اتوار, اپریل 15, 2018

میڈیا کی حقیقت

میڈیا کی حقیقت :

یوں تو انسان اپنی زندگی کے کسی بھی لمحے کو یاد کرے والدین اس میں ضرور موجود ہوتے ہیں مگر آج بالخصوص مجھے اپنے والد بہت یاد آئے..
وہ اپنے عہدے اور علم کی وجہ سے اکثر ٹی وی پروگرامز میں مدعو کیے جاتے جس میں شرکت سے وہ معذرت کر لیتے ..بات صرف ان کی درویشی کی نہیں تھی بلکہ میڈیا کے بارے میں ایک خاص موقف تها جو آج سو فیصد درست ثابت ہورہا ہے! انہوں نے ہمیں یہودی پروٹوکول کی بابت اس وقت بتا یا تھا جو کم عقلی کے باعث ہمیں اس وقت سمجھ نہ آتا تھا
ان کے ساتھی ، احباب حتی کے شاگرد تک ضرور اسکرین پر باقاعدہ یا بے قاعدہ ضرور چمکتے..ہم بچوں کو ارمان ہوتا کہ ہم بھی فخر کریں کہ ہمارے ابا ٹی وی پر آتے ہیں مگر ان کے احتراز کی وجہ سے اس شو بازی سے محروم رہتے..
ایک دفعہ جب ضیا الحق نے نفاذ شریعت کا آرڈیننس جاری کیا تو بر بنائے عہدہ فیکلٹی آف ڈین ان کو ضرور اس پر تبصرہ کر نا تھا. وہ اس شرط پر تیار ہوئے کہ انٹرویو ان کے آفس میں آکر لیا جائے وہ ٹی وی اسٹیشن نہیں قدم رکھیں گے .
جب نشر ہوا تو چونکہ ویڈیو ریکارڈنگ کی اتنی سہولیات نہیں تھیں لہذا ہم سب اسکرین پر آنکھیں گاڑے دیکھنے پر مجبور تھے کہ ری پلے کا کوئی تصور نہ تھا. مجھے یاد ہے وہ ناخوش سے تھے کہ ان کی بات کو جوں کا توں پیش کرنے بجائے ٹوئسٹ کیا گیا تھا .یعنی میڈیا کے بابت ان کے خدشات درست تھے. اور یہ ہی وہ فکر تھی کہ انہوں نے اپنی زندگی میں جو آخری کتابیں خریدیں ان میں سے اس موضوع پر بھی موجود تھیں ..یعنی وہ اس کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتے تھے. .آج جب میڈیا کے چہرے سے آخری قلعی بھی اترگئی تو مجھے یہ کتاب یاد آئی :


.اس کی خریداری کے تھوڑے عرصے بعد ہی وہ بیمار ہوئے اور دنیا سے چلے گئے مجھے یقین ہے اگر زندگی انہیں مہلت دیتی تو وہ چینلز پر اپنی تحقیق سے ضرور متنبہ کرتے .!!


9/11
 کے فورا بعد خریدی گئی اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے چینلز کی بارش 
!!کی گئی ... آہ میری ناسمجھ قوم ! ترقی کا مطلب نہیں سمجھ پائ !!
 یہ بلاگ قندوز افغانستان  میں قرآن کی تقریب اسناد  پر امریکی بمباری میں 100 سے زیادہ حفاظ اور علماء کی شہادت پر میڈیا کی چشم پوشی پر لکھا گیا ۔۔میڈیا کی حقیقت جتنی جلدی ہم سمجھ لیں اتنا ہی بہتر ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 



بدھ, اپریل 4, 2018

خواہش پرواز ہے مگر۔۔۔۔!


       

    خواہش پرواز  ہے مگر ۔۔۔!                    


