفی نہ سمجھیں کہ سلائی سیکھ کر وہ ہاتھ کہاں لگے گی! اس مفروضے کے بجائے ہماری دانش مندی کو داد دیں کہ گھر بیٹھے کپڑے سلواسکیں گے ...خیر جناب بچے کے کپڑے سے آغاز ہوا۔اس کے بعد سادے سوٹ کی باری آئی۔ پہلے نمبر پر شلوار کا خاکہ بناکر دیا۔ وہ ایسے چونکی جیسے کوئی متروکہ لفظ کہہ دیا ہو ہم نے!
  ” ...شلوار؟  یا پاجامہ..  ٹر ... ٹرو “ اس کی ٹر ٹر نے بتا دیاکہ وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے۔جی ہاں ٹراؤزر!  اس کے اعتراض پر سوچ میں پڑ گئے کہ شلوار کیا ہے؟ یہ ہماری زندگی میں کب سے ہے؟ بہت بچپن میں بھی شلوار کے بغیر فراک ادھوری لگتی تھی ..پھر جمپر کے ساتھ بیل باٹم اور فلیپر بھی پہنا! کبھی کبھار ترکی یا میمنی شلوار بھی پہنی۔
پہلی دفعہ شلوار سینے کا اتفاق انٹر کی چھٹیوں میں ہوا جب ہم با قاعدہ سلائی سیکھ رہے تھے۔ ورنہ اس سے پہلے تو بس امی یا کسی بڑے کے کہنے پر سلائی جوڑ دیتے تھے ....اس موقع پر مشہور مصنفہ سلمٰی یاسمین نجمی کا مزیدار مضمون پڑھنے کو ملا جس میں انہوں نے اپنی شلوار کی سلائی کو موضوع گفتگو بنا یا تھا!  زبر دست ترکیب (articulation(ہوتی ہے کسی پزل کی طرح ٹکڑے جڑ تے چلے جاتے ہیں اور شلوار تیار!!ہاں تو ہم شلوار سینا سیکھ گئے۔اتنا مزہ آ یا کہ بتا یا نہیں جا سکتا!  خاص طور پر بیلٹ لگانا! خاصہ ہنر مندی کا کا م ہے جیسے حساب میں فارمولے لگاکر مطلوبہ جواب حاصل کر لیا جا ئے تو خوشی حاصل ہوتی ہے!
شلوار سینا اتنا بڑا فن ہے ہمیں تو اندازہ ہی نہیں ہوتا! وہ تو ہماری بھاوج جو مشرق وسطٰی سے تعلق رکھتی ہیں جب پاکستانی شلوار لے کر مقامی اعلٰی درزی کے پاس لے کر گئیں کہ ایسی بنا دو تو وہ اپنے تمام ہنر و فن کے باوجود اس کو ڈیزائن کرنے سے قاصر رہا اور یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ .....پاکستانی بہت نفیس اور اعلٰی ذہن رکھتے ہیں ....!تو عزیز بہنو! ہماری شلوار بہت بڑا شاہکارہے۔اس کی قدر کریں کہ اس کو سینا اور پہننا عمدہ ذوق کی نشانی ہے!  آئیے! اپنی شلوار کو رواج دے کر واپس لائیں!
یہاں پر ہماری بات مکمل ہوگئی مگر نہیں ابھی کہاں؟ بات دراصل یہ ہے کہ واپس لانے کا،مطلب یہ ہے کہ وہ گم ہوگئی ہے۔ یہ کب ہوا؟؟ متعین وقت تو نہیں بتا یا جا سکتا کیونکہ آہستہ آہستہ معدوم ہونے والی چیزوں کا ریکارڈ مرتب نہیں رکھا جا سکتا۔ہاں اتنا یاد ہے کہ تقریبا  آٹھ برس قبل اپنی والدہ کے طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال بہت جانا پڑ رہا تھا۔ انتظار گاہ میں بیٹھے بیٹھے کچھ خواتین کو حد سے لمبی قمیض اورشلوار کی جگہ ایک تھیلا نما چیز پہنے دیکھا۔غرارہ کی کون سی شکل ہے؟ کچھ سمجھ نہ آیا!یہ نیا فیشن ہے یا یہ خاتون بیرون ملک سے در آمد ہوئی ہیں۔ اگلی بار جانا ہوا تو ڈاکٹرز کے علاوہ کئی وزیٹرز بھی اسی حلیے کا شکار نظر آئیں! اوہ تو یہ نیا فیشن ہے! سمجھ میں آیا تو خوشی ہوئی کہ سترپوشیکے لحاظ سے مناسب ہے اگر چہ کپڑے کا ضیاع نظرا ٓرہا ہے۔
