منگل, جنوری 30, 2018

سہارا ۔۔۔ایک یقین !

                            !سہارا....


 سب لوگ دوپہر کے کھانے پر بیٹھے تھے۔عجب مصنوعی قسم کی گفتگو ہورہی تھی۔کبھی صدر کو زکام ہوجانے کا ذکر چھڑ جاتا اور کبھی کسی غیر ملکی سفیر کے ساتھ جو ”دوستانہ“گفتگو ہو چکی ہوتی،اسے تفصیل سے بیان کیا جا تا۔انداز کلام ایسا ہو تا گویا صاف صاف کہا جا رہا ہو کہ ذرا غور کرو کہ اس ”آسمانی مخلوق“ کے ساتھ ہمارے تعلقات کتنے گہرے ہیں.........
......اس کا تو یہ عالم تھا کہ وہ نیویارک، جینوا، پیرس،، سوئٹزرلینڈ سے کم کوئی بات ہی نہیں کرتا تھا۔وہ کہاں کہاں گیا، کس کس سے ملا،کیا کیا دیکھا، وہاں اس کے کمالات کی کیسی کیسی قدر دانی ہوئی اور پھر ہر پانچ دس منٹ کے بعد وہ اس”نا قدرشناس“ ملک کی مذمت کرتا جس نے اپنا قیمتی زر مبادلہ دے کر اسے بار بار دوسرے علاقوں میں اسی غرض سے بھیجا تھا کہ وہ وہاں سے اپنے لیے نئی موٹر، فرج، ائر کنڈیشنر، سوٹ،بیوی کے لیے ساڑھیاں اور انواع و اقسام کے دوسرے سامان تعیش بھی خرید لائے اور حکومت کے خرچ پر خوب خوب سیریں بھی کرآئے،اور پھر واپس آکر اس غریب ملک کو صلواتیں بھی سنائے، جس نے اپنی خون پسینے کی کمائی گلچھڑے اڑانے کے لیے اس کے حوالے کر دی تھی۔ 
.......باوجود اس کے کہ واپس آئے ہوئے چند ہفتے بھی نہیں ہوئے تھے،وہ ملازمت نہ ملنے پر اس طرح کھول رہا تھا اور پاکستان کی ناقدرشناسی کے رونے اس سوز و گداز سے رو رہا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ اس کے سینے میں اس غم نے گھاؤ ڈال دیا ہے کہ جب وہ حکومت ہی کے خرچ پر FRCSکر کے کراچی کے ہوائی اڈے پر اترا تو آخر حکومت پاکستان اور پاکستان کے کروڑوں باشندے اس کی پیشوائی کے لیے ہوائی اڈے پر کیوں نہ پہنچے اور آتے ہی ایک بڑے سے عہدے کو سونے کی پلیٹ میں رکھ کر اس کے سامنے پیش کیوں نہ کیا گیا جو ملک ایسے ہیروؤں کی ایسی بے قدری کرے، وہ آخر کس طرح پھل پھول سکتا تھا........
عزیز قارئین! آپ کا اندازہ درست ہے کہ یہ اشرافیہ کی محفل میں ہونے والی گفتگو کا ایک حصہ ہے!
جی ہاں! یہ اقتباس محترمہ بنت الاسلام کے ناول ”سہارا“  سے لیا گیا ہے۔ستر کی دہائی میں لکھے گئے اس ناول کا موضوع کرپشن یا فساد ہے جس کا خد شہ فرشتوں نے ظاہر کیا تھا۔یہ فساد ظاہری بھی ہے اور باطنی بھی، اخلاقی بھی ہے اور مادی بھی! اس وقت جب پاکستانی وزیراعظم اس الزام میں نا اہل ہوچکے ہیں، ان کی نصف بہتر ایک موذی مرض کا شکار ہونے کے باوجود ان کی جگہ منتخب ہوچکی ہیں اور ان کی بیٹی اپنے باپ کی بے گناہی کی دہائی دیتی پھر رہی ہے! مگر کیا واقعی یہ گھرانہ حلال کمائی کی اس چمک اور روشنی کو محسوس کر سکے گا جیسا کہ اس ناول سہارا میں منیرہ کا خاندان کر تا ہے۔ کون منیرہ؟  جی اس ناول کی ہیروئین!اس ناول پر تبصرہ کرنے سے پہلے ایک تمہید ی بات کرنی ہے:
 یہ ذکر ہے اس بحث کا کہ کیا ادب معاشرتی اصلاح یا انقلاب میں معا ون ثابت ہوسکتا ہے؟ اس سوال کے متنوع  اور متضادجوابات ہوسکتے ہیں۔  تائید میں کمیونزم کے انقلاب کی راہ ہموار کرنے والے ناول ”ماں“ پیش کیا جاسکتا ہے جبکہ عدالتی فیصلے میں جج کی زبان سے  "گاڈ فادر " کے معرکۃ الآرا جملے کی بازگشت سنائی دیتی ہے  جبکہ معاشیات کی نوبل انعام یافتہ کتاب  
           "The Idea of Justice "
 جس کے پیش لفظ کا آغاز چارلس ڈکنز کے شہرہ آفاق ناول"  
"The Great Expectationکے ایک کردار کے بولے گئے جملے سے ہوتا ہے
" In the little world in which children have their existence, there is nothing so finely perceived and finely felt, as injustice "
مصنف  اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے دیگر مثالیں عملی زندگی سے دے کر ثابت کرتا ہے کہ کوئی نظریہ پیش کرتے وقت معاشرتی اقدار اور بنت کوتمثیل استعمال کی جاسکتی ہے۔ قصص القرآن اس کی بہترین اور نادر مثال ہے۔
اس بحث میں دلیل کے طور پر ”سہارا“  جیسا ناول بصدفخر پیش کیا جا سکتا ہے جس میں رشوت بطورایک معاشرتی لعنت (جو بہت سی برائیوں کا دروازہ ہے)بہت واضح انداز میں نظر آتی ہے۔ اس ناول کے ذریعے کرپشن کی وجوہات اور اس کے معاشرے پر پھیلے اثرات بہت عام فہم اور دلچسپ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ایک بہترین ناول کے اجزائے تر کیبی کردار نگاری، جذبات نگاری، اور منظر نگاری اپنے بہترین امتزاج کے سا تھ”سہارا“  میں  موجود ہے۔
ناول کا آغاز موسم برسات کے ایک خوشگوارمنظر سے ہوتا ہے جہاں ناول کی ہیروئین منیرہ  تین ننھے بچوں کے ساتھ میکے آتی ہے اور اپنے تمام احباب سے ملنے کا پروگرام بناتی ہے مگر اس کا شوہر ماجد اپنے موعودہ مدت سے پہلے ہی اسے  واپس لینے آجاتا ہے۔منیرہ کا شوہر ماجد ایک وکیل سے ترقی کرتے ہوئے سیشن جج کے باعزت عہدے تک پہنچا ہے۔
ماجد کا خاندانی پس منظر کچھ یوں ہے کہ اسکے والد اپنے بھائی بہنوں کی بہ نسبت معاشی اور معاشرتی طور پر کمزور حیثیت کے مالک تھے۔جس کے اثرات ان کے رہن سہن سے نظر نمایاں تھے۔والدین کی زندگی تک تو یہ فرق انیس بیس رہے مگر علیحدہ ہونے کے بعد یہ خلیج واضح اور گہری ہوتی گئی اور ماجد کے بڑے ہونے تک تو یہ فرق ۱یک سے سو کی نسبت تک پہنچ گیا۔ ان حالات میں ماجد نے اپنے سماجی رتبے کو اپنے خاندان سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سر توڑ کوشش کی۔ ہر حربہ آزمایا۔منیرہ سے شادی بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔بظاہر بہت شاندار شخصیت کا مالک اپنی بہترین پیشہ ور صلاحیت سے مالا مال ماجد باکردار، سنجیدہ اور معتدل مزاج ہے مگراپنے پیشے کے تقاضہ کے مطابق چالاک، مستعداور لچھے دار گفتگو کا ماہر ہے۔
منیرہ کا خاندان اعلٰی سماجی رتبے کے باوجود شریفانہ اور معتدل مزاج ہے وہ اپنے والدین کے مقابلے میں زیرک اور حساس ہے ماجد کے پر اسرار رویے سے خائف رہتی ہے اور اس بات کا ادارک ہونے کے بعدکہ اس کے شوہر کی آمدنی میں حرام کی ملاوٹ ہے سخت آزردہ رہنے لگتی ہے ۔ان حالات میں اس کا میکے کا دورہ 