قلم کار خواہ کالم نگار ہو یا افسانہ نگار ، شاعر ہو یا نثر نگار اپنی تحریر پر رائے ، تبصرے یا حوصلہ افزائی کا منتظر رہتا ہے! یہ ایک ایسی خواہش ہے جس سے کوئی تخلیق کار مبرا نہیں  چاہے وہ  پختہ اور مستند ہو یا نو آموز اور ناتجربہ کار ! ایک فردنے تحاریر کا پہاڑ کھڑا کیا ہو اور دوسرا ذرہ ذرہ جمع کر رہا ہو دونوں مشتاق نظر ہوتے ہیں اپنے قارئین کی توجہ کے! صاحب کتاب سے لے کرمحض مراسلہ نگاربھی  اس دوڑ ( میرا تھن ) میں  یکساں کھڑا نظر آتا ہے ۔
پھر   ہفتہ وار، ماہانہ یا روزانہ کی بنیاد پر لکھنے والوں کی تمنائیں بھی ان کی اشاعت کے لحاظ سے پیدا ہوتی ہیں ۔ دوسری تخصیص مختلف اخبار  و رسائل ، میگزین ، ڈائجسٹ ، خصوصی نمبرز وغیرہ کی معیار کے لحاظ سے درجہ بندی بھی ایک قلم کار کو اس معاملے میں حساس رکھتی ہے ۔  اور انٹر نیٹ کے اس دور میں جب دنیا ایک عالمی گاؤں کا منظر پیش کرتی ہے اور فاصلوں  اور زبان کے مسئلے کی رکاوٹ نہیں ، اشاعت محض ایک انگوٹھے کی  جنبش کی                                                     مر ہون منت ہو تو یہ خواہش کا یہ جزیرہ وسیع سے وسیع تر نظر آتا ہے ۔
آئیے ایک نظریاتی میگزین کے حوالے سے  اس کے عوامل اور اس سے جڑے حقائق کا جائزہ  قاری، قلم کار اور ایڈیٹر کی مثلث  سے لیتے ہیں ۔
کسی بھی میگزین کے باقاعدہ قلم کار نہایت محنت اور تن دہی سے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر ہر ہفتہ اپنا قلم اٹھاتے ہیں تو ان کا حق ہے کہ انہیں اپنے اسلوب ، تحریر کے معیار اور مواد پر فیڈ بیک ملے مگر ایسا  ہوتانظر نہیں آتاکہ:
·       ہر قاری ہر صفحے پر توجہ نہیں رکھ سکتا یہ بلحاظ عمر ، دلچسپی اور مہلت پر منحصر ہے ۔
·       ممکن ہے کہ قارئین کو اس مقصد کے لیے مناسب فورم دستیاب نہ ہو۔
·       قارئین کی عدم دلچسپی اور سستی بھی تبصرہ دینے میں مانع ہوتی ہے ۔
·        ذوق مطالعہ کی کمی بھی سمجهی جاتی ہے (مگر یہ  عذر اس لیے قابل قبول نہیں کہ اگر تحریر جان دار اور چمکدار  ہو تو وہ بار بار پڑھی اور شئیر کی جاتی ہے . پرنٹ میں ہو تو انٹر نیٹ پر اور ڈیجیٹل ہو تو پرنٹ میں شائع ہوتی ہے .)
ایسا کیوں ہے کہ کسی قلم کار کا نام دیکھ کر قاری وہ صفحہ کھول لے یا پھر اس کا نا م دیکھ کر صفحہ پلٹ دے ! یہ صرف موضوع کی بات نہیں بلکہ انداز تحریر پر بھی منحصر ہے ۔کسی بھی قلم کار کے لیے جائزہ لینے کی بات ہے کہ اسے کتنے قاری دستیاب ہیں ؟ خصوصا جو قلم کار کثرت سے لکھتے اور شائع کیے جاتے ہیں انہیں تو اس کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے کہ قاری کو کس حد تک مائل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ؟ سپاٹ انداز تحریر اور بے جان اسلوب کسی بھی قسم کی ہلچل مچانے میں ناکام رہتا ہے بلکہ کسی حد تک منفی تاثرکا  باعث بن جاتا ہے،چنانچہ  جو نظریہ منتقل کرنا چاہتے ہیں وہ  بھی مجروح ہوتا ہے ۔ بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ ہمیں زبان سے نکلے الفاظ کی جواب دہی کرنی ہے تو یہ ہدایت تحریر کے ضمن میں بھی اسی طرح لاگو ہوگی !
تحریر ادبی ہو یا سیاسی ، تفریحی ہو یا مذہبی اس میں قاری کی دلچسپی کو مد نظر رکھنا ازحد ضروری ہے ..مولانا مودودی نے  دقیق ایشوز تک کو بھی اتنے اچھے پیرائے میں بیان کیا ہے کہ قاری لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ..بھلا اسلامی زندگی اور اس کے بنیادی تصورات کو عام فہم الفاظ میں ڈھالنا آسان تھا؟ سود اور پردہ جیسے موضوعات پر مربوط اور مدلل تحریر لکھ کر قارئین کو مائل کرنا اور کرتے ہی رہنا اس بات کا مظہر ہے کہ قلم کار کے الفاظ ضرور جادو جگا سکتے ہیں !  خرم مراد نے بہت سے تنظیمی اور بوجھل  امور کو اتنے ہلکے پھلکے انداز میں قلم زد کیا ہے کہ دل پر اثر انداز ہوتی ہے اور بار بار پڑھنے سے بھی طبیعت مکدر نہیں ہوتی .. دوسری طرف ہمیں میگزین  کی  اشاعت میں تکرار کے ساتھ اکثر تحاریر میں  ربط کی کمی اور مواد کا سر سری اور سطحی ہونا نظر آتا ہے ...
·       موجودہ دور اسٹار ڈم کا دور ہے ۔ہر فردپذیرائی چاہتا ہے ۔اس ضمن میں  اقبال بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ
                           ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ !
تو اس صورت حال میں قارئین کو اپنے طرف مائل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ یہ ہوسکتا ہے کہ تحریر میں اس کا ذکر ہو! پڑھنے والے کو اپنی جھلک نظر آئے ! کتابی باتیں یا تصورات قاری کو بوجھل کر دیتے ہیں ۔ پھر اس تحریر میں شگفتگی اور امید کا رنگ بھی حاوی رہے تووہ قاری کے دل میں اتر تی ہے ۔
پچھلے ہفتے ایک میگزین میں تحریر پڑھنے کو ملی  جو  بچوں کے ایک پروگرام کی روداد ہے  ایک تو اس میں زبان و بیان کی چاشنی ہے اور دوسری طرف ایک شعبے کی کارکردگی نمایاں اور واضح ہوکر نظر آتی ہے تو اس حوالے سے اس روداد میں ایک اپنائیت کا احساس بھی جاگتا ہے ..اس طرح زیادہ سے زیادہ افراد کی تسکین اور ربط  ممکن ہے ۔کچھ منعقدکرنے والے ، کچھ شریک ہونے والے اور اور کچھ قلم بند کرنے والے !
صرف کراچی میں ہی روزانہ درجنوں سر گرمیاں مختلف شعبہ جات اور اضلاع کی ہوتی ہیں وہ آخر میگزین کا حصہ کیوں نہیں بنتیں ؟ یہ تشہیر اور ترغیب کا ایک بہترین ذریعہ ہے ..سوشل راونڈ اپ یا کسی اور عنوان سے ایک صفحہ مختص کیا جاسکتا ہے .. ہر سطح کے نظم/ شعبہ میں کچھ نہ کچھ تخلیقی صلاحیت کے افراد ضرور ہوتے ہیں اور اگر نہیں تو نئے افراد کو سکھایا بهی جاسکتا ہے .
 اس سلسلے میں ادبی تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ  وہ   سال میں ایک دو تقریبات یا مقابلے کروانے کے ساتھ ساتھ قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائ کا فریضہ انجام دیں !  تربیت کے ضمن میں سکھانے کا کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے ۔اس میں بہترین بات یہ ہے کہ مستند قلم کاروں کی تحریر قاری اور قلم کار دونوں کو پڑھوائی جائے ۔اور اس پر سوالا جوابا نشست ( کوئی بھی شکل ہو ) کے ذریعے محاسن تحریر کی طرف توجہ دلائی جائے ۔
قلم کار کے بعد کسی میگزین کی کامیابی کا سہرا اس کے ایڈیٹر کو جا تا ہے جس کا کردار کسی جہاز کے پائیلٹ کی طرح ہوتا ہے ۔وہ  اپنی توجہ اور دلچسپی سے اس کا معیار بلند کر سکتا ہے ۔   ضروری ہے کہ تنوع کا خیال رکھتے ہوئے کسی بھی کمی بیشی کو بحسن خوبی   پورا کر نے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ ہر تحریر کے ہر جملے  کی ساخت ، پیراگراف کی تقسیم ، اس پر لگنے والی تصاویر پر اس کی بھر پور اور تجزیاتی نظر ہو!  تمام تحاریر مربوط، منضبط اور تناسب میں ہوں ! قاری کے ذہن میں ابہام یا الجھن  کا باعث نہ بنیں ۔
میگزین کے حوالے سے دو نکات بہت اہم ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا  
                    معاشی استحکام                              اور نظر یا تی تشخص
ان دونوں مقاصد کے حصول کے لیے میرٹ پر عمل ضروری ہے ۔
تحریر علمی ہو تفریحی ہو یا ادبی ، تحقیق ہو یا ترجمہ  ، مقالہ ہو  یا افسانہ معیاری اور اوریجنل ہوں ۔
 مالیاتی مسائل  پر قابو پانے کے لیے  مناسب اشتہارات کی کوشش ، فنڈنگ کے علاوہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی  کی جائے۔اس کے علاوہ اخبارات کے صفحات کم کر کے معیاری مواد بڑ ھا یا جائے ۔  مسابقت  معیار کی بہتری کی ضمانت ہے ۔
 آخری بات:

پچھلے دنوں ایک تمثیلی کہانی پڑھنے کو ملی جس میں چند افراد محنت، توجہ ، وسائل سے میگزین چلارہے ہیں ۔ تشہیر کے لیے بھی اچھا خاصہ سرمایہ خرچ کرتے ہیں ۔کامیابی کے اس سفر میں انہیں  اس وقت دھچکہ لگتا ہے کہ جب میگزین کی فروخت میں اچانک کمی آتی ہے ۔ جب جائزہ لیا جا تا ہے  تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا میگزین مطلوبہ تعداد میں اسٹالز پرترسیل ہورہا ہے مگر فروخت کیوں نہیں ہوتا ؟ اور تحقیق پر انکشاف ہوتا ہے کہ کچھ عناصر اس میگزین کو  ہر اسٹال سے  اٹھوانے پر مامور کیے گئے ہیں ۔ ہر ادارے کی طرح منفی ہتھکنڈوں  اور عناصر کے خطرات سے بچاؤ بھی  کسی میگزین کا چیلنج ہو سکتا ہے !مثبت  اور تعمیری کوششوں کے ساتھ ساتھ تخریبی اور منفی عناصر پر نظر رکھنا  بھی مومنانہ شیوہ اور کامیابی کی ضمانت ہے !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فر حت طاہر
                       


اتوار, مارچ 18, 2018

وہ غم اور ہوتے ہیں !