          خیر اس کے بعد تو ہر ایک کو اپنے پرانے کپڑے آک ورڈ لگنے لگے اور سب نے اپنی وارڈروب تبدیل کرڈالی،جو نہ ہوسکے ان کے نیچے بیلیں لگا کر ممکنہ لمبائی حاصل کر لی گئی اور چوڑائی میں اضافہ کلیاں لگاکے پوری کر دی گئیں ....رفتہ رفتہ یہ صورت حال ہوگئی کہ پورے سوٹ میں صرف اوپر کا لبادہ تیار ہو سکتا ہے اورپھر تو شامیانہ ہی تیار ہونے لگا جس میں لگتا تھا پورا تھان ہی تھوپ لیا گیا ہے ...اور شاید یہ ہی وقت تھا جب شلوار پہننا اور نہ پہننا برابر ہوگیا لہذا شلوار غائب کر دی گئی..اور اس کی جگہ لیگنگز نے لے لی۔ جو یہ نہ پہن سکتی تھیں انہوں نے چوڑی دار پاجامہ سلوالیا۔یہاں تک کہ ہر عمر کی خاتون اپنی بساط بھر اسی حلیے میں آگئی۔ایک دن ہماری عزیزہ نے بتایا کہ ہماری میڈم (ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں) لیگنگز پہن کر آئیں تو سارے آفس والے انگشت بدنداں تھے اور ہمیں  اپنے بچپن کا واقعہ یاد آیا جب ہمارے والد نے گھر آکر تذکرہ کیا کہ ایک محتر مہ شاید غلطی سے باریک شلوار پہن کر یونیورسٹی آگئیں۔اور جب ان کی غلط فہمی دور کی گئی کہ غلطی نہیں بلکہ اب لان کی شلواریں آگئی ہیں تو انہوں نے ناپسندیدگی کااظہار کیا۔نتیجہ؟ ہماری امی نے مرتے دم تک لان کی شلوار نہ پہنی۔
بہر حال کئی موسم بدلے اور فیشن ایجاد کرنے والے بھی کچھ اکتا سے گئے تھے۔(فیشن ڈیزائنر کا ٹارگٹ ٹین ایجرز ہوتے ہیں مگر کیا ہو کہ جب وہ بیس سالہ بیٹی، چالیس سالہ ماں اور ساٹھ سالہ نانی کو ایک ہی سے حلیے میں دیکھیں تو فیشن تبدیل کر دیتے ہیں)چنانچہ قمیضیں نارمل ہوتے ہوتے ایکسٹرا شارٹ ہوگئیں جبکہ شلواروں کی جگہ ٹراؤزر نے لے لیں۔سینے میں نسبتا آسان ہونے کی وجہ سے بہت جلدی درزیوں نے اسے ہاٹ فیورٹ بنوادیا۔انواع و اقسام کے پاجامے بازار میں دستیاب ہوگئے۔  
  یہ 2006 ء کی بات ہے۔انگلش میڈیا کی مانیٹرنگ ہمارے ذمہ تھی۔ تو ایک مشہوربین الاقوامی فیشن ڈیزائنر سنبل کا انٹرویو پڑھنے کا موقع ملا۔ اس کا کہنا تھا کہ پاکستان  جیسے ملک میں یہ منظر آنے میں کچھ وقت لگے گا کہ خواتین اسکرٹ (یقینامنی اسکرٹ)پہنے اسٹاپ پر کھڑی ہوں! ان کی یہ حسرت یا خواہش محض دس سال کے اندر ہی پایہ تکمیل کو پہنچ گئی جب اسکن کلر کی ٹائٹ میں ملبوس خواتین اور لڑکیاں جگہ جگہ نظر آنے لگیں۔میرے خیال میں مستنصر حسین تارڑ کو کسی یورپی ملک کی منظر کشی کرنے کے لیے اسپین، اٹلی یا فرانس جانے کی ضرورت نہیں رہی گھر سے نکل کر بازار اور سڑک پر آئیں ہر طرف یہ ہی منظرہے جب  بس کے پائیدان پر لٹکی لڑکی کی قمیض کا دامن ذرا سی حرکت پر اوپر اٹھتا ہے اور لمبے لمبے چاکوں سے بڑی دور تک نظارہ ہوتا ہے۔ اپنی مشرقیت کا پر چار کرنے والی خواتین چوڑی دار پاجا مے کو اپنی نانی،دادی کی پہچان کہہ کر بڑے فخر سے اپناتی ہیں۔ وہ تو یہ لباس پہن کر ٹھاٹھ سے گھر میں بیٹھا کرتی تھیں آج کل کی بے چاریوں کی طرح یوں خوار نہ ہوتی تھیں اور پھر اس کے ساتھ لمبے گھیر دار پشوازاور جمپر ہوتے تھے، یہ ننھی منی کرتیاں نہیں!