 ہے جس سے ناول کا آغاز ہوتا ہے وہ اپنی استانی اور رہنما اصغری خانم سے مل کر کچھ حوصلہ پاتی ہے جسے خط کتابت کے ذریعے جاری رکھنے کا وعدہ لیتی ہے۔
ہر کلاسک ناول کی طرح اس میں بھی قاری کرداروں کے ساتھ ٹرین کاسفرکرتا ہے۔منیرہ اپنے گھر واپس جارہی ہے  اس منظر میں زنانہ ڈبے میں ہونے والی جھڑپیں جہاں قاری کو مسکرانے پر مجبور کرتی ہیں وہیں جذباتی بھی کردیتی ہیں!جب ڈاکو اندر گھسنے کی کوشش کرتا ہے تو تمام خواتین اپنے جھگڑے اور سماجی رتبے کو بھلاکرمتحد ہوکر اس کوناکام بناتی ہیں۔۔۔پھر خوب خوب باہمی خلوص و محبت کی باتیں ہوئیں اور مل جل کر پاکستان کی خیر مانگی گئی اور اس کی سر بلندی اور استحکام کی تمنائیں ظاہر کی گئیں س موقع پر قاری ایک متحد قوم ہونے کا فخر محسوس کرتا ہے (گویا یہ بات طے ہوئی کہ ادب جذبے کی افزائش میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے!)
چونکہ ناول کی تیکنک میں تجسس بھی لازمی ہے لہذا سفر کے اختتام پر وہ ایک دوسرے کے پتے حاصل کرلیتی ہیں اور جب وہ انگریزی بولنے والی لڑاکا خاتون منیرہ کے گھر پہنچتی ہیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ وہ ماجد کی چھوٹی پھپھی طاہرہ ہیں۔وہ ماجد کا خاندان والوں سے ملاپ کرواتی ہیں۔ یہ ماجد کی زندگی کا حاصل تھا کہ وہ اپنے ددھیال والوں کے ساتھ برابری بلکہ کچھ اونچے مرتبے کے ساتھ روابط رکھے۔ جب تعلقات استوار ہوتے ہیں تو آمد ورفت کے ساتھ میل ملاپ بھی بڑھتا ہے۔ایسی ہی ایک محفل کے ذکر سے اس مضمون کا آغاز کیا گیا ہے۔
 محفل کی گفتگو سے منیرہ سخت جز بز ہے۔ اس کے علاوہ گھر کا نظام درہم برہم، بچے بے قابواور بجٹ آؤ ٹ ہونے کی فکر مندی ہے ایسے میں ماجد کی کزن کی بیوی منیرہ کو ماجد اورایک رشتہ دار لڑکی سے بڑھتی ہوئی قربت کا احساس دلاتی ہے تو وہ تفکر کا شکار ہوتی ہے۔ بے بسی کے عالم میں وہ بڑی جٹھانی عابدہ کو اپنے گھر بلالیتی ہے جس کا ماجد پر کافی رعب ہے۔ وہ گھر کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر ماجد اور اس لڑکی کو خوب لتاڑتی ہے ۔نتیجتا یہ محافل بکھرتی ہیں مگر اس کے بعد ماجد بہت پریشان سا رہنے لگتا ہے۔منیرہ بد گمان ہوتی ہے اورماجد کا چپ چاپ رویہ دیکھ کر الجھتی رہتی ہے۔
ایسے میں منیرہ کو اپنے بہن بھائیوں کی شادی کی اطلاع ملتی ہے وہ اپنی الجھن کے باعث جانے میں تذبذب کا شکار ہے مگر خلاف توقع ماجد
 با اصراراور بخوشی منیرہ اور بچوں کو روانہ کردیتا ہے اس وعدے کے ساتھ کہ وہ عین وقت پر پہنچے گا۔منیرہ بادل ناخوستہ چلی تو گئی مگر اس کا دل گھر میں ہی اٹکا رہا  اور پھر جب حسب وعدہ وہ نہ پہنچا تو اس کی تشویش عروج پر تھی۔فون کرنے پر سرکاری کام سے کراچی جانے کو عذر بتا تا ہے۔ تقریب کے بعد اصغری خانم اس کو بہت اطمینان اور تسلی کے بعد بتاتی ہیں کہ ماجد کسی رشوت کے مقدمے میں ماخوذ ہے اور اس کی انکوائری ہورہی ہے یا ہونے والی ہے۔
اس کے بعد ناول کا رنگ بدلتا ہے جب شادی کے تیسرے دن ماجد کا خط ملتا ہے وہ اپنے تمام گناہوں، کوتاہیوں کا اعتراف کرتا ہے۔اس کے بعد مقدمہ عدالت میں چلاگیا اور رسواکن تفصیلات سامنے آتی ہیں تو منیرہ کے والد جان بر نہ ہوسکے جبکہ والدہ فالج کا شکار ہوگئیں۔ مصیبتوں یا بقول اصغری خانم آزمائشوں کا پہاڑ منیرہ پر ٹوٹ پڑا۔اور پھر والدہ بھی انتقال کرگئیں۔بھاوج کا بدلتا رویہ، دوچھوٹے بہن بھائی کی ذمہ داری کے ساتھ باپ کی غیر موجودگی اور گھر سے بچھڑنے کے باعث چڑ چڑا ہٹ کا شکار اپنے تین بچے!  منیرہ کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس کس بات پر روئے! یسے میں اس کی پرستارممانی اور استانی اصغری مادی، جذباتی اور روحانی سہارا بنتی ہیں اوپھرمنیرہ کی با حیثیت پھپھی آمنہ افریقہ سے اچانک پہنچتی ہیں تو اس کے کافی دکھ اور ذمہ داریاں کم ہوجاتی ہیں مگر اپنے گھرسے در بدری اور شوہر کی قید کی آزمائش ابھی اس کے سامنے پہاڑ کی طرح کھڑی ہے۔
ایسے ہی ایک برسات کے موسم میں ماجد جیل سے رہا ہوکر آجاتا ہے۔ جیل سے لکھے جانے والے خطوط سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس کی قلب ماہیت ہو چکی ہے مگر بہر حال وسوسے منیرہ کے سامنے ہوتے ہیں۔ ماجد کی واپسی کے بعد سب سے بڑا معرکہ اپنے خاندان میں اس کے وقار کی بحالی ہے جس میں کامیابی ہوتی ہے۔
ناول کا خوشگوار اختتام ایک قصباتی زندگی کے ایک منظر سے ہوتا ہے۔ جہاں رزق حلال زندگیوں میں شہد گھولتا نظر آتا ہے جس میں مصنفہ اس چابک دستی سے رنگ بھرتی ہیں کہ قاری اس کے سحر میں ڈوب جا تا ہے۔اس منظر میں منیرہ کی زبانی ایک خوشحال اور سکھی پاکستان کے لیے مانگی گئی دعائیں اس بات کا مظہر ہیں کہ انفرادی دکھ سکھ  اجتماعی معاملات کے بڑے کینوس کے آگے ہیچ ہیں اس طرح وہ قارئین کے دل میں حب الوطنی کے بیج بوتی نظر آتی ہیں۔
محترمہ بنت الاسلام نے جذبہ خیر کے تحت کی گئی کوششوں کو بھی اس ناول میں اجاگر کیا ہے۔ جب جیل سے ماجد کے خطوط کی بابت وہ اصغری خانم سے استفسار کرتی ہے کہ:
آپاجان! کیا دنیا میں صرف سزاؤ ں ہی سے انسان کی اصلاح ہوا کرتی ہے اور کسی شئے سے نہیں ہوتی؟
 جواب میں وہ بتاتی ہیں کہ یہ فارمولہ درست نہیں کیونکہ جیل سے اکثر کچے مجرم پکے بد معاش بن کر نکلتے ہیں......اس مکالمے میں وہ بہت اچھی طرح اسے باور کرواتی ہیں کہ مخلصانہ کوششیں ہر گز رائیگاں نہیں جاتیں۔گویاادب نظریے کی ترویج میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس تحریر میں ناول کے ہر کردار کا جائزہ ممکن نہیں مگرمنیرہ کا مثالی کردار ہر دور کی طرح آج کی عورت کے لیے بھی راہنما ہے۔ اگر ہر گھر میں کلثوم اور مریم نواز کے بجائے منیرہ جیسی عورت ہو تو یقین رکھیں کرپشن نامی ناگ کا سر خود بخود کچل جائے۔