   وہ غم اور ہوتے ہیں!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔         
  
........آج بھی جب اس نے میری بری طرح سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھا تو پھر وعظ و تلقین شروع کردی:
یہ بھلا تم روتی کس بات پر رہی ہو آخر؟ضرور اماں جان نے کچھ کہا ہوگا یا سعید بھائی نے کفایت شعاری پر لیکچر پلایا ہوگا....تو پھر کیاہوا؟ پگلی کیوں اپنی جان کی دشمن ہوئی ہے!  اے کاش کبھی میں تمہیں یہ سمجھا سکتی کہ ان باتوں کاغم کرنا نادانی ہے! وہ غم والی باتیں تو اور ہوتی ہیں...!“             
   آئیے آپ کو بتائیں کہ مکالمہ کن کے درمیان ہورہا ہے!
 یہ عنوان دراصل بنت الاسلام صاحبہ کی کہانیوں کے مجموعے کا نام ہے جس میں یہ کہانی موجود ہے  دو سہیلیوں کشور اور تزئین کے گرد گھومتی ہے جس میں کشور آپ بیتی کے انداز میں اپنی دوست تزئین کے ساتھ تعلق کی کہانی کچھ یوں بتا تی ہے:
بچپن سے ہم دونوں کے حالات حیرت انگیز طور پر ایک جیسے چلے آرہے تھے۔عمر، قد، رنگ، چہرے کے نقوش یہاں تک کہ اٹھنے بیٹھنے کا انداز بھی اس حد تک ایک دوسری سے مشابہہ تھا کہ اسکول  اور کالج کی ساری زندگی لوگ ہمں حقیقی بہنیں ہی تصور کرتے رہے۔حد یہ تھی کہ دونوں کے سروں کے بالوں کی لمبائی بھی ایک جیسی تھی۔ایک دن جب ہم نے اپنے اپنے بال  ناپے تو ٹھیک ایک فٹ تین انچ لمبی چوٹی میری تھی اور اتنی ہی تزئین کی! جن خاندانوں سے ہم تعلق رکھتے تھے،وہ بھی عام متوسط طبقے کے شریف گھرانے تھے اور ان کے رہنے سہنے کا انداز بھی ایک دوسرے سے مشابہہ تھا۔ایک ہی اسکول میں، ایک جیسے مضامین لے کر ہم نے میٹرک کیا اور جب کالج پہنچے تو پہلی دفعہ الگ کلاسوں میں بیٹھے کیونکہ میرا میلان ادب کی طرف تھا اور تزئین کی والدہ کا اصرار تھا کہ وہ سائنس کے مضامین لے۔تزئین نے ایک آدھ ہفتہ بڑی مشکل سے گزارا اور اسی دوران میں وہ پانچ مرتبہ کالج میں اور سات مرتبہ گھر اپنی ماں کے سامنے روئی کہ میں فزکس،کیمسٹری میں بالکل نہیں چل سکتی۔،یہاں تک کہ اس کی والدہ نے مجبور ہوکر اسے آرٹس کے مضامین لینے کی اجازت دے دی۔
  اس کے بعدچار سال اس طرح گزرے کہ کالج میں شاید ہی کسی نے کبھی ہمیں علیحدہ علیحدہ دیکھا ہو۔ایک جیسے مضامین اور فریق میں اکٹھے ہی رہے۔تعلیم کے بعد جب شادیوں کا مرحلہ آیا تو وہاں بھی  ہماری قسمتیں حیرت انگیز  طور پر یک دوسرے سے مشابہ رہیں۔ چھہ مہینے کے فرق سے ہماری شادیاں ہوئیں اور جن خاندانوں میں ہم گئے وہ ایک دوسرے سے بالکل اجنبی ہونے کے باوجود بالکل ایک دوسرے کے مانند تھے۔شوہران نامدار کی ماہورا آمدنیاں، اخلاق، طور طریقے بالکل ایک جیسے تھے۔دونوں اپنے گھروں میں سب سے بڑے تھے اور دونوں کے کاندھوں  پر بے پناہ ذمہ داریاں تھیں،جن کے باعث ان کی طبائع بالکل جائز طور پر کفایت شعاری کی طرف بہت مائل تھیں۔ دونوں گھروں  میں ایک خاص انداز کی مائیں تھیں۔جنہوں نے گھروں کی آمد و رفت اور بندوبست کے معاملے میں بہوؤں کو پورے پورے اختیارات دے رکھے تھے مگر ان کے افعال و اعمال اور گھر چلانے کے طریقوں پر کڑ ی نکتہ چینی کرتے رہنے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتی تھیں  اور دونوں کنبے اتنے زیادہ  ”لڑکا پسند“  واقع ہوئے تھے کہ ہر بچی کی آمد پر اندر باہر اداسی اور ویرانی چھا جاتی تھی۔جہاں تکآمدنیوں کا تعلق تھاہم دونوں اچھی خوشحال قسم کی زندگیاں گزار سکتے تھے مگر ذمہ داریوں کی زیادتی کے باعث دونوں ہی کو بہت کچھ سوچ سمجھ کر چلنا پڑتا تھا۔زندگی کے تقریباً ہر معاملے میں اتنی حیرت انگیز مشابہت کے باوجود میں از خود ”دکھی“ تھی اور وہ بے انتہا ”سکھی“ !
  ایسا کیوں تھا؟ محض اس لیے کہ ہمارا سوچنے کا انداز ایک دوسری سے بالکل مختلف تھا! وہی صورت حال جو میرے گھر پیش آتی تو میں ہفتوں روتی کڑھتی اور اپنی جان آدھی کر لیتی جب اس کے گھرمیں پیش آتی تو وہ اسے پرکاہ بھی وقعت نہ دیتی اور ہنس کر ٹال دیتی  اور یہ ہنسنا ہر گز مصنوعی نہ ہوتا..بزرگوں کے سامنے زبان چلانا نہ اس نے سیکھا تھا نہ میں نے! وہ بھی صبر کرتی تھی اور میں بھی۔مگر اس کا صبر ”صبر جمیل“ تھا جس میں شکایت کا نام زبان پر تو کیا دل میں بھی نہیں تھا اور میرا صبر شاید ”صبر قبیح“  تھا کہ دل کی جلن، کڑھن اور شکایات سے بھرا رہتا تھا۔.....“