بے پردہ گھومنے والی خواتین کی بات الگ ہے پردہ دار خواتین کے لیے تو اس کی بہت گنجائش ہے۔وہ تو گھروں میں یا خواتین کی محفل میں ہوتی ہیں۔ان کے پہننے میں کوئی حرج نہیں! یہ تھا موضوع جو کسی ایسے ہی ایک اجتماع میں زیر بحث آ یا۔ٹراؤزر پہننے والیوں نے اعتراض کرنے والیوں کو جواب دیا۔اس بات کو اتنا ایشو کیوں بنا یا جا رہا ہے؟ اسلام میں پاجا مہ کا ہی ذکر ہے۔ شلوار تو صرف ہمارے خطے میں ہی  پہنی جاتی ہے....ہم بھی اس دلیل کے قائل ہوگئے اور جب اپنی ہم عمر،ہم جثہ خواتین کو پہنے دیکھا تو ایک دو پاجامے بنا ڈالے۔سینا ضرور آسان ہے مگر استعمال نہیں خصوصا اٹھنا بیٹھنا مشکل! نماز پڑھتے ہوئے عجیب صورت حال! خود تو جو تکلیف ہو فیشن کے نام پر گوارا مگر  دیکھنے والوں پر کیا گزرتی ہے؟  بس یہ سوچ کر ہم نے ان کو تقسیم کردیا۔
کو ایجو کیشن کالج میں پڑھانے والی ایک لیکچرر نے کسی دعوت کے دوران نماز پڑھنے کے لیے جب اپنے ہائی ہیل اتار کر اپنے ٹراؤ زر کے بکل ڈھیلے کیے تو ہم اس کمرے سے ہٹ گئے۔خوامخواہ کی بد نگاہی کا کیا فائدہ؟ مگر کئی دفعہ دوران محفل نماز پڑھنے کا موقع ملا تو یقین کریں سجدہ سہو ضرور کرنا پڑا۔ظاہر ہے آپ کے سامنے جو منظر ہو تو کبھی سجدے بھول گئے تو کبھی تشہد! توبہ توبہ!اپنی گھیردا ر شلوار کی کیا بات ہے! آرام دہ اور دیدہ زیب!اپنی تہذیب،اپنا پہناوا! ہماری ایک آنٹی انڈین شلواروں کو دیکھ کر بہت منہ بناتی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عورتیں کبھی ایسی پتلی /چست شلواریں استعمال نہیں کر سکتیں یہ تو فاقہ زدہ ہندوؤں کا پہناوا ہے۔معلوم نہیں اب ان کا کیا رد عمل ہے؟
پیاری بہنو!
ہماری شلوارہماری اقدار!یہ نہ سمجھیں کہ ہم یکساں الفاظ کی گردان کروا رہے ہیں جو شوشوں، نقطوں اور الفاظ کی بناوٹ سے تبدیل ہو جاتے ہیں بلکہ یہ دراصل اپنی گم گشتہ شلوار کا نوحہ ہے جسے ہم نے فی زمانہ مستعمل لفظ اقدار سے جوڑ دیا ہے! کہنے والے کہیں گے کہ کیا سارے مسئلے ختم ہوگئے ہیں جو شلوار،پاجامے کی بحث چھیڑ دی گئی ہے۔یہ مضمون پچھلے دوسال سے ہمارے کمپیوٹر میں اٹکاہوا تھا اور اسی اعتراض کا سوچ کر بھیجا نہیں جا سکا تھا مگر ہمارا لباس،ہمارا طرز معاشرت اتنا معمولی نہیں کہ اس سے یوں صرف نظر کیا جائے۔ اور پھر لباس کی تبدیلی کا یہ سفر کیا روکنے سے رکے گا؟ اس حوالے سے کچھ جینز کا ذکر بھی ہوجائے....مغرب کا یہ تحفہ وہاں بھی کچھ ہی عرصے پہلے ایجاد ہوا ہے ...اس زمانے میں وہاں کی مائیں اپنی لڑکیوں کو جینز پہن کر باہر نہ نکلنے کی ہدایت کرتی تھیں اور اور اب کہتی ہیں  ...کچھ تو پہن لیا کرو باہر جاتے وقت...! کیا ہم بھی اس ابلیسی دوڑ میں شامل ہیں؟کیا واقعی  بقول سلیم احمد    ”مشرق مغرب سے ہار گیا ہے؟؟.....“
               ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ٌ     فر حت طاہر