فرحت طاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ, ستمبر 16, 2017

زندگی کا دوسرا رمضان


دوسرارمضان مبارک!

اس سال رمضان کی آمد سے  پہلےہی خبر گرم تھی کہ گرم ترین روزے ہوں گے!  کسی کی بات دل کو اچھی لگی کہ33سال بعد   بڑے اجر والے روزے  آرہے ہیں ! بات تو درست ہے کہ مشقت میں اجر ہے ۔ ہر وہ فرد جو پچاس کے پیٹھے میں ہواس بات کا گواہ ہے کہ اس کے بچپن یا نوعمری میں بھی ایسے پر مشققت روزے آچکے ہیں یعنی 1983ء  اور1984ء میں  مزید یہ کہ اب ایسے روزے 2050 ء میں آئیں گے ! یعنی  ہم اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نےاپنی زندگی میں دو دفعہ بقائمی ہوش وحواس  اجر سے بھرپور روزے سمیٹے ہیں ۔ ایک ابتدا ئے بہار میں تو دوسرا عمر کے دور خزاں میں ! ہماری نسل کے لیے  ایک قابل فخر بات ہے!!! ۔
33سال پہلے کا رمضان   جوکئی لحاظ سے ہمارے لیےذاتی اہمیت رکھتا ہے ۔یہ وہ رمضان جب  امی ہمارےدو چھوٹے بھائیوں کے ہمراہ نائیجیریا  گئی ہوئی تھیں جہان اباجان بسلسلہ ملازمت مقیم تھے۔ گرمی کے رمضان ، امتحان اور گھریلو ذمہ داریاں ! سر منڈاتے ہی اولے پڑنے والا معاملہ تھا  جب زندگی بدلی ہوئی نظر آئی ۔ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے التفات کی وجہ سے ایک دو دن تو احساس نہیں ہوا مگرپھر  تو روزے کی سختی سے زیادہ حالات پر رونا آیا !  دو عدد برادران جن کا رویہ ہمارے ساتھ میں نہ مانوں والا تھا ،ایک بہن امی اباکی لاڈلی گڑیا جس پر ٹچ می ناٹ کا فقرہ صادق آتا ہے کے ساتھ گزارا کرنا ۔دونوں گروپ میں کاہلی اپنے عروج پر ! سحری تو سحری افطار میں بھی نیند سے اٹھا نا پڑتا ۔یعنی جانا ان کو کوچنگ یا کام سےہے اور نیند ہماری خراب ہو!۔۔۔کچھ عجیب و غریب سے حالات تھے ہماری کڑواہٹ آپ محسوس کر سکتے ہیں !
رمضان میں افطاری اور سحری کا معیار اور مقدار ایک اہم معاملہ ہوتا ہے جس پر ہمارے بھائی کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ تھے ۔امی بے چاری اسٹور میں بہت سامان رکھ کر گئی تھیں ۔فرج میں بھی جس حد تک ممکن تھا کھانے پینے کی اشیاء بھری ہوئی تھیں مگر پھر بھی روز کے کام تو روز کرنے ہی ہوتے تھے۔ جس میں چنوں کی چاٹ ،پکوڑے اور شربت لازمی سے آئیٹم تھے ۔دو جگ شربت ، تربوز ، درجنوں  گلاس  پانی  اور پکوڑوں کے ڈھیر سے انصاف کرنے کے بعد بمشکل نماز ادا کرکے ہم سب صحن میں پڑی پلنگوں پر گر جاتے ، بھائی کے اگر دوست وغیرہ آجاتے تو وہ لان میں محفل جمالیتے ۔باقی گھر تو تنور بنا ہوا ہوتا جس میں خوب چھڑکاؤ کر کے گزارہ کرتے۔ حد یہ کہ سحری اور افطاری بھی صحن یا لان میں ہوتی ۔کھانے کے بجائے آم کھا لیے یا بڑے بھائی کسی کسی دن آئسکریم کا اسکوپ لے آتے یا پھر کولڈ ڈرنک کا کریٹ  ( اس وقت لٹر بوتل کا رواج نہ تھا)تو ہم سب مزے کرتے۔آپ یہ مت سمجھیں کہ راوی عیش ہی عیش  لکھ رہا تھا کہ امی ابا اور دو بلونگڑوں کے نہ ہونے کے باعث ہم بڑی آزادی اور کروفر سے رہ رہے تھے ۔آہ وہ زمانہ جب محلے والے،رشتہ دار اور دوست سب کے سب  ہم پر کڑی نظریں رکھے ہوئے تھے۔ خصوصا برابر میں  رہنے والی باجیاں تو گویا ہماری چیک پوسٹ تھیں ۔کون آیا ؟ کتنی دیر قیام رہا ؟ کیا تواضع ہوئی ؟ مقصد آمد وغیرہ وغیرہ ۔۔ہماری ہر سرگرمی ان کی نظر میں تھی ۔ایک تو وجہ ہمارے گیٹ ملے ہوئے تھے ۔لان  کی چھوٹی چھوٹی دیواروں سے ویسے بھی کوئی پردہ ممکن نہیں تھا اور پھر یہ کہ ان کا گھر ہمارا ٹیلی فون بوتھ بنا ہوا تھا (یوں تو  گھر میں ٹیلی فون کی سہولت دستیاب تھی مگر ہمارے فو ن میں کوئی مسئلہ تھا جس کے حل کےلیے  ابا جان کی موجودگی  ضروری تھی )  ہماری اس مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ  ہماری لاگ بک تیار رکھتیں ۔اب بھلا ایسے میں کوئی کیا آزادی کا سانس لے سکتا ہے ؟ اس وقت رمضان کا اتنا تقدس تھا کہ بھولے سے بھی ٹی وی کھولنے کا خیال نہ آتا  ۔یہ اور بات ہے کہ ٹی وی کی نشریات بھی بہت پاکیزہ  اور پرنور ہوا کرتی تھیں مگر پھر بھی ٹی وی شاید خبروں کے لیے کھلتا ورنہ بند ہی رہتا حالانکہ والدین کی عدم موجودگی کے باعث کوئی پابندی نہ تھی ۔
اس مضمون کو پڑھنے والے نوجوان قارئین کے لیے یہ تصور سوہان روح ہے کہ پھر روزہ کیسے گزرتاہوگا ؟ تو عرض  یہ ہے کہ بہت عمدہ ! آپس میں روابط اور گپ شپ کے باعث کبھی بوریت کا سوال ہی پیدا نہ ہوا ۔(یہ تو آج کی نسل کا مسئلہ ہے!  تفریح  کے معنی یکسر تبدیل ہوچکے ہیں ! )   ہماری دوسراہٹ کے لیے بھائی کے عراقی دوست اپنی کزن سعودۃ  کو ہمارے گھر لے آتے۔وہ کلیہ ادویات کی طالبہ تھی ۔بے حد شوخ ،باتونی اور کھلنڈری ! وہ اپنے استادوں کی نقلیں اتارتی تو ہمیں اچھا نہ لگتا ، دوسرے عرب اہل زبان ہونے کے باعث وہ ہمارے عربی تلفظ کی بھی دھجیاں اڑاتی ۔اس کی بہن اکرام جو میڈیکل کی طالبہ تھی نسبتا سنجیدہ ، معصوم ،گڑیا جیسی ! اردو بھی بہتر سمجھ لیتی تھی ! سعودۃ کی نظرہمارے بالوں پر رہتی ( بقول ہمارے والدین  ہماری غذا جسم کے بجائے بالوں کوصحت  بخشتی تھی !) ۔ایک دن وہ کسی شمپو کی لٹر بوتل لے کر آئی جس پر عربی عبارت تھی ۔ہم جو اس وقت تک  شمپو تبرکا ً  ہی استعمال کرتے تھے خوشی سے کھل اٹھے کہ اس کو ہمارے  بالوں کی کتنی فکر ہے !  اور جب اس سے سر دھویا تو بہت ہی کالا ساپانی نکلا ۔بال بہت سلکی ہوگئے ۔یہ اور بات ہے کہ آہستہ آہستہ ہمارے بالوں کی چمک ختم ہوتی گئی ۔۔نہ معلوم اس نے ہمارے ساتھ دوستی کی یا دشمنی ؟
وہ رمضان جس کا ذکر خیر جاری ہے اس لحاظ سے بھی  یاد گار ہے کہ اسی رمضان  میں پہلی دفعہ ہمیں قرآن کا ترجمہ پڑھنے کی سعادت ملی۔عبادت سے ہمارے شغف میں اضافہ ہوا۔ کچھ  نیک دل سہیلیوں کی صحبت اور دوسرے طیبہ شفائی کا انداز ۔دل بدلنے لگا ۔ بدنی عبادتوں کے معیار میں بہتری آئی اور نمازوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ۔ عشاء کی 17 اور تراویح کی 20 رکعتیں ! ہم نہ تھکتے مگر دیکھنے والے ہماری طرف سے فکر مند ہوتے ۔امتحانات کا بھی زمانہ تھا ۔ دل بھر کے نفل مان لیتے ! ہر پیپر کی 50 رکعتیں تو بنتی تھیں اور بائیوفزکس  کے مشکل مضامین کے لیےتو 100 رکعتیں بھی  کم تھیں ! وہ تو اللہ بھلا کرے کشفی آنٹی ( بلقیس کشفی ) کا  جنہوں نے بہت پیار سے بتایا کہ بیٹا اللہ تو دو رکعتوں پر بھی راضی ہو جاتا ہے اگر خلوص نیت سے پڑھا جائے ! بس ان کی بات ہم نے پلے سے باندھ لی ! کہیں تو محض سجدہ شکر سے ہی کام چلا لیتے ہیں !( اطمینان ہے کہ اسٹاک میں کچھ نوافل تو موجود ہیں جو اب عمر کے اس حصے میں حاصل کرنا محال ہیں کہ اب تو فرض نمازوں کا بھی وہ معیار نہیں رہا ! )
یہ وہی رمضان ہے جس میں ہم نے پہلی دفعہ کڑھی پکائی ! سوچا پکوڑے تو بنا ہی لیتے ہیں تھوڑی اور محنت کر لیتے ہیں           ! گوگل کا زمانہ نہیں تھا کہ ترکیب سرچ کر لیتے ۔پڑوس کی چچی سے سے پوچھا اور کچھ امی کو بناتے دیکھا تھا ۔یاد کرکے بناہی لی ۔ شکل اچھی تھی چچی نے تعریف کی توہم خوشی سے پھول اٹھے   ۔ چند دن بعد انہوں نے بھی کڑھی بنائی اور ہمیں بھیجی ۔جس کو کھا کر ہم نے سوچا کڑھی تو یہ ہے تو جو ہم نے بنائی تھی وہ کیا تھی ؟صرف عمدہ سا بگھار جو بیسن کے ملغوبے پر ڈالا گیا  تھا ۔چچی کی عظمت کے قائل ہوگئے ! ایک ماہر فن کبھی حوصلہ شکنی نہیں کرتا ۔ ہمارے اندر جتنی بھی مہارتیں ہیں اس کا کریڈٹ چچی کو ہی جاتا ہے ۔ جن سے ہم نے باضابطہ زانوئے تلمذ تو طے کیا ہی ،چلتے پھرتےبھی بہت کچھ سیکھا اور اللہ سلامت رکھے اب بھی کوئی بات سمجھ نہ آئے تو ان کا مشورہ کام آتا ہے !
۔ پھر اسی رمضان میں ہمیں پردے کی توفیق ملی۔ یہ ہماری زندگی کا ایک اہم موڑ تھا ۔ مثال بننا اتناسہل تو نہیں ! بر قع کےکپڑے کا حصول اور سلائی امی کے بغیر مخلص ساتھیوں  کی مدد سے آسان ہوا۔ لیکن مشکل ترین مر حلہ اس کو پہن کر ہم جماعتوں ، کزنز اور دیگر محلہ دار( جن کے ساتھ عمر بےتکلفی میں گزری ہو ) سامنا کرنا تھا ،بہر حال  یہ مہم تو سرکرنی ہی تھی! سب سے پہلے ٹاکرا  کشفی انکل   مر حوم سے ہوا ۔۔
"کیا ہم سے بھی پردہ ہو گا ؟  چمک کر بولے   " جی ہاں ! جی نہیں ! "      ہم نے مری ہوئی آواز میں جواب دیا ۔یہاں پر پھر آنٹی نے ہم دونوں کے درمیان مک مکا کروایا ! یقینا انکل سے کہا ہوگا بچی شرعی پردہ کرنا چاہ رہی ہے تو آپ کو تو خوش ہونا چاہیے اور ہماری کاؤنسلنگ بھی اس طرح کی کہ ہر مخالفت کرنے والا دشمن نہیں ہوتا اور حزب الشیطان تو بالکل نہیں ہوتا۔      ۔۔! ( جیسا کہ ہم اس وقت قرآن کی اصطلاحات کو براہ راست استعمال کرنے لگے تھے )   ثابت ہوا کہ نرا علم خطر ناک ہے اگر اس کے ساتھ کوئی رہنمائ کر نے والا نہ ہو !  یوں ہمارے درمیان ادب ، احترام اور التفات کا جو تعلق قائم ہوا وہ بچگانہ بے تکلفی اور معصومیت و سادگی کا ہی ایک رخ تھا ۔جو افراد ان کو جانتے ہیں انہیں معلوم ہوگا کہ وہ چھوٹوں سے کتنی اپنائیت رکھتے تھے۔۔!
عزیز قارئین ! ہم نے تو 33 سال پرانے رمضان کا حال بیان کرنا شروع کیا تھا مگر اس دور کے کردار ہمارے اس سفر میں شامل ہوتے جارہے ہیں اور بات طولانی ہو رہی ہے  !  ہمیں صفحات کی تنگی کا بھی خیال کرنا ہے اور وقت بھی مختصر ہے کہ اشاعت میں چند گھڑیا ں ہی رہ گئی ہیں ۔۔۔لہذا اپنی بات یہاں وقفہ کے ساتھ ختم کرتے ہیں ۔
 عید تک کیا رہا ؟ گھر کے جو افراد باہر تھے ان پر کیا بیتی ؟ اس کے اثرات ہم پر کیا پڑے ؟ واپسی اور اس کے بعد کے حالات بھی چند سطروں میں نہیں بیان کر سکتے لہذا اجازت  اگر موقع ملا تو پھر باقی باتیں ہوں گی ان شاء اللہ !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فر حت طاہر 