  مصنفہ کی کردار نگاری اور منظر کشی قاری کو آج سے چار، پانچ  عشرے قبل کی معاشرتی جھلک دکھاتی ہے اور وہ یہ دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے کہ انسانی نفسیات و رویے، اس کے رشتوں سے تعلق کی نوعیت، حتی کہ معاشی اور معاشرتی دباؤ کی اشکال زمان ومکان کے فاصلے کے باوجود آج کے دور سے کس قدر ملتی ہیں!  ہر دو قسم کے کردا ر آج بھی سماج کا حصہ ہیں! 
 کہانی کا آغاز کشور کے گھر رمضان کی ایک رات سے ہوتا ہے جب سحری میں وہ بر وقت نہ اٹھ پائی۔حالانکہ سوائے اس کے سب  نے معمول کے مطابق سحری کھائی۔ اس کی ساس کے فدیہ کا کھانابھی حسب معمول مسجد پہنچا دیا گیا تھا مگر ان کا غیض وغضب کسی طرح کم نہیں ہو رہا تھا۔وہ کبھی بوڑھی خادمہ کو ” نکمی“ اور ”صرف روٹیاں توڑنے والی“  کا خطاب عطا کرتیں۔کبھی ملازم بچے کریم کو  ”کام چور“  اور ”بد نیت“ قرار دیتیں  اور گھر وا لی (بہو) کو تو خیر کبھی ڈھنگ سے گھر کا بندوبست کرنا آیا ہی نہ تھا۔جو عورت دو دو تین تین نوکروں کی موجودگی میں بھی گھر  والوں کو وقت پر سحری نہ کھلا سکے اس کے پھوہڑ ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا تھا؟ اور پھر ان کی توپوں کا رخ بہوکے لکھنے پڑھنے کے شوق کی طرف ہوگیا۔
بقول کشور.....”بڑا ہی ضبط کیا مگر آنسو تھے کہ امڈے چلے آرہے تھے.....“ 
ایسے میں اس کے شوہر نے اپنی ماں کو منانے کی کوشش کی تو وہ اور بھڑک اٹھیں۔اس ساری صورت حال میں چھوٹی بچی نے اپنا راگ الاپنا شروع کیا اور ماں کے آنسو دیکھ کر اور زیادہ زور شور سے رونے لگی اورخاصی دیر میں خاموش ہوئی۔سب تو چپ ہوگئے مگر کشور کی آنکھیں برستی رہیں۔بغیر سحری کا روزہ رکھنے پر طبیعت بہت نڈھال تھی۔ دونوں بڑی بچیاں اسکول روانہ ہوئیں تو وہ چھوٹی بچی کو گود میں لے کر تزئین سے ملنے چلی گئی۔ (یہاں یہ اندازہ ہورہا ہے کہ ان کے گھر بھی قریب قریب ہوں گے!)
 ”...جونہی میں تزئین کے گھر کے دروازے پر پہنچی۔ٹھٹھک کر کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جس گھر کو پیچھے چھوڑ کر غم غلط کرنے کے لیے آئی ہوں وہ مجھ سے پہلے یہاں پہنچ چکا ہے! اندر ایک واویلا مچا ہوا تھا اور ٹھیک وہی ڈرامہ ہورہا تھا جو رات کے پچھلے پہر ہمارے ہاں کھیلا جا چکا تھا۔ تزئین کی ساس غصے سے لال بھبھوکا ہو رہی تھیں اور مسلسل اور متواتر بولے جارہی تھیں اور گھر کے سب نوکر اور اہل خانہ جگہ جگہ سر جھکائے کھڑے تھے اور تزئین اپنی ساس سے دو گز کے فاصلے پر کھڑی بڑے ہی اطمینان سے بچوں کے کپڑے استری پھیر رہی تھی اور سر اوپر کو اٹھا ہوا تھا۔نہ تو اس کے چہرے پر کوئی غم فکر کے آثار تھے اور نہ آنکھوں میں کسی قسم کی گھبراہٹ بلکہ...کسی کسی وقت  اس کے ہونٹوں پر ایک دبی گھٹی مسکراہٹ بھی آجاتی تھی۔“
...ان حالات میں کشور کی سمجھ نہیں آیا کہ وہ آگے بڑھے یا واپس اپنے گھر چلی جائے! اتنے میں تزئین آگے بڑھی اور اس کاستقبال کیا۔ اپنی ساس کوسلام کروا کر اپنے کمرے میں لے گئی۔تزئین کو بے نیاز اور مطمئن دیکھ کر اسے یقین ہو گیا کہ بڑی بی کا قہر اس پر نہیں بلکہ کسی اور پر ٹوٹ رہا تھا مگر معلوم ہوا کہ اس تمام بوچھاڑ کا ہدف وہی تھی!اس کی ساس کے غصے کی وجہ بڑی حد تک کشور کی ساس سے ملتی جلتی تھی۔ہوا یہ کہ صبح صبح بڑی بی کے رشتے کے دو بھانجے اور ایک چچا زاد بھائی کم و بیش دو تین گھنٹے کے لیے وہاں رکے مگر کسی نے نہ ان کو چائے کو پو چھا نہ کھانے کا! تزئین کا عذر یہ تھا کہ رمضان کا مہینہ ہونے کی وجہ سے وہ سمجھی کہ روزہ ہوگا!جبکہ اس کی ساس مشہور فقہی مسئلے کی آڑ لے رہی تھیں کہ مسافر کے لیے روزہ رکھنا ضروری نہیں۔تزئین کی یہ لاعلمی کہ وہ کسی دوسرے شہر سے آئے ہیں اس کو ساس کی نظر میں حد درجہ لاپروا ہ قرار دے رہی تھی۔وہ بار باربآ واز بلند اس بات کا ماتم کر رہی تھیں کہ جب سے انہوں نے گھر کے کاموں میں عملی حصہ لینا چھوڑا ہے گھر کا گھروا ہوچکا ہے۔