 
          



منگل، 13 دسمبر، 2016

کہاں ہیں امت کے بابا ؟


   حلب جل رہا ہے!

  ذاتی طور پر حلب (Aleppo)کا نام پہلی دفعہ 1987ء میں سنا جب ہمارے والد ایک انٹر نیشنل اسلامک کانفرنس کے علمی و تحقیقی سیشن میں شر کت کے لیے وہاں گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب افغانستان میں روسی افواج شکست سے دو چار ہورہی تھیں اور پوری اسلامی دنیا میں بیداری کی ایک لہر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ان ہی جذبوں میں ٹیکنالوجی کے حصول کے ساتھ ساتھ اپنے وسائل میں اضافہ اور خود مختاری کے جذبات بھی شامل تھے۔ یہ کانفرنس اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ ہمارے والد کے مقالے کا موضوع اسلامی دنیا میں آبپاشی کے طریقے تھا۔ انبیاؤں کی سرزمین میں اس عنوان سے بحث روشن مستقبل اور امکانات کی ایک نئی دنیا تھی۔
یہ ساری باتیں ہم اب کہہ رہے ہیں ورنہ در حقیقت اس زمانے میں ہماری دلچسپی سر زمین شام خصو صاً حلب سے آئے ہوئے تحائف میں تھی۔ ملبوسات سے لے کر خوشبویات اور حلویات! اپنے مضمون کو آگے بڑھا نے سے پہلے ہم کانفرنس کی بات مکمل کرلیتے ہیں! جی ہاں بیداری کی اس لہر کو ہنود اور یہود نے محسوس کرتے ہوئے جلد زائل کر کردیا۔  بہت پیار سے! یہ کہہ کر کہ مسلمانو! آپ کیوں اپنی جان گھلاتے ہیں ہم ہیں نا! تحقیق اور جستجو کے لیے ....اور ویسے بھی خطے میں پرانی بساط لپیٹ کر نئی بچھائی جا رہی تھی۔جلد ہی ضیاء الحق کا طیارہ حادثے کا شکار ہوا اور اس کے بعد ساری مستعدی ہوا ہوگئی۔بھاگ دوڑ فائلوں میں ہی رہ گئی جسے وقت کے ساتھ دیمک کھاگئی یا پھر وائرس!
 ہمارے والد شام کے علماء اور وہاں کی لائبریریوں سے رابطے میں رہتے تھے۔وہاں سے انواع و اقسام کی نادر کتب کے ذخیرے جمع کرتے جو اس وقت تو ہمیں محض اپنے خوبصورت اور دیدہ زیب جلدوں کی وجہ سے اچھی لگتی تھیں کہ ڈرائنگ روم کی زینت تھے۔ کچھ عر صے بعد  ہمارے بھائی کو تعلیم سے فارغ ہوتے ہی وہیں ملازمت مل گئی۔ دمشق کے ایک قصبے دیرالزور میں ان کی پوسٹنگ تھی۔اتفاق سے ان کی شادی بھی ایک شامی خاتون سے ہوئی۔جس کے بعد دمشق گویا ہمارا دوسرا گھر بن گیا۔ ہر سال بلکہ کبھی کبھار سال میں دو دفعہ جب وہ پاکستان آتے تووہاں کی سوغاتیں ہم سب کے لیے خوشی کا با عث بنتیں۔کھانے کی کوئی شئے ہو یا پہننے کی، سجاوٹ کی ہو یا ضرورت کی ہر شاپنگ بیگ پر لکھے تمام شہروں کے نام میں حلب ضرور ہوتا۔ معلوم ہوا کہ اگر چہ دمشق دنیا کا قدیم ترین شہر ہے مگر حلب ایک ثقافتی اورترقی یافتہ شہر ہے!بھائی کے مطابق مسجد اقصیٰ ان کے گھر سےمحض چالیس پینتا لیس منٹ کی مسافت پر ہے لیکن  ظا ہر ہے ایک پاکستا نی کی حیثیت سے وہا ں جا نا ممکن نہیں!