ہفتہ, جولائی 15, 2017

عظمٰی آپا آگئیں

  

 ..”سنوہبہ!  عظمٰی پھپو آ رہی ہیں ہمارے پاس رہنے کے لیے ....“ ماہا نے اپنی کزن کو اطلاع دی۔

 ”...آہا عظمٰی خالہ کراچی آرہی ہیں .....“    ”پھپو خالہ کی تکرار میں کئی منٹ گزر گئے 

اچھا  لڑو مت!! ایسا کرتے ہیں عظمٰی آپا کہتے ہیں ان کو امی ابو کی طرح 
...!“
ہاں عظمٰی آپا آ رہی ہیں ...ٹھیک ہے ...!“

 ماہا اور ہبہ آپس میں ماموں اور پھپی زاد بہنیں ہیں۔ ان دونوں کے والدین آپس میں بہن بھائی ہیں۔عارف اور شہلا کے تین بچے عرفان، ماہا اور جبران ہیں جبکہ ظفر اور اسماء کے چار بچے یاسر، ہبہ، صبااور شارق ہیں۔یہ دونوں گھرانے ایک دومنزلہ گھر میں اوپر نیچے رہائش پذیر ہیں۔شہلا اور ظفر کے والدجو ان بچوں کے نانا اور دادا تھے شدید علیل ہوکر انتقال کرگئے۔اس موقع پر سب پنجاب روانہ ہوگئے۔ بڑوں کو تو وراثت کے مسائل نبٹانے کے لیے وہاں مہینہ بھر قیام کر نا تھا جبکہ بچوں کے اسکول کھلے ہوئے تھے لہذا ان کوواپس بھجوادیا گیاتھا اور ان کی نگرانی کے لیے عظمٰی آپا تشریف لا رہی تھیں۔
عظمٰی آپا ماہا کے والد عارف اور ہبہ کی والدہ اسماء کی بڑی بہن تھیں۔ اپنے نام کی طرح بارعب اور باوقار عظمی آپاپہاڑی علاقے میں گرلز ہوسٹل کی وارڈن تھیں۔ وہ یہاں پانچ سال بعدآرہی تھیں۔اس دوران گھر سمیت بچوں میں خاصی  تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں۔
”..ارے میرا جوبو کتنا بڑا ہوگیا ...“ انہوں نے آٹھ سالہ جبران کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔اشارہ ماں کی گود کی طرف تھا۔
”..اب میں اتنا بھی چھوٹا نہیں تھا ....“ جبران نے بڑے بہن بھائی کے قہقہہ لگا نے پر ذرا تنک کر کہا۔ 
 تحائف تو ہوتے ہی ہیں خوشی کا باعث مگر ان کا عمر،ذوق اور پسند کے لحاظ سے انتخاب حیرت انگیز طور پر خوشگوار تھا۔ وہ بچوں کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھی تھیں۔ایک اچھے منصوبہ ساز کی طرح وہ پہلے صورت حال کا جائزہ لے رہی تھیں جس کی روشنی میں یہاں قیام کی حکمت عملی متعین کی جا سکے۔کالج بوائز یاسر اور عرفان، میٹرک کی طالبات ماہا اور ہبہ جبکہ نویں کی صبا اور آٹھویں جماعت کے شارق کے ہمراہ بے بی آف دی فیملی جبران چوتھی جماعت میں زیر تعلیم تھا۔ خاصہ مختلف النوع ٹارگٹ تھا ان کے سامنے
 ”..عظمٰی آپا! نوشہرہ کا موسم ....“  ماہا کی بات ادھوری رہ گئی۔
عظمٰی آپا؟کیامطلب؟آپا تو میں تمہارے والدین کی ہوں۔تمہاری تو پھپو ہوں۔رشتہ داری کا قحط تھوڑی ہے ہمارے پاس انگریزوں کی طرح ....ہمارے پاس ہر رشتے کا پیارا سا لقب ہے ....پھپو جانی ..خالہ جان....“ 
نوشہرہ کا موسم تو گیا بھاڑ میں! کمرے کا موسم اچھا خاصہ گرم محسوس ہونے لگا۔
پھپو جانی ..........خالہ جان ..... سارے بچوں نے جیسے اپنا ابتدائی سبق پڑھا
ارے ایک دفعہ ہم بچے اسکول سے آئے تو گھر میں تالا ..خیر چابی تو ہم نے گملے کے نیچے سے نکال کرگھر کھول لیا مگر اندر بڑی ابتری ...کھانا بھی نہ پکا ہوا ...لگتا تھا امی اور دادی بڑی عجلت میں نکلی ہیں ...“ انہوں نے دیکھا بچوں کی توجہ ان کی طرف مبذول ہوچکی تھی ”بھوک سے براحال! ایسا کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔ خیر ڈھونڈ ڈھانڈ کر کچھ سکے جمع کیے کہ سامنے دکان سے کچھ لے آئیں .....!“
”اف اتنی غربت تھی خالہ جان آپ کے گھر میں ....!“ انداز میں تمسخر اور شوخی لیے یہ تیرہ سالہ شارق تھا۔(نیا نیا ٹین ایجرز میں شامل ہوا تھا لہذا بد تمیزی کی کی طرف مائل نظر آتا تھا)۔یہ کہتے ہوئے اس نے گویا چندہ جمع کرنے کے انداز میں اپنے بھائی بہنوں کی طرف ہاتھ پھیلا نا شروع کردیا اور ان سب نے بھی اشارے سے اپنی اپنی جیبوں سے اس کی جھولی بھرنا شروع کردی۔سب کے چہرے پر شرارت ناچ رہی تھی۔ عظمٰی آپا نے بھی برا ماننے کے بجائے اس سے حظ اٹھا یا۔
”...ارے اس وقت اتنی مہنگائی تھوڑی تھی۔سکوں میں بھی ڈھیروں سامان آجا تا تھا  ”تین آنے کا انڈہ اور اگر دو لیں تو چونی کا...!“ چونی اور دونی..؟  بچے حیرت میں ڈوب گئے
 ”بڑی پھپو! آپ کتنی پرانی ہیں؟“  جبران کے سوال پر سب بچے ہنس پڑے جبکہ انہوں نے ستائشی نظروں سے  اسے دیکھا کہ اس نے حاضر دماغی سے انہیں بڑی پھپو کا خطاب دیا کیونکہ پھپو تو وہ اسماء کو ہی کہتا تھا۔دوسرے  یہ کہ ہاؤ اولڈ آر یو؟ کا درست تر جمہ کیا!
”بیٹے بڑوں کی عمریں نہیں پوچھا کرتے ...بس اتنا جان لو کہ تمہارے ابو سے اتنی بڑی ہوں جتنی بڑی تم سے ماہا آپی ہیں ...!“
پھر تو آپ میرے ابو پر بہت ظلم کرتی ہوں گی....؟“ اس ادھورے جملے میں وہ اپنے پر بیتی داستان بیان کر رہا تھا اور ماہا کے اس کو گھورنے اور دانت پیسنے سے اس بات پر مہر ثبت ہو رہی تھی۔پچھلے دنوں ٹیچر نے مسلمانوں پر ظلم کے حوالے سے سبق پڑھا یا تھا۔اس بے چارے کو اس لفظ کے استعمال کا خوب موقع ملا جبکہ باقی بچوں نے ظالم، ظالم کے نعرے لگانے شروع کردیے۔ ”نہیں چلے گا ...ظلم نہیں چلے گا ....!“  بظاہر تو وہ مذاق کر رہے تھے مگر دراصل وہ عظمٰی آپا کو چڑا رہے تھے۔وہ تو عرفان نے ان کے بگڑ تے موڈ کا اندازہ کر کے ان سے قصہ مکمل کرنے کی درخواست کی
”ارے نہیں جوبو! سختی کرنے کے لیے ہمارے ابا ہی کافی تھے . ان کا مقولہ تھا۔ کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ ...! میں تو اپنے بہن بھائیوں کا بہت خیال رکھتی تھی .پوچھنا اپنے امی ابو سے؟ “ انہوں نے جوابی سوال سے گویا بچوں کو سر زنش کی۔
” پھر کھانے کا کیا ہوا؟ آگے بتائیں نا!“  شارق نے اس موضوع سے اکتا کر کہا 
”ہم ان کو لے کر افضال انکل کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں پیسٹریاں، ٹافیاں اور ڈبل روٹی دے دی۔ انڈے نہ دیے کہ تمہیں چولہا جلانا نہیں آئے گا۔آگ لگا لوگے،کولڈ ڈرنک کی بوتل ...وہ تو عید پر ہی ملا کرتی تھی....!“ عظمیٰ آپا اپنے بچپن میں کھو چکی تھیں اور آ ج کے بچے ان سے سوال کر رہے تھے
  ”اوفوہ! آپ لوگوں نے پیزا کا آرڈر کیوں نہیں دے دیا۔ہوم ڈیلیوری سروس ...؟؟“