 اگر چہ کشور کو تزئین کی پر سکون طبیعت کا اندازہ تھامگر اپنی آنکھوں کے سامنے یہ سب دیکھ کر وہ بہت تعجب میں تھی او ر اس کی حیرت کے جواب میں تزئین نے کچھ اس طرح اس کی ذہن سازی کی کشو ر یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ میری ساس بھی ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں!رات میں خواہ مخواہ بارہ ایک بجے تک بیٹھی اپنی اہل قلم سہیلیوں کی نگارشات کا مطالعہ کر رہی تھی اور سحری پر نہ اٹھ سکی.....
عزیز قارئین! ابتدا جس مکالمے سے ہوئی تھی یہ اسی ملاقات کا ذکر ہے جب تزئین کے سمجھا نے پر کشور بول پڑی:
     ”...تزئین! تمہیں خدا کی قسم اتنا بتادو کہ وہ کون سی شئے ہے جس نے تمہیں اتنا غم پروف بنا دیا ہے...“
 ”غم پروف؟ “ تزئین نے بڑی سادگی سے کہا  ”مجھے تو کچھ بڑے بڑے غموں نے غم پروف بنا دیا ہے۔“
”کون سے بڑے بڑے غم.؟.....“
تزئین نے افسردگی سے کہا.” وہ سب کچھ تمہارے سامنے ہی تو بیتا تھا جب دسویں کلاس میں میرے ابا جان کا انتقال ہوگیا تھا....ان کے بغیر ہماری زندگی بالکل بے معنی تھی....وقت بہت بڑا مرہم ہے.....زخم تو بھر گیا مگر ان کی جدائی میرے ذہن میں یہ بات نقش کر گئی کہ اس مادی دنیا میں سب سے بڑی قیمتی شئے انسانی جان ہے!..“
”تمہارا مطلب ہے غم صرف کسی کی موت کا ہی ہو۔اس کے علاوہ کسی مصیبت کاغم درست نہیں...!“ کشور نے قائل ہونے کے باوجود بحث کی۔
 ”نہیں اور غم بھی ہوتے ہیں“ تزئین نے کہا ”تمہیں یاد ہے کہ ۵۶ ء کی جنگ میں تین دن مجھ پر ایسی گزریں کہ میں پانچ منٹ کے لیے بھی آنکھیں بند نہ کرسکی تھی..اس خوف میں کہ کوئی لاہور کو مجھ سے چھینے لے جا رہا ہے..یہ غم ایسا جان گذار تھا کہ اس نے میرے دل سے ابا جان کا غم بھی بھلا دیا.....“
(یہاں سقوط ڈھاکہ کاذکر نہیں ہے۔یقینا یہ اس سے پہلے کی لکھی گئی کہانی ہے،بہر حال ۵۶ ء سے ۱۷ ء تک کے حالات کچھ کم افسوس ناک نہیں ہیں) یہاں کشور اپنا  ان دنوں کا تجزیہ کرتی ہے کہ جب زندگی میں اتنے بڑے بڑے دکھ بھی موجود ہوتے ہیں تو پھر ہم چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کو کیوں اتنا بڑا سمجھ لیتے ہیں؟ مگر اس کا تاثر یقیناً اتناگہرا نہیں تھا جتنا تزئین کا لہذا وقت گزرنے کے ساتھ معمولی الجھنوں نے پھر ذہن اور دل کو گرفت میں لینا شروع کردیا۔
اس ملاقات نے کشور کی سوچ کازاویہ بدلامگر اس کا اناڑی اور کچا پن اس بات کا متقاضی تھا کہ انہیں نیک صحبت کی رہنمائی مسلسل حاصل ہوتی رہے۔ چنانچہ سردیوں کی آمد اور مصروفیت کے باعث تزئین سے ملاقاتیں کم ہوگئیں جس کے اثرات نظر آنے لگے۔دل میں رچی بسی جلن، کڑھن پھر سر اٹھا نے لگی۔باوجود سخت کوشش کے وہ اس وقت ہمت ہار گئی جب چند ماہ بعد اللہ نے اس کو ایک اور بیٹی سے نوازا۔بیٹی کی پیدائش پر ساس اور شوہر کے رد عمل نے کشور کو اتنا مشتعل کیا کہ ضبط کے سارے بند ٹوٹ گئے اور سارا وقت رونے میں گزرنے لگااور یوں پانچ چھہ مہینے کی خود تربیتی کی محنت بہت حد تک ضائع ہوگئی۔
تزئین سے کشور کی مشابہت نے ایک اور رنگ دکھا یا جب دو ماہ بعد تزئین کو بھی اللہ نے چوتھی بیٹی عطاکر دی۔ساتھ ہی تزئین کی بیماری کی اطلاع بھی ملی۔اگرچہ اسے تزئین کی غم پروف طبیعت کا اندزاہ تھا  پھر بھی وہ اسے بچی کی پیدائش اور گھر والوں کا ناخوشگوار ردعمل سمجھی مگر جب وہ اس سے ملنے گئی تو اس کو بہت خوش وخرم، تندرست و توانا پایا۔ وہ فیروزی رنگ کا خوبصورت سوٹ پہنے پیازی رنگ کے فراک پر موتی ٹانک رہی تھی۔اور ویسا ہی فراک اس نے کشور کی بیٹی کو بھی تحفے میں دیا۔تز ئین کی ساس اور جٹھا نی نے اس کا مذاق اڑانے لگیں
”کوئی ان سے پوچھو! اتنا چاؤ کس بات کا ہے؟ چوتھی بیٹی کے ایسے چونچلے ہورہے ہیں گویا اللہ آمین کا بیٹا ملا ہو!“ ان جملے بازیوں پر کشور کا  دل جل کرراکھ ہو گیا مگر تزئین ایسی بے ساختہ ہو کر ہنسی کہ وہ دونوں جھینپ گئیں۔
یہاں پر کشور اپناجائزہ لیتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی زود رنجی کی وجہ سے اسے اپنے گھر والوں کے اعتراض زیادہ محسوس ہورہے تھے یا بیٹانہ ہو نے کا غم اس نے خود پر طاری کیا....اتنے میں ایک مہمان خاتون استفسار کرتی ہیں کہ دلہن نے چوتھی بیٹی کا غم تو نہیں کھا یا...!  اس کے جواب میں تزئین نے پھر وہ جملہ دہرایا:
”غم! کس بات کا غم؟“   اپنی بچی کا فراک درست کرتے ہوئے بولی
”یہ بھلا کوئی غم کی بات ہے خالہ جان! وہ غم کی باتیں تو اور ہوتی ہیں...!“