   ہماری بھاوج ایک سگھڑ، مجلسی اور باتونی خاتون ہیں۔وضع قطع میں کچھ کچھ یورپی مگر روایات و اقدار اور آداب اسلامی اور ایشیائی!انہوں نے شروع شروع میں اردو سیکھنے کی کوشش کی مگر جب اردو، عربی انگلش کی چٹنی سے کام چلنے لگا تو یہ مہم جوئی ختم کردی۔ جب وہ کراچی ہوتے تو شہر کا کونا کونا چھان مارتے۔ فر نیچر سے لے کر مصالحہ جات تک کوئی دکان چھوڑی نہ جاتی۔ تفریح گاہوں سے لے کر رشتہ دار ں تک! گفتگو کا محاذ ہمیشہ گرم رہتا۔بچوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے لے کر دنیا بھر کے حالات! دونوں ملکوں، شہروں کی ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر ضرور بات  ہوتی۔ مگر سیاست ایسا موضوع ہوتا جس پر ہماری بھاوج خاموش ہوجاتیں ....ہم پاکستانی خواہ کتنے ہی گئے گزرے ہیں مگر بقول شخصے یہاں بھونکنے کی تو آزادی ہے۔! جی ہاں ہم نے جبر کا لفظ صرف پڑھا ہے اسے برتا نہیں! خوب دھڑلے سے سیاست اور سیاست دانوں پربات کرتے ہیں مگر عرب دنیا میں یہ موضوع شجر ممنوعہ ہے۔ خصوصاً شا م میں ایک اقلیتی فرقے کی حکمرانی تھی اور ہے جس کے باعث وہاں کے شہری محتاط ہیں۔ دروز فر قے سے تعلق رکھنے والے شام کے صدر حافظ الاسد نے 1963 ء میں بر سر اقتدار آکر سنی العقیدہ مسلمانوں خصو صاًاخوان المسلمین پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہوئے تھے کہ لوگ اس سے تعلق رکھنے یا اس کی اصطلاحات استعمال کرنے سے خوف زدہ رہتے تھے۔
2000ء میں بھائی کی فیملی کراچی میں تھی۔مستقل سیاہ لباس زیب تن کرنے کی وجہ بچیوں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں سمجھا ئی کہ ان کے صدر (حافظ الاسد) کا انتقال ہوگیا ہے۔ مزید یہ کہ نیا صد رنو جوان ڈاکٹر ہے اسی سال اس کی شادی بھی ہوئی ہے۔ امید ہے کہ اچھا ثابت ہوگا! آہ خوش فہمیوں کے دلاسے! کفن چور باپ بیٹے کی کہاوت یاد آگئی۔ بشار الاسدنے اپنے باپ کے جبرکا تسلسل  ایسا بڑھا یا کہ لوگ باپ کو بھول گئے! مسیحا کو انسانیت دوست کہا جا تا ہے مگر شام کے بد قسمت شہریوں کے لیے تو یہ قصائی ہے جس کے ہاتھ معصوموں کے خون سے لتھڑے ہوئے ہیں۔
 ملکی سطح پر پاکستان اور شام کے تعلقات دوستانہ کبھی نہیں رہے۔دونوں ممالک کے تحفظات ایک دوسرے کے لیے ہیں۔یہ 2001ء کا ذکر ہے جب صدر مشرف دمشق گئے تو وہاں موجود پاکستانیوں سے ملاقات کی جس میں بھائی کا خاندان بھی تھا۔ اس کی تصویر ڈان سمیت تمام اخبارات میں شائع ہوئی۔ اس تصویر کے حوالے سے اپنے بھائی کو خط لکھا تو جب یہ وہاں پہنچاتو وزارت خارجہ نے اس اردو خط کا ترجمہ کروایا اور اس جملے کو پڑھنے کے بعد بھا ئی کو طلب کر کے متنبہ کیا کہ ذاتی خطوط میں سیاسی معاملات کا ذکر نہ کیا کریں! پاکستان آمد پر بھائی نے اس واقعے کا ذکر بطور لطیفہ کیا اور بھاوج نے مذاق کیا کہ جب تم آؤ گی تو تم سے پوچھ گچھ ہوگی! ہم نے اس دھمکی کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا مگر یہ بھی محض اتفاق ہے کہ ان کے وہاں بیس بر سوں کے قیام میں ہمارا جا نا ممکن نہ ہو سکا!