”اس وقت ایسی علت (سہولت) نہ تھی ...مگر پڑوس سے ہانپتی کانپتی بشرٰی خالہ ٹرے سجائے آ گئیں اور اپنے ہاتھ سے نوالے بنابناکر  کرعارف اور اسماء کے منہ میں ڈالنے لگیں ..کیونکہ انہیں معلوم تھا ان دونوں کو امی اپنے ہاتھ سے کھلاتی ہیں ...اور ساتھ ساتھ کہہ رہی تھیں  ”.دیر ہوگئی۔تمہارے چچا  نماز پڑھ کر آگئے کہہ رہے تھے کہ بچے ابھی تک یونی فارم نہیں بدل سکے ہیں۔جلدی سے کھا نا لے جاؤ! ....“ بچے حیرانگی سے عظمیٰ آپا کی باتیں سن رہے تھے۔ کتنی اجنبی سی لگ رہی تھیں یہ باتیں! اتنی امن وآشتی، یگانگت اور فر صت سے رہا کرتے تھے لوگ! (اس قسم کے حالات میں آج کل کے مناظر کچھ یوں ہوتے ہیں کہ پچھلے دنوں کسی عزیز کے انتقال کی خبر آئی تو گھر پر صرف شہلا اور اسماء تھیں رضیہ بواکی موجودگی کے باوجود وہ ایک بجے تک گھر سے نکل پائیں اور جب پہنچیں تو جنازہ اٹھ چکا تھا اور وہاں سے بھی مستقل بچوں  سے رابطے میں! پڑوسیوں سے تعلق تو ایک طرف گلی کے گارڈ تک پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتاتھا!)
بہر حال اس پرانے قصے سے ماحول کا تناؤ دور ہوگیا اور تھوڑی انسیت پیداہوگئی۔ رات کافی ہورہی تھی۔ سب کو سونے کی ہدایت کرکے وہ بڑے لڑکوں سے پوچھنے لگیں
 ”یہاں فجر کی نماز کس وقت ہوتی ہے؟“  مخاطبین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
(وہ تو جب اٹھتے تھے ادا کر لیتے تھے! وقت تو کبھی نوٹ ہی نہیں کیا)
   ”اچھا میں اپنے موبائیل سے دیکھ لیتی ہوں ..“ انہوں نے بٹوے سے اسمارٹ فون نکالا تو بچوں کی آنکھیں تجسس سے چمکنے لگیں۔
”ساڑھے چھہ بجے ...ہوں! مسجد تو سامنے ہی ہے۔بہر حال میں چھہ بجے آپ سب کو اٹھا دوں گی ...“ انہوں نے عرفان، یاسر اور شارق کو ہدایت دیتے ہوئے کہا  ”...باقی یہ سب لوگ میرے ساتھ ہی گھر پر پڑھ لیں گے ....“  حتمی لہجے میں بات مکمل کی
”...وہ اصل میں پھپو! ...“  عرفان نے جھجکتے ہوئے کہا۔بچوں میں سب سے بڑا ہونے کے باعث جہاں اس کے اختیارات زیادہ تھے وہیں ذمہ داری بھی تو تھی نا! 
 ” یہ مسجد تو .......... کی ہے۔ابو تو دوسری مسجد میں جاتے ہیں ...“  اپنی دانست میں اس نے سب کی جان بچانے کی کوشش کی۔
”اچھا!!!“ کچھ لمحے سوچنے کے بعد بولیں  ”.....تو ٹھیک ہے! میں اجمل چچا کو فون کرتی ہوں۔وہ تم سب کو دوسری مسجد لے جائیں گے.“   اجمل چچا آتے تو ان سے پہلے ان کا ڈنڈا گھر میں داخل ہوتا اور جس سے بچے تو کیا ان کے والدین بھی ڈرتے تھے
 (مارشل لاء سے بہتر اور آسان راستہ عدالتی احکامات کو بائی پاس کرنا ہوتا ہے۔....)”... نہیں نہیں! ہم یہیں پڑھ لیں گے .....!
عرفان اور یاسر نے گھبرا کر ایک ساتھ کہا
”اصل میں خالہ جان ہمیں کالج دیر سے جانا ہوتا ہے .....“
”..یہ تو اور اچھی بات ہے۔نماز کے بعد تلاوت، سیر، ناشتہ اور پھر سبق کی تیاری!“
 اتنا آسان نہیں تھا عظمٰی آپا کو ڈاج دینا۔ وہ روزانہ دوسو سے زیادہ لڑکیوں کو ڈیل کرتی تھیں۔ بلاشبہ یہاں مختلف النوع مخلوق تھی مگر چیلنج قبول کرنا ان کے لیے دلچسپ مشغلہ تھا۔ اگلے دن کاشیڈول طے کرتے ہوئے انہوں نے غیر محسوس طریقے سے اپنے احکامات در ج کروادیے  صبح کی نیند ممنوع قرار پائی، ظاہر ہے اس کے لیے رات جلدی سونا ضروری......وغیرہ وغیرہ ....لڑکوں اور لڑکیوں نے علیحدہ علحدہ اور بہن بھائیوں نے الگ الگ کارنر میٹنگز کر کے ایک ڈھیلا ڈھا لا لائحہ عمل ترتیب دے ہی دیا۔ عظمٰی آپا سے تعاون کی پالیسی کے ساتھ ساتھ اڈونچر کا بھی شوق پورا کرنا تھا۔دوسری طرف عظمٰی آپا نے بھی اگلے چوبیس گھنٹے تمام افراد کے شب وروز کا بغور جائزہ لیا۔ان بچوں کے علاوہ ملحقہ سرونٹ کوارٹر میں رہنے والے رضیہ اور شوہر عنایت گھریلو ملازمین بھی اس میں شامل تھے۔
اطمینان بخش بات یہ تھی کہ اسکول اور گھر دونوں ہی بچوں کی تربیت درست رخ پر کر رہے تھے لیکن کیا ہوکہ آج کل کے بچے ایک دوسرے کے کہنے میں زیادہ ہیں لہذا یہ بچے بھی من مانی کی طرف مائل تھے۔ بڑے دونوں لڑکوں کے پاس موبائیل فون تھے۔دونوں گھروں میں کمپیوٹر موجود تھے۔ لیپ ٹاپ والدین اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ اگر چہ ٹی وی دیکھنے کی فر صت بچوں کے پاس نہ تھی لیکن ڈیجیٹل تفریح کی بھرپور معلومات تھیں اور اپنی سہولت کے لحاظ سے ڈاؤن لوڈ کرکے دیکھتے تھے۔ اور جب وائی فائی موجود ہوتو کیا پریشانی؟  انہوں نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیاتو اسکرین پر سب کی نظریں ٹک گئیں۔جوبو کو گیمز اور کارٹون دیکھنے کی آس لگی جبکہ شارق کو کرکٹ کی جستجو! اتنا آسان تو نہیں تھا،پھر بھی موقع تو مل سکتا ہے مگر ان کو لیپ ٹاپ پر لگے پاس ورڈ سے بڑی مایوسی ہوئی۔
”فیس بک!“ سب نے معنی خیز نظروں سے دیکھا۔ ان کے والدین تو فیس بک اور انٹر نیٹ کا نام سنتے ہی بگڑ جاتے تھے۔
اوہ! خالہ کے دو ہزار فالورز ہیں ...“ شارق کے منہ سے نکلا۔”یہ سب کون ہیں؟“  ہبہ نے سب کے تجسس کو زبان دے دی۔
”ساتھی، پرانی سہیلیاں، رشتہ دار، شاگرد...!  اسماء اور عارف تو استعمال ہی نہیں کرتے!.. حالانکہ رابطہ کا ذریعہ ہے ...انڈیا، کینیڈا،عرب مملکت .......“
”دراصل امی ابونے اس لیے پابندی لگائی ہے کہ ہماری پڑھائی پر اثر نہ پڑے ....“  یاسر نے بات سنبھالی۔یہ نسبتا سیدھا اور نیک لڑکا تھا۔
”ہاں درست ہے! جب تم لوگ چھوٹے تھے تو تمہاری مائیں تمہارے منہ میں چمچہ ڈالنے سے پہلے چکھ کر، چھو کر دیکھتی تھیں کہ گرم یا سخت تو نہیں؟ کچا تو نہیں؟ ظاہر ہے تفریحی غذا کے بارے میں کیسے غیر محتاط ہو سکتے ہیں والدین! ...“  ان کی اس بات پر سب نے شر مندگی سے آنکھیں جھکا لیں اور اعتراف کیا کہ وہ سب فیس بک پر موجود ہیں!اور پھر ان پر انکشاف ہوا کہ ان سب کے یہاں اکاؤنٹ ہیں عجیب و غریب ناموں (آئی ڈی) سے! حتیٰ کہ شارق تک شائننگ راک (چمکدار چٹان) کے نام سے موجود تھا۔اس کو فیس بک جوائن کیے جمعہ جمعہ آ ٹھ دن ہی ہوئے تھے مگر فرینڈز لسٹ سینکڑوں میں تھی۔
”...بس سب میری فرینڈ لسٹ میں آ جائیں۔ بلکہ مجھے آپ سب کا پاسورڈ بھی معلوم ہونا چاہییے...نہ جانے کیا الم غلم تفریح کر رہے ہو تم سب ...!“   ان کی اس بات پر سب کے منہ لٹک گئے اور شارق کے گھورنے لگے جس نے دھڑا دھڑ معلومات ان کو فراہم کیں۔
 ”کوئی مسئلہ نہیں! ہم کوئی غلط چیز تو نہیں دیکھتے....“ ہبہ نے بھائی کی جان بچائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن سب گھر پہنچے تو لاؤ نج میں داخلی دروازے کے ساتھ ہی ایک چارٹ چسپاں تھا جس میں پورے ہفتے کا شیڈول تھا۔ قوانین توڑنے پر سزائیں بھی درج تھیں۔  اپنا اپنا کمرہ دیکھ کر تو سب حیران رہ گئے۔صاف ستھرا، ہر چیز سلیقے سے رکھی ہوئی اور فالتو اشیا ء کا ایک ڈھیر کونے میں نظر آ رہا تھا۔ سب سے زیا دہ ملبہ ماہا کے کمرے سے دریافت ہوا۔انواع و اقسام کے برتن اور چمچے کانٹے، درجن بھر کیچرز، دو کیلکولیٹر،موزے،استعمال ٹشو پیپرز.....اسٹیشنری کی بھی اچھی خاصی تعداد تھی۔اور تو اور ہبہ اور صبا کی کئی گمشدہ اشیاء بھی یہیں سے بر آمد ہوئیں جن کووہ اپنی دانست میں واپس کر چکی تھی اور جس کے لیے دونو ں بہنوں میں آئے دن تکرار ہوتی تھی۔ ماہا نے  ”..واؤ!  تھینک یو پھپو“ کا نعرہ بلند کیا اور دل ہی دل میں بولی