تقریباً سات ہزار الفاظ پر مشتمل یہ کہانی جہاں الفاظ و تراکیب کاخوبصورت امتزاج قاری کو محظوظ کرتی ہے اور وہ اسے اپنی ہی کہانی سمجھتا ہے وہیں بلاشبہ بہت سے بے جا غموں سے نجات حاصل کرنے کا سبق دیتی ہے۔ ذاتی اور مادی غموں کے گرداب میں پھنسے معاشرے کو حقیقی غموں اور دکھوں سے متعارف ہونا ضروری ہے! اس وقت امت کا غم تمام غموں پر بھاری ہے جو ہمیں ذاتی  آرام اور سکون میں بھی بے چین رکھتا ہے  ۔بلا وجہ رونے کو کوئی اپنے آنسو پیاز کا شاخسانہ کہتا ہے اور کوئی شمپو آنکھ میں جانے کا عذر تراشتا ہے لیکن دراصل یہ وہی غم ہے جس کاہم ادراک ہی نہیں کر تے!
……………………………………….---------------------------------------------------------

فر حت طاہر


ہفتہ, مارچ 17, 2018

آ تش زدگی


٭                   آتش زدگی               ٭
پچھلے سال 26 فروری 2017 ء  کا واقعہ ہے !ویک اینڈ کی دوپہر! گهر اور محلے والے اپنے اپنے شیڈول کے کاموں میں
 منہمک تهے. کچھ کهانے کے بعد قیلولے میں مصروف تو کچھ نماز کی ادائیگی میں! کچھ باہر نکلے تهے تو کچھ آؤٹنگ کی تیاری کر رہے تهے. اتنے میں ایک ہاہاکار مچ اٹهی .خالی پلاٹ پر بنی جهگیوں میں آگ کے شعلے بلند ہورہے تهے
ان جهگیوں میں چار /چھہ گهرانے آباد ہیں ۔اس کا محل وقوع کچھ اس طرح ہےکہ تین طرف سے سڑک ہے جبکہ زمین ناہموار ہے یعنی ابهری ہوئی سطح ہے.۔
دیکهتے ہی دیکهتے سب اپنے اپنے گهروں سے نکل آئے .اور جلدی جلدی پائپ لگا کر بجهانے کی کوشش کرنے لگے .خواتین ہراساں تهیں کہ اندر کوئی بچہ تو نہیں ہے!دیکهتے دیکهتے شعلے برابر والے گهر کی تیسری منزل سے آگے بڑهنے لگے. سب کے ہاتهوں میں موبائل تهے مگر سیلفی کا ہوش کسی کو نہ تهابلکہ سب فائر بریگیڈ کوکال کررہے تهے ، کسی نےچهیپا کو تو کسی نے 15 ہی ملا لیاتها! کے الیکٹرک کو بهی بلوالیا گیا کہ بجلی کے تاروں کی وجہ سے کرنٹ دوڑ رہا تهااس وقت سب اپنی تمام ضروریات بهول چکے تهے . ان میں پنجابی بهی تهے مہاجر بهی! سرائیکی بهی اور بنگالی بهی ! سنی اور شیعہ !                                             مالک اور خادم سب ایک ہی جدوجہد میں مصروف تهے. بهڑکتی ہوئی آگ کو بجهانے کی کوششتهوڑی ہی دیر میں دو فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آپہنچیں . ایمبولنس بهی آگئی تهی . حتی کہ پولیس اور رینجرز بهی مستعد تهی. بجلی کی گاڑی بهی جلد ہی پہنچ گئی. میڈیا ٹیم بهی آ موجود ہوئی۔                                                          ایک ڈیڑه گهنٹے کے بعد آگ بجھی تو سب شکر ادا کر رہے تهے کہ کوئ جانی نقصان نہ ہوا. ملحقہ گهر کےکئی حصے، سامان اور لائینیں خاصی متاءثر ہوئیں جبکہ جهونپڑیوں کی توساری متاع خاکستر یوچکی تهی.آگ لگنے کی وجوہات شارٹ سرکٹ تها یا کوئی اور ... لیکن اچهی بات یہ تهی کہ نہ تو مالک مکان جهونپڑی والوں کو ملامت کر رہے تهے اور نہ ہی وہ لوگ زیادہ آہ وبکا کر رہے تهے.۔اداروں کا بروقت امدادی کاروائ کے لیے پہنچنا بهی بڑا حوصلہ افزا محسوس ہوا!دلچسپ بات یہ تهی چینل والے آگ پر بات کرنے کے بجائے بچوں اور لڑکوں سے آج کے میچ کی پسندیدہ ٹیم کے بارے میں پوچھ رہے تهے...... گویا آگ لگی ہو اور نیرو بانسری بجا رہاہو !اس واقعے  سےکچھ نکات اخذ کیے :* یوں تو ہم دنیا جہاں کا ڈیٹا اپنے پاس محفوظ رکهتے ہیں مگرہنگامی نوعیت کے روابط کونہیں شامل کرتے * جس طرح ہم ساری تیاریوں میں موت کومد نظر نہیں رکهتے اسی طرح ناگہانی کے بارے میں بهی کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ * سیفٹی کلچر کا فقدان .ہماری لڑائیاں گاڑیوں کی پارکنگ پر تو ہوتی ہیں مگر لٹکے ہوئے تاروں کے خطرات سے بے خبر رہتے ہیں *****

اس واقعہ کو ایک سال گزر گیا ہے ۔  اس  پلاٹ  پر بسنے والے تمام خاندان نئے ٹھکانوں پر بس چکے ہیں اور یہ ہنوز خالی ہے !حالانکہ کچرا اٹھا نے پر مامور افراد روز یہاں آتے ہیں مگر نہ   جانے کون سی  ان دیکھی مخلوق یہاں روز کچرا ڈال جاتی ہے ۔  برسوں سے یہاں  رہنے والےمکین صفائی ستھرائی اور نظم و ضبط کا خیا ل رکھتے تھے ۔ایک  پر فضا اور مثالی پلاٹ اپنی ویرانی پر افسردہ ہے۔  پھول دار کیا ریاں جل چکی ہیں ۔حفاظتی باڑ کچرے سے اٹی رہتی ہے کہ کوئی والی وارث نہیں ! بچوں کی چہکار ایک خاموشی میں ڈھل چکی ہے ۔دن میں جتنی بار اس پلاٹ پر نظر پڑتی ہے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے اور اجڑے دیس  بلاد شام کی تصویر آنکھوں میں گھوم جاتی ہے  جو سات سال سے مقتل بنا ہوا ہے !