  یہ فروری 2011ء کی ایک خنک صبح تھی جب دمشق سے بھائی کا فون آیا۔وہ اگلے ہفتے  مع فیملی انگلینڈ جارہے ہیں واپسی میں کراچی سے ہمیں بھی ساتھ لے کر دمشق چلیں گے!  انہوں نے مارچ کے آخری ہفتے کی بکنگ کرانے کو کہا کہ اب موسم بہتر ہوگیا ہے شام، مصر،ترکی کے بعد عمرہ کی ادائیگی! ان دنوں عرب بہار کی دھوم تھی لہذا ہم نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس کے جوا ب میں بھائی نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہاں امن ہے! اس وقت رات کے دو بجے ہیں اور ہم ابھی شاپنگ کر کے لوٹے ہیں ....(دمشق کی راتیں جاگتی ہیں!) ....
یہ اطمینان کی آخری گفتگو تھی کیونکہ اس کے بعد وہاں کے حالات جو بد سے بد ترہوتے گئے وہ سب کے سامنے ہے! شام کی خرابی احادیث سے منقول ہے مگر یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوگا تصور میں نہ تھا۔زندگی کا رنگ بدلنے میں محض چوبیس دن لگے اور وہ اپنے کھنڈر ہونے والے شہر کو پھر واپس نہ جا سکے!جانیں تو بچ گئیں مگر تتر بتر ہونے والے اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے غم نے زندگی کو اشکوں میں ڈبو دیاجس کا کوئی مداوا نہیں!.... اور گزرا سال تو بد ترین ہے کہ دنیا کی ہر جارحیت کے لیے میدان مبارزت ہے۔یہ مضمون گھمبیرجنگی معاملات سے قطع نظر محض ذاتی احساسات کے طور پر لکھا گیا ہے مگر یہ صرف ایک خاندان کی کہانی تو نہیں ہے،پوری قوم کی در بدری ہے!
پچھلے دنوں ایک ویڈیو دیکھنے کو ملی جس میں اہل شام کی مظلومیت کے بجائے دبئی، یورپ اور دیگر ملکوں سے اظہار ہمدردی کی گئی تھی کہ اصل توجہ تو عیش و عشرت میں ڈوبے دنیا بھر کے مسلمانوں کو کرنی چاہیے کہ شام کے لوگ تو اپنے ریوڑ میں واپس آرہے ہیں ...جی ہاں! ہلاکو خان کی بیٹی کا مکالمہ ایک عالم دین سے  تاریخ کی کتابوں میں رقم ہے۔ مذکورہ واقعے سے معلوم ہوتاہے کہ جب تک مسلمان اپنی پناہ گاہ یعنی اسلام میں نہیں داخل ہوں گے اسی طرح ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے! اسکول کے دوران مغلیہ دور کا زوال پڑھتے ہوئے ہم بہن بھائی اس بات پر افسوس بھری حیرت کا اظہار کرتے تھے کہ شہزادے کس طرح اس بے بسی سے ماردیے گئے(ہمارے خیال میں بادشاہ تو بہت طاقت ور ہوتے تھے!)اور آج مسلمانوں کو بے بسی سے مرتا دیکھ کر یقین آگیا ہے کہ طاقت کا انحصار صرف وسائل سے نہیں مشروط بلکہ اس کے لیے جذبہ ایمانی درکار ہے جو آج کے مسلمان میں مفقود ہے۔
دنیا بھر میں پھیلی ہوئی امت مسلمہ جس طرح اپنے داخلی اور سطحی مسائل میں گھری ہوئی ہے سوائے افسوس کے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اور احادیث میں توغزوہ ہندکا بھی ذکر ملتا ہے۔اس کی ہم نے کیا تیا ری ہے؟ غفلتوں میں ڈوبی، زندگی کا لطف اٹھا تی اور برسوں کی منصوبہ بندی کرتی ہماری قوم! پتہ نہیں اس کے پاس چوبیس دن یا گھنٹے بھی ہیں یا نہیں؟
................................................................................................................