”...اب پھپو کے سامنے تو اس صفائی کو بر قرا رکھنا ہو گا ...کچھ بھی باہر نظر نہ آئے ورنہ ضبط ہو جائے گا  .....“
گو انہوں نے اس ضمن میں کوئی لیکچر نہیں دیا تھا مگر عزائم وا ضح تھے۔ نظم و ضبط اور صفائی کے معاملے میں سب سے زیا دہ دباؤ شارق کو برداشت کر نا پڑ رہا تھا۔ وہ خاصہ سست تھا اس معاملے میں!گیند بلا، فٹ بال،کتابیں، بیگز، جوتے،موزے ..سنبھالتے سنبھالتے عاجز تھا۔یاسر اپنی چیزیں تو قرینے سے رکھتا تھا مگر بھائی کی درستگی کی اسے ذرا کم ہی پر واہ تھی ۔دونوں بہنوں کا کمرہ بہت منظم تھا مگران کو اپنے جھگڑوں سے فر صت نہ ملتی کہ بھائی کی چیزیں سمیٹتیں ....ویسے دونوں میں لگاؤ بھی خوب تھا ...اس دن پتیلی میں لگے سالن کو روٹی کے ٹکڑے سے عظمٰی آپا پونچھ کر کھانے لگیں تو ہبہ زیر لب بول پڑی  ”اف اتنا لالچی پن!“  وہ چونکیں تو صبا بات بنا کر بولی 
 ”الائچی مانگ رہی ہے خالہ ...!“    ان کو اپنی سماعت پر بھروسہ تھا مگر نظر انداز کر گئیں۔ غذا کے ضیاع پر پھر کبھی کسی اور انداز سے بات کرنی تھی!اگلے دن جنک فوڈ کی آمد پر ان کے تبصرے کے جواب میں ماہا نے کہا ”پھپو کتنی کنجوس ہیں ...!“ اور جبران نے زور سے یہ بات دہرادی اگر چہ اس کو کنجوس کا مکمل مفہوم نہیں تھا مگرماہا کے آہستگی سے کہنے پر اسے اندازہ ہواکہ آپیوں سے بدلہ لیا جا سکتا ہے! لیکن لڑکیوں میں بھی بڑا اتحاد تھا۔ہبہ بول پڑی  ”خالہ جان! ماہا تو کنو کا جوس پینے کو کہہ رہی ہے! ...“  وہ پھر طرح دے گئیں۔
     آج کل کھانے کی میز کی گہما گہمی بد لی ہوئی تھی۔ پہلے تو صرف دونوں ماؤ ں کی پکار ہی سنائی دیتی تھی خواہ ناشتہ ہویا کھانے کا وقت! 
”..آ جاؤ! .....ناشتہ کرلو ....اسے ختم کرو ......! نہ ماؤں کی ہدایات ختم ہوتیں نہ ہی بچے عمل درآمد پر آمادہ نظر آتے۔اب کچھ منظر بدلا ہوا نظر آتا۔ انہوں نے اپنی سہولت کے لحاظ سے ایک ہی کچن آباد رکھا تھا۔ کاؤنٹر کے ساتھ رکھے اسٹولز پر لڑکیاں کھاتیں جبکہ لڑکوں کے لیے ملحقہ کمرے میں میز پر کھانے کا انتظام ہوتا۔ لڑکوں کو تمیز سے کھانا دیا جاتا تو جوابا ان کو بھی حتی المقدور سلیقے کا مظاہرہ کرنا ہوتا۔ اور اس دن تو سب کے قہقہے چھوٹ گئے جب شارق خود اپنی پانی کی بوتل بھرتا پا یا گیا۔کچھ کھسیا سا گیا تو خالہ نے اسے لنچ کے لیے ایک اورمزید سنڈوچ دے کر اس کی تعریف کی۔
کہاں تو یہ حال کہ قاری صاحب گھنٹی بجا بجا کر نڈھال ہونے لگتے تو منہ بسورتا ہوا جبران آکر گیٹ کھولتا اور پھر وضو کے نام پر غا ئب! آئے تو سبق یا د نہیں ...ظاہر ہے ٹی وی کے آگے سے اٹھ کر قرآن پڑھنا جبکہ گھر کے بقیہ افراد اسکرین سے چپکے ہوئے ہوں زیادتی ہی لگتا تھا اسے!  اور اب یہ کہ قاری ساحب کی موٹر سائیکل کی آواز سنتے ہی گیٹ کھل جا تا۔جبران وضو کر کے تیار! سبق بھی اچھی طرح یاد! اور آ ج تو حد ہوگئی جب اس نے گاجر کے حلوے کا پیالہ لاکر میز پر رکھا۔گرما گرم خوشبو دار حلوہ! سبق پڑھا نا دشوار ہو گیا۔ میٹھے کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک وقت میں بہت زیادہ نہیں کھا یا جا سکتا اور وہ بھی ایسی صورت میں جب سامنے بیٹھا بچہ چمچے گن رہا ہو!
”..کھائیں کھائیں قاری صاحب ..!“  جبران کا میٹھا میٹھا رویہ بھی حیران کن تھا۔ کسی تقریب میں میٹھے کی ڈش پر ٹوٹ                           پڑ نا ایک الگ بات ہے ..وہ حسرت بھری نظروں سے حلوے کو دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔اسی وقت اندر سے پکار ہوئی تو وہ حلوے کی ڈش اٹھا کر اندرغائب ہو گیا۔ کتنا ظالم بچہ ہے! ایک آدھ چمچ اور لے لیتے۔ انہوں نے سوچا مگر جب اس نے انہیں حلوے سے بھرا ڈبہ پکڑوایا یہ کہتے ہوئے۔”گھر جا کر کھائیے گا قاری صاحب!“ توافسوس ایک خوشگوار حیرت میں بدل گئی۔ اگلے دن اس سے پوچھ بیٹھے۔
”بڑی پھپو اب یہیں رہیں گی؟“  نہیں ایک مہینے کے لیے آئی ہیں ...بچہ تھا نا نتائج سے بے خبر گھر کے بھید کھولنے والا ....آہ نہ جانے اب ایسا حلوہ کب ملے؟  (حلوہ تو واقعی دوبارہ نہ ملا مگر کبھی سموسے یا پکوڑے چٹنی کے ساتھ تو کبھی چائے  بسکٹ! اس آؤ بھگت نے جہاں انہیں ایک مہمان کی حیثیت دے دی تھی وہیں جبران کی بے چین روح کو بھی ایک مصروفیت ہاتھ آ گئی تھی جس کی خوشی سب سے زیادہ ماہا کو تھی کہ  جبران کے بے ہنگم مطالبات اور ضدوں سے اس کی جان بچی ہوئی تھی۔)
 اس شام عظمیٰ آپا  جبران کو اسٹیشنری دلوا کر گھر آئیں تو شارق نے بتایا  ”اسریٰ باجی آ ئی ہیں! آپی کے کمرے میں ہیں ...!“
”اچھا!“  انہوں نے تواضع کی چیزیں تو لڑکیوں کو بھجوادیں مگر خود نہ جاسکیں کیونکہ انہیں شارق کے نئے ٹیوٹر کے تقررکا انٹر ویو کرنا تھا۔ اس سے فارغ ہوئیں تو اسریٰ جاتی نظر آئی۔ سلام دعا ہوئی۔ ان کی ماں اور نانی سے ملا قات کا عندیہ دیا اور پیار سے کہنے لگیں
”مزہ آیا اپنی دوستوں سے ملاقات کر کے؟“  
”جی بہت!“   وہ پر جوش لہجے میں بولی۔ ”سیلفیز بھی لیں؟“   انہوں نے موبائیل دیکھتے ہوئے کہا
”ہاں ..“ وہ ہکلائی مگر ڈھیٹ بن کر بولی ”دیکھیں گی!“   انہوں نے دیکھیں اور پھر بولیں
”ان سب کو ڈیلیٹ کردو ...“    ”جی؟“ وہ ہکا بکا ہوئی اور پھر اس نے ان کی ہدایت پر عمل کیا۔
”آپ اسرٰ ی باجی سے ملیں۔فریدہ خالہ کی بیٹی کالج میں پڑھتی ہیں  ...!“ رات کے کھانے پر صبا نے ٹوہ لینے کے اندازمیں کہا۔
”ہاں!“ وہ پیار سے بولیں۔ ”اس کی امی اور تمہاری ماں میں بھی بڑی دوستی تھی ...“
”کیسی لگیں؟“         ”..اچھی ہے!  بس آنکھوں کے لینز کے بجائے  پاجامہ بدل کر آجاتی تو زیادہ بہتر تھا...!“
”کیا مطلب؟“ لڑکیوں نے بیک وقت پوچھا۔
”آ پ کو کیسے معلوم ہوا کہ وہ لینز لگائے ہے؟ “ صبا نے سوال کیا
”بھئی تمہی تو اس کی آنکھوں کے رنگ کی تعریف کر رہی تھیں؟  اگر قدرتی ہو تا تم کو اتنی حیرت نہ ہوتی ...اور پاجامہ تو نائٹ سوٹ کا ہی پہن کر آگئی تھی غلطی سے بے چاری....!“
”افوہ خالہ بھی بس ہمیں بے بس کر دیتی ہیں ..! اس نے دل میں سوچا
 ’اب اسریٰ باجی کبھی نہیں آ ئیں گی ....!“ یہ ہبہ کا تبصرہ تھا جب شارق نے ان سب کو عظمیٰ آپا کے اسریٰ کے موبائیل سے سیلفیزڈیلیٹ کروانے کا وقعہ من و عن بتا یا مگران سب کی حیرت کی انتہانہ رہی جب اسریٰ کی آمد پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی۔اب اس بھید سے کون پردہ اٹھائے؟ خالہ سے کچھ پوچھنا بیکار تھا! (بلی نے آج تک شیر کو درخت پر چڑھنا نہیں سکھا یا ہے! ) یہ صبا نے دل میں سوچا تھا !