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فر حت طاہر 







٭                   آتش زدگی               ٭
پچھلے سال 26 فروری 2017 ء  کا واقعہ ہے !
ویک اینڈ کی دوپہر! گهر اور محلے والے اپنے اپنے شیڈول کے کاموں میں منہمک تهے. کچھ کهانے کے بعد قیلولے میں مصروف تو کچھ نماز کی ادائیگی میں! کچھ باہر نکلے تهے تو کچھ آؤٹنگ کی تیاری کر رہے تهے. اتنے میں ایک ہاہاکار مچ اٹهی .خالی پلاٹ پر بنی جهگیوں میں آگ کے شعلے بلند ہورہے تهے
ان جهگیوں میں چار /چھہ گهرانے آباد ہیں ۔اس کا محل وقوع کچھ اس طرح ہےکہ تین طرف سے سڑک ہے جبکہ زمین ناہموار ہے یعنی ابهری ہوئی سطح ہے.۔
دیکهتے ہی دیکهتے سب اپنے اپنے گهروں سے نکل آئے .اور جلدی جلدی پائپ لگا کر بجهانے کی کوشش کرنے لگے .خواتین ہراساں تهیں کہ اندر کوئی بچہ تو نہیں ہے!دیکهتے دیکهتے شعلے برابر والے گهر کی تیسری منزل سے آگے بڑهنے لگے. سب کے ہاتهوں میں موبائل تهے مگر سیلفی کا ہوش کسی کو نہ تهابلکہ سب فائر بریگیڈ کوکال کررہے تهے ، کسی نےچهیپا کو تو کسی نے 15 ہی ملا لیاتها! کے الیکٹرک کو بهی بلوالیا گیا کہ بجلی کے تاروں کی وجہ سے کرنٹ دوڑ رہا تها
اس وقت سب اپنی تمام ضروریات بهول چکے تهے . ان میں پنجابی بهی تهے مہاجر بهی! سرائیکی بهی اور بنگالی بهی ! سنی اور شیعہ !                                             مالک اور خادم سب ایک ہی جدوجہد میں مصروف تهے. بهڑکتی ہوئی آگ کو بجهانے کی کوشش
تهوڑی ہی دیر میں دو فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آپہنچیں . ایمبولنس بهی آگئی تهی . حتی کہ پولیس اور رینجرز بهی مستعد تهی. بجلی کی گاڑی بهی جلد ہی پہنچ گئی. میڈیا ٹیم بهی آ موجود ہوئی۔
                                                          ایک ڈیڑه گهنٹے کے بعد آگ بجھی تو سب شکر ادا کر رہے تهے کہ کوئ جانی نقصان نہ ہوا. ملحقہ گهر کےکئی حصے، سامان اور لائینیں خاصی متاءثر ہوئیں جبکہ جهونپڑیوں کی توساری متاع خاکستر یوچکی تهی.آگ لگنے کی وجوہات شارٹ سرکٹ تها یا کوئی اور ... لیکن اچهی بات یہ تهی کہ نہ تو مالک مکان جهونپڑی والوں کو ملامت کر رہے تهے اور نہ ہی وہ لوگ زیادہ آہ وبکا کر رہے تهے.۔اداروں کا بروقت امدادی کاروائ کے لیے پہنچنا بهی بڑا حوصلہ افزا محسوس ہوا!
دلچسپ بات یہ تهی چینل والے آگ پر بات کرنے کے بجائے بچوں اور لڑکوں سے آج کے میچ کی پسندیدہ ٹیم کے بارے میں پوچھ رہے تهے...... گویا آگ لگی ہو اور نیرو بانسری بجا رہاہو !
اس واقعے  سےکچھ نکات اخذ کیے :
*
یوں تو ہم دنیا جہاں کا ڈیٹا اپنے پاس محفوظ رکهتے ہیں مگرہنگامی نوعیت کے روابط کونہیں شامل کرتے 
*
جس طرح ہم ساری تیاریوں میں موت کومد نظر نہیں رکهتے اسی طرح ناگہانی کے بارے میں بهی کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ 
*
سیفٹی کلچر کا فقدان .ہماری لڑائیاں گاڑیوں کی پارکنگ پر تو ہوتی ہیں مگر لٹکے ہوئے تاروں کے خطرات سے بے خبر رہتے ہیں 
*****
اس واقعہ کو ایک سال گزر گیا ہے ۔  اس  پلاٹ  پر بسنے والے تمام خاندان نئے ٹھکانوں پر بس چکے ہیں اور یہ ہنوز خالی ہے !حالانکہ کچرا اٹھا نے پر مامور افراد روز یہاں آتے ہیں مگر نہ   جانے کون سی  ان دیکھی مخلوق یہاں روز کچرا ڈال جاتی ہے ۔  برسوں سے یہاں  رہنے والےمکین صفائی ستھرائی اور نظم و ضبط کا خیا ل رکھتے تھے ۔ایک  پر فضا اور مثالی پلاٹ اپنی ویرانی پر افسردہ ہے۔  پھول دار کیا ریاں جل چکی ہیں ۔حفاظتی باڑ کچرے سے اٹی رہتی ہے کہ کوئی والی وارث نہیں ! بچوں کی چہکار ایک خاموشی میں ڈھل چکی ہے ۔دن میں جتنی بار اس پلاٹ پر نظر پڑتی ہے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے اور اجڑے دیس  بلاد شام کی تصویر آنکھوں میں گھوم جاتی ہے  جو سات سال سے مقتل بنا ہوا ہے !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فر حت طاہر 

میڈیا اور پرو پیگنڈا


                         

                                                                                                                                                                         