  فر حت طاہر  

منگل، 6 دسمبر، 2016

"۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہے ! ''

                                                                       
  
گھر میں تنہا اور کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے کھانا پکانے کی مہلت نہ ملی ۔شدید بھوک کا احساس ہوتے ہی کھانے کی طرف نظر کی ۔  ڈبے میں ایک  روٹی نظر آئی تو لپک کے اٹھا لی ۔سالن کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا اور بے اختیار منہ سے نکلا   
                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                     " اف ! ،،،،کچھ بھی نہیں ہے ،،،! ٗ"

مگر یہ جملہ ادھورا ہی رہ گیا جب نظر سامنے پڑی اور اچار، جام ،جیلی کی بوتل نظر آئی ۔ریک پر شہد اور سر کے /ساس کے جار دھرے تھے۔  ٹوکری میں انڈے رکھے تھے ۔ گھی اور تیل بھی کاؤنٹر پر ہی تھے۔فرج کھولا تو دودھ ، مکھن ، پنیر، کریم، دہی بھی موجود تھے۔ فریزر میں کباب تھے اور شاید کسی بچے قورمے یا چکن کڑھائی کی ڈش بھی تھی۔ فروزن غذا کی بھی اچھی خاصی مقدار تھی جنہیں مائکرو ویو میں فوری طور پر ڈی فراسٹ کیا جا سکتا تھا۔ آئس کریم اور چاکلیٹ بھی نظر آئے۔  ڈبے میں کئی قسم کی  رنگ برنگی سبزیاں بہار دکھا رہی تھیں ۔ آلو بھی ابالے یا تلے جا سکتے تھے ۔اناج کے حصے  میں دلیہ اورکئی طرح کی دالیں موجود تھیں جو ذرا سی محنت سے پک سکتی تھیں،،،،،
لمحے بھر میں سب کچھ جائزہ  لے لیا اور جملہ پورے ہونے سے پہلے ہی آنسو گالوں پر بہہ نکلے ۔میرے محمد ؐ نے کبھی دودن لگا تا ر گیہوں کی روٹی نہ کھائی اور ہم اتنا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ذراسی کمی ہوتو کہہ بیٹھیں کہ  کچھ بھی نہیں ہے ؟؟ کیا ہمیں کچھ نہ ہونے  کادرست ادراک ہے ؟  دنیا کے بہترین اناج گیہوں  کو کچھ نہ گردانیں ؟                                                 بچے کھا نا دیکھتے ہی کہہ اٹھتے ہیں    " کیا یہ ہی پکا ہے ؟  مجھے نہیں کھا نا؟کچھ اور نہیں ہے ؟  "     مرد حضرات بھی زیادہ تر یہ ہی جملہ کہتے نظر آتے ہیں    " چلو یہ ہی کھالیتے ہیں شکر کر کے " اور  جس عمدہ کھانے کو معیار سے کم سمجھتےہوئے زبردستی کھا رہے ہوتے ہیں وہ شاید میرے آقا ؐ کے کئی مہینوں کی غذا کے برابر ہو ! وہاں تو کئی کئی ماہ چولہا نہیں جلتا تھا ،،،،،،،،، میں آگے نہ سوچ سکی اور آنسوؤں کو پیتے ہوئے  وہ روٹی رغبت سے کھالی۔
''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''٭فر حت طاہر ٭''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''





ہفتہ، 3 دسمبر، 2016

صبحِ فرحت: تخلیقی صلاحیت بمقابلہ سماجی روابط

صبحِ فرحت: تخلیقی صلاحیت بمقابلہ سماجی روابط:         فروری 2014 ء میں مارک زبرگر کے واٹس اپ کو اپنا نے کے نتیجے میں روابط کا ایک حیران کن سلسلہ قائم ہوگیا۔ اس سے پہلے یہ ایک بے ...