............................................................................................................................................................

رات کو گھنٹی کی آواز پر عرفان اور یاسر گیٹ کی طرف بڑھے۔نہ جانے کس کونے سے ہانپتا کانپتا شارق بھی ان کے پیچھے لپکا
 ”..وہ پھپو جانی! عمیر آیا ہے ...ہم ایسے ہی آؤ ٹنگ کو جا رہے ہیں ...“ عظمیٰ آپا کے استفسار پر اٹک اٹک کر عرفان بولا
”...دن بھر تو باہر ہی رہے ہو! ..اس وقت تو ہوم ٹائم ہونا چا ہیے میرے بچے ..! وہ ملائمت سے بولیں۔سوپ پینے کے بہانے پر انہوں نے پوچھا کہ تیار ملے گا یا جاکر آڈر دوگے؟  
”آڈر پر تازہ بنوائیں گے ...!  یاسر چہک کر بولا۔اس جواب کے پیچھے زیادہ وقت باہر گزارنے کا موقع ملنے کا بہانہ تھا۔
”تو بس اتنی دیر میں گھر پر ہی تیار ہوجائے گا۔ عمیر کو اندر بلالو...! انکار کی گنجائش نہ تھی! بادل ناخواستہ سب ڈرائنگ روم میں آبیٹھے۔
انہوں نے فرج سے چیزیں نکالیں، لڑکیوں کو مدد کے لیے بلوا یا اور سوپ کی تیاری شروع کردی۔ لڑکیاں پہلے تو جز بز ہوئیں کہ ان کا ڈرامہ ٹائم تھامگر اس سر گر می میں جو ٹھٹھول تھا وہ ان روتے دھوتے یکساں ڈراموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ دلچسپ تھا۔ رضیہ بوا آج کل ہکا بکا تھیں۔ عظمیٰ آپا کے کچھ اقدامات تو ان کے لیے سراسر فائدہ مند تھے مثلا اوقات کی پابندی، نظم و ضبط وغیرہ لیکن دوسری طرف جنک فوڈ اور باہر کے کھانے پر پابندی کی وجہ سے کام بھی زیادہ کرنا پڑ رہا تھا۔ اب اس وقت لڑکے باہر چلے جاتے،لڑکیاں کچھ نوڈلز، پوڈلز بنا لیتیں تو وہ آرام سے اپنے کوارٹر میں روانہ ہوجاتیں لیکن اس وقت یوں کچن آباد ہونے سے ان کو بھی مجبورا سوپ کی تیاری میں حصہ لینا تھا مگر وہ حیرت زدہ رہ گئیں جب عظمیٰ آپا نے ان کو کھانا لے کر اپنے کوارٹر میں جانے کو کہا۔وہ شکر ادا کرتی ہوئی چلی گئیں کہ سوپ بنانے اور پینے سے نجات مل گئی۔
دوسری طرف توقع سے بہت پہلے گرما گرم سوپ ملا تو لڑکے اس پر ٹوٹ پڑے۔ بازار سے زیادہ مزیدار تھا اور سب سے بڑھ کر کہ وہاں تو ان کے ہونٹ بھی نہ تر ہوتے کہ سوپ کا پیا لہ ختم ہوجاتا اور ان کے بجٹ میں مزید پینے کی گنجائش نہ ہوتی لہذا حسرت سے دیکھ کر رہ جاتے اور یہاں تو اتنی اچھی طرح سیر ہوگئے اور وہ بھی مفت میں بغیر کسی بد زبانی کے!اس طرح ان کی آؤٹنگ جو باہر کئی گھنٹوں میں ہوتی مختصر ہوکر جلد ہی ختم ہوگئی۔اور پھر ان کے گروپ کی بیٹھک یہیں منعقد ہونے لگیں۔جوازتو والدین کی غیر موجودگی بنامگر دراصل وجہ وہ عزت افزائی تھی جو بقیہ گھروں میں مفقود تھی۔ لڑکوں نے اس زاویے سے سوچا تو پھر تواضع کے اخراجات کے لیے چندہ کرنا چا ہا تو عظمیٰ آپا نے نرمی سے منع کرتے ہوئے کہا
”...جب تک میں یہاں ہوں۔میز بانی میری طرف سے! ہاں میرے جانے کے بعد تم سب شیئر کرلینا .....! ویسے تم لوگ روز اتنی باتیں کس موضوع پر کرتے ہو؟ ...“ 
”..اپنے ملک کی خرابی...مسلمانوں کی بد حالی.....!“  شارق کو یاسر نے گھورا تو وہ خاموش ہوا۔
”محمد بن قاسم نے سترہ سال کی عمر میں سندھ فتح کرلیا تھا!.یہ سن کر تو ہمارے کان پک گئے! ہم کیا کریں؟“  یاسر کے لہجے میں مایوسی تھی۔
”اور  ہمارے ایجاد کرنے کے لیے بھی کچھ نہیں بچا!ساری چیزیں تو دریافت ہوچکی ہیں“  عرفان نے مزاحیہ انداز میں کہا
”ٹھیک ہے تمہیں پہیہ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں مگر اس کو استعمال کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے ...“  عظمیٰ آ پا سمجھ گئیں۔ان بچوں کےسامنے نہ کوئی ہدف ہے اور نہ ہی کوئی مثالی کردار!
”محمد بن قاسم کے کام کو آگے تو بڑھا یا جا سکتا ہے ..!“   ”کیا مطلب؟ “  لڑکے تجسس سے بولے
”اس کو بہت جلد واپس جا نا پڑا اور انتقال بھی کم عمری میں ہو گیا تھا نا! تو اب یہ سوچو کہ اس کو موقع ملتا تو ہندوستان کا نقشہ کیا ہوتا؟ ..“ امکانات کا یہ پہلو سن کر وہ بہت مہمیز ہوئے اور سوچ بچار کے لیے ایک موضوع ہاتھ آگیا۔
عظمیٰ آپا کے بارے میں ان کے خدشات حیران کن حد تک غلط ثابت ہورہے تھے۔ وہ ان کو تفریح کا دشمن سمجھ کربوریت کا اظہار کررہے تھے مگر اس دن سب خوشگوار حیرت میں ڈوب گئے جب انہوں نے رات کے کھا نے پر اعلان کیا کہ کتب میلہ منعقد ہورہا ہے کل ہم سب وہاں جائیں گے!“
”واو!“ بچوں نے نعرہ مارا خاص طور پر لڑکیاں بڑی پر جوش تھیں۔
وہاں انہوں نے سب کو کتب دلوائیں اورہر ایک کی دلچسپی کے لحاظ سے کئی میگزین جاری کروائے۔ بچوں کی حیرانگی بجا تھی کہ والدین تو غیر درسی کتب دیکھ کر آگ بگولہ ہو جاتے تھے۔ ایک بھرپور، مکمل اور مثبت سر گر می کے بعد بچوں کی رائے ان کے متعلق خاصی تبدیل ہوگئی۔اگلے دن بچے کتب میلہ کی روداد لکھ رہے تھے۔ کتابوں پر تبصرے،کرداروں پر بحث! مزے ہی مزے! 
اور اس وقت تو وہ سب بے ساختہ خوشی سے اچھل پڑے جب شجر کاری مہم کے سلسلے میں پھولوں کی نمائش میں جانے کا پرو گرام بنا۔ پکنک کے ساتھ ساتھ معلومات اور تازگی کا احساس! بچوں کوبہت مزہ آیا۔ بہت سے گملے اور بیج وغیرہ خریدے۔ سب نے اپنے اپنے نام کا پودا لگانے کی سر گر می میں حصہ لیا۔ واپسی میں پیزا کھانے کی فر مائش  انہوں نے بڑی خوب صورتی سے بھٹے، ناریل اور انواع و اقسام کے پھل کھلوا کر ٹال دی۔
عظمیٰ آپا کو آئے مہینہ ہونے والاتھا اور وہی بچے جو عظمیٰ آپا کی آمد سے سہم رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم خود رہ لیں گے ان کو تکلیف نہ دیں اب ان کے جانے کا سوچ کر اداس تھے۔ ماہا جو ان کے جانے پر شکرانے کے نوافل پڑھنے کی نیت کیے بیٹھی تھی ا ب آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے تھی۔ آج والدین بھی واپس آپہنچے۔جب ان کی تھکن اتری تو گھر میں تبدیلیوں کو محسوس کیا۔ بچوں کی عادتیں، حرکتیں، مشاغل بدلے بدلے تھے .. مگر ایسا کیسے ہوا؟
صبح کی ٹرین سے عظمیٰ آپا کی روانگی تھی۔رات کو ٹی وی لاؤنج میں بڑے اسکرین پر اس ویڈیو کی رونمائی تھی جو سب بچوں کی مشترکہ کاوش تھی۔ عنوان تھا:   ”محمد بن قاسم کا اگلالشکر“   ایک طرف خواتین تھیں تو دوسری طرف مرد حضرات!
 ”امی امی! یہ میری کتاب سے لیا ہے ....“  جبران کے خوش ہوکر بتا نے پر شہلا نے اسے پیا ر سے گلے لگا یا۔ درسی کتب سے تاریخی واقعات  لے کر ان کی روشنی میں مستقبل کی پیش گوئی اس ویڈیو میں ڈالی ہے۔
”ہمارا اگلا ہیرو ہے سلطان صلاح الدین ایوبی ....!“  عرفان نے ویڈیو کے اختتام پر  بریفنگ کرتے ہوئے کہا۔ ”اور ٹیپو سلطان،
نور الدین زنگی ....! وہ پرجوش لہجے میں بتاتا گیا۔
والدین ابھی مخمصے کا شکار تھے مگر ویڈیو کے اختتام پر جب سب نماز کی تیاری میں لگ گئے تو انہوں نے اس تبدیلی کو پر ستائش نظروں سے دیکھا۔
”پھپوجانی!  آپ اب کب آئیں گی؟ آپ کی توجہ اور رہنمائی نے ہمیں نئی امنگ عطا کی ہے ... اصل میں ہمارے ..!“ عرفان بولتے بولتے رکا تو انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
”تمہارے والدین بوجھل ضرور ہیں میرے بچے!غافل نہیں!...سب سے بڑھ کر انہوں نے مجھے ذمہ داری کے ساتھ اختیارات بھی دیے تھے ورنہ میری کوئی بات تم لوگوں کے لیے قابل قبول نہ ہوتی ...! امید ہے تم سب اس کی لاج رکھو گے ..!“
عرفان نے ان کے عبایا پر لگی مٹی جھاڑتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا اور بقیہ سب بھی ان کے ہمراہ اسٹیشن روانگی کے لیے تیار تھے...
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 (  فر حت طاہر  )