" امجد صاحب کو کیا ہو گیا ہے ؟ "
"امجد صاحب کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے کیا؟"
" امجد صاحب کیوں ایسے ہیں ؟" وغیرہ وغیرہ
یہ اس صحافی امجد کا ذکر نہیں جو برسوں پہلے ڈرامہ سیریل میں مستنصر حسین تارڑ کردار کیا کرتے تھے بلکہ یہ اس بریفنگ کا ایک حصہ ہے جو پروفیسر سلیم مغل صاحب جسارت بلاگرز ورکشاپ کے شرکا کو دے رہے تھے. .
                                  موضوع تھا میڈیا اور پروپیگنڈا
دلچسپ بات
 جو اس ابتدائی گفتگو سے  معلوم ہوئی یہ  تھی کہ پروپیگنڈا پہلے مثبت معنوں میں استعمال ہوتا تھا ..                   (اس کی مثال ایک لفظ    " لفاظی" ہے جو دراصل ایک مثبت صفت ہے مگر اس کے منفی استعمال نے اسکے معنی بدل کر رکھ دیے ہیں ). اسی طرح یہ لفظ پروپیگنڈا حمایت ، تشہیر اورپھیلاؤ  کے وسیع پس منظر کے بجائے محض دشمن کو نقصان پہنچانے کے مفہوم  تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ... اس کے باوجود بہر حال اس لفظ میں تشہیر ذاتی ہو یا تجارتی ، معاشرتی ہو یا سیاسی خود بخود موجود ہے ..
انہوں  نےپروپیگنڈا کی تاریخ، طریقے اور اقسام پر بات کی..ان کا انداز دلچسپ تھا اور مواد معلوماتی ..آخری جملے تک شرکا کی توجہ برقرار تھی .برسوں پہلے ہم نے سوشل سائنسز کی کچھ درسی کتب پڑهی تھیں جن کے مطابق 3 طرح کےپروپیگنڈے ہیں  ..سفید، سیاہ اور گرے! نام سے ہی ان کی کیفیات ظاہر ہیں ..مثبت، منفی اور ملا جلا! ہمیں یہ سب کچھ یاد آرہا تھا...
سلیم  مغل صاحب کے مطابق  پروپیگنڈا نہایت مربوط ، منظم ، مسلسل اور بر وقت ہوتا ہے ۔  یہ  بالکل ہتھوڑے کی ضربات کی طرح ہوتا ہے چنانچہ اس کے لیے hammering  کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔ انہوں نے  ذاتی مثال دے کر بات سمجھائی کہ انہوں نے اپنی کلاس کو ایک خبر کی لیڈ بنانے کو کہا ۔  خبر یہ تھی کہ حبیب بنک کی بلڈنگ پر حملہ ! دلچسپ بات یہ ہوئی کہ کلاس میں موجود بیس ،پچیس طلبہ وطالبات میں سے ہر ایک نے ایک مختلف جملے بنائے  جبکہ اس کے مقابلے میں امریکہ میں ٹوئن ٹاور پر حملے کے چند منٹ کے اندر یہ خبر تمام نشریاتی اداروں CNN, BBC, Germany   میں یکساں الفاظ میں چل رہی تھی
“America under Attack’’                                                  
کتنی عجیب بات ہے کہ ایک کلاس   کے شرکاء تک ایک جملہ یکساں الفاظ میں نہیں ادا کرپاتے جبکہ مختلف نشریاتی ادارے ایک ہی لہجے اور الفاظ میں ہتھوڑے کی طرح برسنے والی خبر  سنا اور دکھا رہے تھے جس نے پوری دنیا کے جذبات کوایک مخصوص طرف موڑ کر رکھ دیا ۔ اور پھر حملے کے چند منٹوں کے اندر  عرب ، مسلمان ، لادن کی تکرار شروع ہوگئی ۔کئی ملکوں کا جغرافیہ  اور تاریخ بدل کر رکھنے والی اس تاریخی واقعے کی وضاحت کر نے کے لیے سلیم مغل صاحب نے وہ جملے ادا کیے جو اس بلاگ کے آغاز میں تحریر کیے گئے ہیں ۔
ورکشاپ سے واپسی پر  ذہن اس پر سوچنے پر لگا ہوا تھا کہ میڈیا کے اس جن سے کیسے نبرد آزما ہوجائے ؟  بائیکاٹ ؟؟ کتنا اور کیسا ؟ یہ محض اتفاق ہے کہ اگلے چند دن میڈیا سے ہمارا ٹاکرہ نہ ہوسکا  مگر کچھ دن فاقے کے بعد جیسے ہی رابطہ ہوا ایک پیاری سی بچی کی تصویر کے ساتھ #Justice4Zainab  کی پکار ہر طرف سنائی دی ۔ بچی کے رنگ روپ اور لباس سے قومیت  اور وطن کا ندازہ نہیں ہورہا تھا مگر نام سے مسلمان ظاہر ہورہی تھی ۔ تجسس میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کہ ہر طرف یہ ہی پکار تھی ۔اس سلسلے میں پہلی پوسٹ کینیڈا ، بر طانیہ اور ہالینڈ وغیرہ سے پڑھنے کو ملی جس کے مطابق یہ واقعہ پاکستانی شہر قصور میں پیش آیا  اور ان سب کازور اس بات پر تھا کہ والدین ایک نفلی عبادت کے لیے اپنی بچی کو بھیڑیوں کے چنگل میں چھوڑ گئے ۔
باوجود اس کے واقعہ بہت زیادہ افسوس ناک تھا،اپنے ملک کا وقار خاک میں ملنے والی خبر پر لوگوں کا اس قدر جوش میں آنا  حیرت زدہ کر رہا تھا ۔ اس شور و غل میں تدفین اور احتجاجی ہڑتال پر فائرنگ کے نتیجے میں دو قتل ہونے کے بعد پورا ملک ہم آواز ہوکر ایک ہی بات کہہ رہا تھا۔ لادین عناصر ہوں ہوں یا دین بیزار طبقے ، اسلام پسند ہوں محب وطن اپنی اپنی ڈفلی بجا رہے تھے ۔ملالہ پر حملے کے بعد کچھ ایسی ہی صورت  حال نظر آئی تھی  !اس موضوع پر کوئی خاموش نہ تھا ہمارے دماغ میں ایک یلغار تھی جو شور مچا رہی تھی ۔الھم ارنا الحق ۔۔۔۔کی دعازبان پرآرہی تھی ۔اور ذہن میں جو کچھ تھا اسے شئیر کرنے کی ہمت نہ تھی ۔ وسوسے ، خدشات  ابہام کے لفافے سے باہر آرہے تھے ۔ اور پھر چند دنوں بعد بلی تھیلے سے باہر آہی گئی ۔
                                  بچوں کو جنسی تعلیم دی جائے !
یہ تھا اعلامیہ جو ہتھوڑے کی طرح چیخنے لگا ۔خوف زدہ بچوں ، پریشان والدین کے لیے ایک ہی حل سامنے لایا گیا ۔ اسلام پسند لوگ جو پہلے دبے دبے لہجے میں اپنے معاشرتی نظام کے بارے میں تحفظات کا اظہار کر رہے تھے کھل کر اسلامی نظام گھروں اور حجروں کی سطح پر نافذ کرنے کا مطالبہ لے کر سامنے آگئے ۔ مزید یہ کہ لوگ متوجہ اور چوکنا ہوئے  شاید یہ اس واقعے کا سب سے روشن پہلو ہے جبکہ دیگر پہلو  خاصے چیلنج سے بھر پور ہیں ۔ دشمن کاسب سے بڑی ہدف  ہمیں خوف زدہ کرنا اور رکھنا کامیابی سے ہمکنار ہوا ۔اس کے بعدمحرم رشتوں پر بد اعتمادی کا رحجان  پیدا ہوا پھر ٹیوٹر ، قاری صاحبان , ڈرائیور سے لے کر معاشرے کے ہر کردار پرعدم اعتماد! ہمارے خاندانی اور معاشرتی نظام کو تہہ و بالا کر کے ہمیں تنہا اور اکیلا کرنا دشمن کا خاص ایجنڈا ہے کہ ایسا فرد آسان ہدف ہوتا ہے ۔
بات پرو پیگنڈے سے شروع ہوئی تھی ، اس کے ضمن میں کئی واقعات ہم بچپن سے بھی سنتے آئے ہیں جوکچھ یوں ہے کہ ایک آدمی نے کہا کہ آج اس گھر میں چوری ہوگی اور پھر ایسا ہی ہوا ۔ایک لڑکی نے کہا کہ آج یہاں سے ایک فرد کم ہوجائے گا اور پھر یوں ہوا کہ کہنے والی لڑکی گھر سے بھاگ گئی ۔ اور ظاہر ہے چوری کرنے والا بھی وہی شخص تھا جس نے پیشن گوئی کے پردے میں پروپیگنڈے کا ہتھیار  اٹھا یا ۔گویا مجرم ذاتی ہو یا سیاسی پروپیگنڈے کا حربہ ضرور بالضرور استعمال کرتا ہے ۔ زینب کے واقعے میں بھی یہ ہی عنصر عین ممکن ہے ! جو دشمن ہمارے اسکولوں میں گھس کر حملے کر سکتا ہے اس کے لیے یہ سب منصوبہ تیار کر نا کون سی بڑی بات ہے  جبکہ کچھ عر صے سے سو شل میڈیا میں یہ بحث اٹھائی جا رہی تھی کہ محرم رشتہ داروں سے بچے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں ؟ گو یا hammering  واقعے سے پہلے شروع ہوجاتی ہے اور پھر اس کی شدت بڑھا کر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاتے ہیں ۔ ہمارا خاندانی نظام عرصے سے دشمن کی آنکھ میں کھٹک رہا ہے اس کو تہہ وبالا کر نے کے لیے بڑی مناسب اور بر وقت کاروائی کا انتطام کیا گیا ۔ اس سارے عمل میں ٹائمنگ کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔ کچھ ہی عرصے قبل شاہ زیب قتل کیس کے عجیب و غریب فیصلے نے عوام کو خاصہ ہیجان میں مبتلا کیا ہوا تھا ۔زینب کو قتل کر کے ہمارے دشمن نے بہت دور تک سوچا اور کاروائی کی ۔
یہ اور بات ہے کہ اللہ کی چال غضب کی ہے کہ وہ شر سے بھی خیر بر آمد کر دیتا ہے ۔!تہہ میں جو نفاق یا گند ہوتا ہے اس قسم کے طو فان میں سطح پر ابھر کر توجہ حاصل کر کے اصلاح کی طرف گامزن ہو سکتا ہے ۔ویسے ایک بات بلاشبہ کہی جا سکتی ہے  سوشل میڈیا کے ذریعے کسی مسئلے کو اجا گر تو کیا جا سکتا ہے مگر حل اور وہ بھی پائیدار عملی اقدامات کے بغیر ممکن نہیں !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فر حت طاہر