 

بدھ, مئی 3, 2017

خالی پنجرہ

گھر میں ایک ایمرجنسی سی نظر آنے لگی۔ تما م ممکنہ رابطے کیے جارہے تھے مگر کہیں سے مدد نہ مل پارہی تھی کہ یہ جھگڑا ختم ہو ! مگر نہیں اسے جھگڑے کے بجاۓحملہ کہنا چاہیے!! جی ہاں !بڑے پرندے نومولود بغیر پر والے پرندوں کو بری طرح زخمی کررہے تھے۔ گھر میں موجود سب بچے اور لڑکیاں اس منظر کودیکھ کر بہت پریشان تھےاور ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح ان معصوم بچوں کو ان ٹھونگوں سے بچایا جاۓ!!!!!!
 ٹھہریں پہلے پوری بات بتاتے ہیں
سردیوں کی ایک خوبصورت دوپہر تھی جب ہمارے  شوق کی تکمیل ہویئ کہ ہم پرندے پالیں ۔ خوبصورت آسٹریلین طوطے کے دو جوڑے مع پنجرے کے ساتھہ ہمارے گھر آیا ۔بہت خوشی کے ساتھ ان کا استقبال ہوا۔ایک جوڑا سبز رنگ کا تھا جبکہ دوسرا فیروزی اورلیمن کلر کا۔  ان کی غذا، پانی، آرام کا خیال رکھا جانے لگا۔ بڑے نازک اندام پرندے تھے ہر ایک کا دل موہ رہے تھے۔ان کی آواز سے لے کر ادائیں گھر بھر کو بھا رہی تھیں ۔کسی کو وہ شرمیلے لگتے اور کچھ کی نظر میں نخریلے تھے۔  موسم کی شدت کے باعث ان کا خصوصی خیال رکھا جارہاتھا۔ شہر سے باہر جانا ہوا تو ان کی دیکھ بھال کسی کے سپرد کر کے گئے۔
موسم بدلا تو ان کے انڈے دینے کاوقت آ گیا۔اب تو بہت زیادہ توجہ دی جانے لگی۔اور پھر انڈے بھی آگئے۔ اب مادائیں زیادہ تر مٹکی کےاندر قیام کرتیں ہاں کبھی کبھار خانگی امور پر اپنے نر کو گھرکنے یا تبدیلی کی غرض سے باہر بھی آ جاتیں۔ سب کی توجہ فیروزی اور لیمن جوڑے پر تھیں۔ وہ نسبتاً نرم خو بھی تھے۔کچھ عرصے بعد فیروزی والے کے یہاں انڈوں سے بچے نکل آ ئے۔یہ تعداد میں پانچ تھے۔اب ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا ۔غذا ااور پانی کااستعمال بھی بڑھ گیا۔سب ان بچوں کے پروں کے رنگ کے بارے میں پر تجسس تھے ۔ سبز طوطے کے انڈے ہنوز جوں کے توں پڑے تھے ۔تشویش بھی تھی۔ دونوں والدین بھی فکر مندی میں ڈوبے نظر آ تے۔
ایک دن صبح پنجرے میں سارے انڈے مٹکی سےباہر ٹوٹے پڑے تھے ۔گویااب ان میں زندگی کی امید نہیں باقی رہی۔ تھوڑا افسوس ہوا۔ اس جوڑے کے مزاج میں بھی رنج اور  افسوس نظرآیا۔ اگلے ہی دن دو بچے مرگئے۔ ہم سب بہت افسر دہ ہوئے۔پنجرے کی  صفائی وغیرہ کی تو تھوڑی دیر میں ایک بچہ زخمی حالت میں مٹکی سے باہر گر گیا۔فوراً اسے مدد فراہم کر کے واپس رکھا گیا،۔ تھوڑی دیر میں پنجرے سے بہت آ وازیں آ نے لگیں ۔جاکر دیکھا تو سبزمادہ خوب جھگڑا کر رہی تھی۔
اس معاملے کو حل کرہی رہے تھےکہ فیروزی والی ماں پنجرے سے باہر اڑ گئی۔ ابھی ہم اس صد مے سے باہر نہ آ ئے تھے کہ دیکھا کہ بچے خونم خون ہورہے ہیں اور سبز مادہ کی چونچ خون آلود ہے۔آپ صورت حال کا اندازہ کر سکتے ہیں؟
یہ تھا واقعہ  جس کاذکر بلاگ کے آغاز میں ہوا تھا۔۔ کچھ دیر کی پریشانی کے بعد پڑوسی کا بیٹا ہاتھوں میں دستانے پہن کر پنجرے کی طرف لپکا ۔سب سے پہلے تو خونخوار جوڑے کوعلیحدہ کیا گیا ۔ پھر باقی بچوں کی طرف توجہ کی گئی۔ ان کے زخم پر مرہم رکھاگیا۔اس دوران ہم نے پرندوں کی ماہر سمیرا ابراہیم سے رابطہ کرلیاتھا۔تھوڑی دیر میں وہ آ پہنچیں۔ انہوں نے محبت اور پیا رسے ان کی ٹکور کی ۔معصوموں کی چونچیں اس حملے میں توڑ دی گئیں ۔ اب کیسے کھلایا جائے گا ؟ ماں تو پہلے ہی پنجرے میں نہیں ہے؟ ہم سب پریشان تھے۔ خیر وہ ان زخمی بچوں اور ان کے باپ کو اپنے ہمراہ لے گئیں اور ہمارا پنجرہ خالی ہو گیا۔ ابھی تک وہ بچے زندہ ہیں دعا کریں کہ خیریت رہے اگر چہ امید کم ہے ۔( جسے اللہ رکھے اسے کون مارے؟ وہ کافی بہتر ہوگئے تھے)
عزیز قارئین! ، یہاں پر اس بلاگ کا خاتمہ ہو جا نا تھا۔ مگر کچھ باتیں اس واقعے سے سامنے آئیں ان کا ذکر کرتے ہیں ! یعنی کہ ان جوڑوں کو الگ الگ رکھنا تھا۔ جی ہاں ! دونوں جوڑوں کو الگ الگ رکھنا تھا۔غلطی ضرورہوئی لیکن پچھلے چند ماہ سے وہ اتنے خوشگوار ماحول میں تھے کہ ضرورت ہی نہ محسوس ہوئی۔ لیکن اس بات سے آگہی کے نئے در کھلے ۔
 جی ہاں! اس حیوانی جبلت کا اندازہ ہوا جو انسان میں بھی من و عن موجود ہے یعنی حسد کا جذبہ ! قرآن میں ہابیل و قابیل کے واقعے میں یہ جبلت بھائی کا قتل کرتی ہے تو حضرت یوسف کے قصے میں کنوئیں میں پھینکتی نظر آ تی ہے۔ اور آج کے دور میں حسد کی کارستانی بابوں اور عاملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور قتل و خود کشی کے واقعات سے عیاں ہے۔ کیا اس کے حل کے لیے کوئی بات ہے آپ کے پاس؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭    فر حت طاہر     ٭٭٭